تازہ ترین

وادی کی تجارتی انجمنوں کا مطالبہ | بینک قرضوں کی اقساط اداکرنے کے وقت میں اضافہ کیا جائے

تاریخ    26 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر // کرونا وائرس کی عالمی وباء کے پیش نظر مرکزی سرکار نے اگرچہ جی ایس ٹی اور انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کی تایخ میں جون تک تین ماہ کی توسیع کر دی ہے تاہم بنک قرضوں کی قسطوں کو جون تک مستثنیٰ رکھنے کا کوئی بھی فیصلہ سامنے نہیں آیا جس کی وجہ سے 7ماہ سے لاک ڈائون کی مار جھیل رہے کشمیری تاجروں، ٹرانسپوٹروں اورعام شہریوں کی پریشانی میںمزید اضافہ ہوگیاہے اور بھاری قرض میں ڈوبے ان کارباریاریوں ، ٹرانسپوٹروں ،کسانوں وفروٹ گروورس سمیت عام شہریوں نے مرکزی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر کی معیشت کو پھر سے پٹری پر لانے کیلئے ایک خصوصی مالی پیکیج کا اعلان کرنے کے علاوہ جون تک بنکوں کے سود سمیت قرضوں کی قسطوں کو بھی ادائیگی سے مستثنیٰ رکھاجائے ۔ کشمیر وادی کا کاروباری شعبہ پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے اور مزید لاک ڈائون کے بیچ اس شعبہ کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ پیداہواہے۔ کشمیر میں ایسے ٹرانسپوٹروں اور کارباریوں کی تعداد بہت ہی کم ہے جنہوںنے بنکوں سے بھاری قرضے نہ لئے ہوں۔ وہیں کے سی سی کے تحت بھی کشمیر کے 40فیصد لوگوں نے چھوٹے بڑے کاروبار کو شروع کرنے کیلئے قرض حاصل کررکھے ہیں لیکن لاک ڈائون کے بیچ ایسے لوگ بنکوں کے قسط ادا کرنے سے قاصر رہیں گے ۔ کے ٹی ایم کے صدر محمد صادق بقال نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کشمیر کی تجارتی حالت پہلے سے ہی کافی خراب ہے اور ایسے میں اگر پھر سے بنکوں کے لون کا پیسہ کٹے گا تو یہ یہاں کے تاجروں ، ٹرانسپوٹروں اور عام لوگوں کے ساتھ ایک بڑی ناانصافی ہو گی ۔انہوں نے کہا ’’ہم نے یہ معاملہ بنک حکام سے اٹھایا ہے کہ اگر اس وقت پورا ملک بند ہے تو اُن کے لون کی رقم نہ کاٹی جائے،پریشانی یہ ہے کہ اگر ہم مندی کی وجہ سے لون ادا نہیں کر سکتے تو ان کے گارنٹروں کے اکائونٹ سے قسط کاٹ دی جاتی ہے، ہم مرکزی سرکار سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ پہلے سے ہی تباہ حال معیشت کو پھر سے بحال کرنے کے ساتھ ساتھ لون کی قسط سمیت سودکی ادائیگی کو فی الحال کو مستثنیٰ رکھا جائے‘‘ ۔ وادی کے معروف تاجر اور سیول سوسائٹی کے ممبر شکیل قلندر نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مرکزی سرکار نے جس طرح جی ایس ٹی سمیت دیگر ٹیکسز کو جون تک مستثنیٰ رکھا ہے اسی طرح اس جانب بھی خصوصی دھیان دیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت سب کیلئے بُرا ہے اور سب کو کرونا وائرس کے خلاف لڑنا ہے اور ایسے میں قسطیں کاٹنا اور لوگوں کو راحت نہ پہنچانا ٹھیک نہیں ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ جب سرکار نے لاک ڈائون کا فیصلہ کیا ہے تو ضرور اس بارے میں بھی کچھ نہ کچھ سوچا ہو گا ۔شکیل قلندر نے کہا کہ کشمیر میں اب تک 2300دن لاک ڈائون رہا اور یہ لاک ڈائون یا تو حکومت کی طرف سے کرایا گیا یا پھر حالات ایسے بنے کہ لاک ڈائون کرنا پڑا،  اس بیچ ٹرانسپوٹر ہو ںیا پھر تاجر طبقہ ،ہرایک کو حد سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ۔انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے لاک ڈائون ضروری ہے اوراس لاک ڈائون کے بعد بھارت کی معیشت صفر پر آجائے گی جس دوران نقصان کی بھرپائی کے اقدامات کا اطلاق کشمیر پر ہوناچاہئے اس لئے کشمیر کی انجمنوں پر یہ لازم ہے کہ وہ سرکار سے آج کے لاک ڈائون سمیت پچھلے 2300دن کے لاک ڈائون کی بھرپائی کیلئے بات کریں ،تاکہ یہاں کی تجارت پھر سے بحال ہو سکے اور جو مندی پڑگئی ہے اس سے تاجر باہر نکل سکیں ۔انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ سرکار اس جانب خاص دھیان دے گی اور بنکوں کے نام بھی ایک حکم جاری کیاجائے گا کہ وہ سود اور لون قسطوں کو تب تک مستثنیٰ رکھیں جب تک کہ کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع نہ ہوجائیں ۔کشمیر چیمبرس آف کامرس کے صدر شیح عاشق نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ’’اس وقت ضرورت ہے کہ لوگ گھروں میں محفوظ رہیں، ہماری صورتحال بھارت کی مختلف ریاستوں سے مختلف ہے، یہاں 7ماہ سے مکمل لاک ڈائون ہے ‘‘۔ اس تعلق سے انہوں نے مرکزی وزیر خزانہ کو ایک یادشت بھی پیش کی کہ جس میں کشمیرکی معیشت کو پہنچے نقصان کی بھرپائی پر زور دیاگیا۔انہوں نے کہا کہ ہم کشمیر کی تجارت کو پھر سے پٹری پر لانے کیلئے ایک بڑے پیکیج کے طلب گار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر خزانہ نے کل اپنی پریس کانفرنس میں ایک بڑے مالی پیکیج کے اعلان کا اشارہ دیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر کی تجارت کو پھر سے پٹری پر لانے کیلئے ایک بڑا پیکیج دیا جائے ۔انہوں نے بھی اُمید ظاہر کی کہ مرکزی سرکارلاک ڈائو ن کے بیچ لون کی قسطوں کی ادائیگی کو بھی مستثنیٰ رکھے گی ۔معلوم رہے کہ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران انکم ٹیکس کی ادائیگی میں تین ماہ کی توسیع سمیت اے ٹی ایم پر چارج منسوخ کر دیئے تھے ۔