تازہ ترین

انسان اپنے رب سے رجوع کرے

اِس در کے سو ا کوئی اور چوکھٹ ہی نہیں

28 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

منتظر مومن وانی
 کرونا وایرس کی ناگہانی بیماری نے اب ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور ہر سُو خوف و دہشت چھایا ہوا ہے۔ ہر چہرے پر سوالیہ نشان اس بات کی وضاحت ہے کہ انسان کتنا بے بس اور لاچار ہے۔آسمانی فیصلوں کے سامنے آج سا?ینس و ٹیکنالوجی کا غرور حرفِ افسوس کی تسبیح میں محو عمل ہیں۔دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کی بے بسی اور کمزوری کی حقیقت سر عام ظاہر ہورہی ہے۔ ڈر اورخوف کا ماحول ابن آدم پراس قدر طاری ہے کہ وہ اپنی پرچھا?یوں سے بھی ڈرنے لگا ہے۔ جس ملک اور جس شہر کو دیکھو، لاچاری کی درد بھری آہوں سے پکار رہاہے کہ فضا میں یہ کیسا جنون ہے۔ وہ لوگ جو ہر بات کو سائنس کے ترازو میں تولتے تھے یا وہ لوگ جو ہر طوفان کو مٹھی میں قید کرنا جانتے تھے، آج ان کے ہونٹ مقفل اور چہروں پر لاچاری کی داستان عیاں ہے۔یہ ہمارے ان خطا?ؤں کا پھل ہے جو اس دن ہم نے کتاب زندگی میں رقمطراز کردئے تھے جب ہم نے اپنے سے کم طاقت والوں کو زندگی کے سفر میں لاچار و مجبور بنا کر ان کے امیدوں کو زیر زمین کیا تھا۔یہ پھل شاید اس وجہ سے بھی ہمارے دامن میں آگرا، کیونکہ ہم نے انسانیت کے ہر اصول کو پیروں تلے کچل ڈالا۔ خیر تاریخ گواہ ہے جب بھی کوئی قوم انسانیت کے اصولوں سے سرکش ہوتی ہے تو آسمان سے ضرور کوئی نہ کوئی خطرناک آفت آتی ہے۔ بہرحال کن خطاوؤ?ں کے سبب ہم پر یہ مصیبت ٹوٹ پڑی ہے اور اب کس احساس کے ہم شکار ہیں، اس سے ہر فہیم انسان مکمل طور پر آشنا ہے۔ اگرچہ ہم سب گناہوں کے سمندر میں ڈوب چکے ہیں لیکن قران کریم نے ہمیں یہ بھروسہ بھی دیا ہے کہ امید رکھنے والوں اور معافی مانگنے والوں کو اللہ کبھی ضا?ئع نہیں کرے گا۔ ایک انسان جب بھی ندامت کے چند قطرے آنکھوں سے گرا کر سر بہ سجود ہوتا ہے تو چند لمحوں میں آسمان سے اس کیلئے خوشی کا پیغام آتا ہے۔ اس مصیبت کی گھڑی میں ہمیں اللہ سے معافی مانگ کر قوم کے تئیں ذمہ دارانہ کردار پیش کرنا ہے۔ جہاں پر ان آفتوں میں اسلام نے ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے وہیں احتیاط سے کام لینے کے لیے بھی پیغام سنایا ہے۔ ان حالات میں ہر فرد کو ذمہ دارانہ سوچ کا مظاہرہ کرکے احتیاط سے کام لینااز حدضروری ہے اور گلی گلی نگر نگر میں ان ہدایات پر عمل پیرا ہونالازمی ہے جو موجودہ انتظامیہ کی طرف سے جاری ہو?ئےہیں۔ اللہ اس مصیبت سے ہمیں ضرور آزاد کرے گا لیکن ہمیں ایک ذمہ دار قوم بن کر اللہ سے خیر کی امید رکھنی ہے کیونکہ حضرت جابر?ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول عربی?ؐکو آپ کی وفات سے پہلے یہ فرماتے ہو?ئےسنا۔  لا یموتن احدکم الا وھو یحسن باللہ الظن(مسلم)
’’تم میں سے ہر شخص کو اسی حالت میں موت آ?ئےکہ وہ اللہ سے حسن ظن رکھتا ہو۔
     ان پریشانیوں میں ہمت نہ ہارنا ہی ہماری مضبوطی اور دلیری کی اصل دلیل ہے۔ ہمارا رب کریم ہم سے اگرچہ امتحان لیتا ہے لیکن وہ ستر ما?وؤںکی شفقت رکھنے والا اللہ ہمیں کبھی نا امید نہیں کرے گا اور اس کی رحمت سے ہم کبھی ناامید ہونگے بھی نہیں کیونکہ قران کریم نے ہمیں سورہ الحجر میں یہ وعدہ دیا ہے کہ۔’’اپنے رب کی رحمت سے ناامید تو صرف گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں‘‘
جب بھی کوئی آفت بستی کو گیر لیتی ہے اس وقت ہر انسان کی یہ ذمہ داری بن جاتی ہیں کہ اس سے جہاں تک ہوسکے قوم کی بھلائی کے لیے اپنے آپ کو پیش پیش رکھے۔ کرونا وایرس کے اس خوف کا شکار اگر چہ ہر فرد ہے لیکن اللہ ہم پر نگاہ کرم ضرور کرے گا کیونکہ رب کائنات کا وعدہ ہمارے ساتھ ہے کہ۔ ومن ?توکل علی اللہ فھو حسب?۔(سورہ الطلاق)  ’’جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا‘‘
      رب کعبہ پوری انسانیت کو اس پریشانی سے راحت عطا کرے۔اس مصیبت کی گھڑی میں ان لوگوں کاخیال رکھنا ہم سب کا فرض ہے، جن کے چولہے حالات حاضرہ کی وجہ سے مقفل ہو?ں۔ اپنے ہمسایگی میں ان اشخاص کی معاونت ہم سب پر لازم ہے جو ہماری نظروں میں مجبوری کی حالت میں آسمان تلے زندگی گزار رہے ہوں۔ آج جب کہ ہر انسان اس احساس سے گزر رہا ہے کہ وہ رب کی عنایت سے ہی زندگی کے سانس لے رہا ہے تو ہم پر لازم ہےکہ پوری انسانیت کی بقاو بہتری کے لیے اللہ سے دعا مانگتے رہے۔ میں ملک ِکویت میں آجکل دہشت زدہ فضا?ں میں زندگی گزار رہا ہوں، یہاں کی سر زمین پر نا چیز نے وہ افراد بھی دیکھے جن کے کردار سے لگتاہے کہ انسانیت زندہ ہے جس کےباعث اللہ ضرور مہربان ہوگا۔ کچھ دنوں سے اِدھر بہت سارے مکانوں کے دروازوں پر کسی مومن صفت انسان صبح سویرے اشیا?ئےخوردنی رکھا ہوتا ہے اور اکثر افراد نے اجنبیوں کے ڈھیرے کا کرایہ معاف کیا اور کھانے پینے اور باقی معاملات میں حکومت سے لیکر عام انسان اپنا مددو معاونت پیش پیش رکھا ہواہے۔ ہم سب پر بھی یہ فرض عائد ہوتاہے کہ اس وبائی مصیبت سے لڑنے اور اس سے نجات پانےکے لئے ہمیں انسانیت کے ہر قاعدے کو برو?ئےکار لانا ہے۔ رب کعبہ پوری انسانیت کو اس مصیبت سے نجات عطا کرے اور اپنا رحم وکرم ہم لوگوں پر شامل حال رکھے۔آمین
بہرام پورہ کنزر، ٹنمگرگ۔رابط؛8082706173
 

تازہ ترین