تازہ ترین

’بغیر ہاتھ دھوئے گائوں میں داخلہ ممنوع‘

کرگل کے لاتو گائوں کے نوجوانوں کا بے مثال اقدام

تاریخ    26 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   


یو این آئی
سری نگر// لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع کرگل میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نزدیک واقع لاتو نامی گائوں کے نوجوانوں نے کورونا وائرس نامی وبا کو اپنے گائوں سے دور رکھنے کے لئے ایک انوکھا اقدام اٹھایا ہے۔ گائوں کے نوجوانوں نے اپنے گائوں کے داخلی پوائنٹ پر پانی کی ایک ٹینکی، صابن اور سینی ٹائزر جیسی حفظان صحت سے متعلق چیزیں دستیاب رکھی ہیں اور داخلی پوائنٹ پر متعدد جگہ پر جلی حروف میں لکھا ہے کہ 'بغیر ہاتھ دھوئے گائوں میں داخل ہونا منع ہے'۔ واضح رہے کہ خطہ لداخ جو گذشتہ برس 31 اکتوبر کو جموں وکشمیر سے الگ ہوکر ایک یونین ٹریٹری بن گئی، میں اب تک کورونا وائرس کے 13 مثبت کیسز سامنے آئے ہیں۔ تاہم مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں میں سے کچھ مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں۔ لاتو نامی گائوں جو قصبہ کرگل سے قریب 22 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے، کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گائوں کے نوجوانوں نے داخلی پوائنٹ پر پانی کی ٹینکی، صابن اور سینی ٹائزر رکھنے سے یہ پیغام عام کرنا چاہا ہے کہ ہمیں کورونا وائرس سے بچنے کے لئے صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ لاتو کے رہائشی جاوید نے کہا،’’'ہمارے نوجوانوں نے مل کر یہ قدم اٹھایا ہے۔ ہم نے نہ صرف گائوں کے داخلی پوائنٹ پر ہاتھ صاف کرنے کے انتظامات نہیں کئے ہیں بلکہ گائوں کے اندر بھی لوگوں کے لئے یہ سہولیات دستیاب رکھی گئی ہیں‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا،’’'ہمارے نوجوان اصل میں یہ پیغام عام کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے اسی سے ہم اس وبائی بیماری سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں نے گائوں میں یہ مہم اس لئے شروع کی ہے کیونکہ گائوں میں بزرگوں اور دوسرے لوگوں کو کورونا وائرس کے پھیلنے کے خطرات کا اندازہ نہیں ہے۔ ایسے اقدامات سے وہ لوگ جو پڑھے لکھے نہیں ہیں، بھی صفائی کا خاص خیال رکھنا شروع کریں گے‘‘۔ ظہیر نامی ایک استاد نے بتایا،’’میں لاتو کا رہائشی نہیں ہوں لیکن میں وہاں بحیثیت استاد ایک اسکول میں تعینات ہوں۔ یہ جو تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں یہ مقامی نوجوانوں نے لی ہیں۔ وہ ایک سرحدی علاقہ ہے اور وہاں فوٹو جرنلسٹس کا پہنچنا مشکل ہے۔ مقامی نوجوان چاہتے ہیں کہ دوسرے گائوں یا علاقوں میں بھی لوگ ایسے اقدامات اٹھائیں تاکہ ہر ایک صفائی کی ضرورت کو سمجھے‘‘۔