لباس کو اپنی شخصیت کا آئینہ بناو

فیشن کی بیماری سے دور رہو

26 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

رِدا فاطمہ
خوبصورت لگنا اور نظر آنا ہر عورت کی اولین خواہش ہوتی ہے ،اگر اس میں انفرادیت کا پہلو نمایاں ہو تو آپ دوسروں سے الگ یا اسٹائلش کہلائیں گی ،یوں تو حسن اور پیرہن دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے کیونکہ لباس کو شخصیت کا آئینہ بھی کہا جاتا ہے ،لہٰذا لباس پر بھر پور توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ایسا لباس جو آپ کی شخصیت سے مطابقت نہ رکھتا ہو ،غیر تہذیب یافتہ ہو یا آپ پر جچتا نہ ہو ،اسے استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔اکثر خواتین کو اس بات کی سمجھ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے لئے کون سا لباس منتخب کریں ،جبکہ زیادہ تر خواتین اپنے لئے جدید اور فیشن ایبل لباس کا انتخاب محض اس لئے کررہی ہیں تاکہ وہ فیشن کی دوڑ میں شامل ہوسکیں او روہ اس بات کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں کہ آیا وہ لباس ان پر جچ بھی رہا ہے یا نہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کشیدہ کاری ایک ایسا فن ہے جو لباس کی خوبصورتی کو چار چاند لگادیتا ہے لیکن اگر یہی کشیدہ کاری بے تکے انداز میں کی گئی ہو تو وہی لباس بُرا اور بھدا لگنے لگتا ہے ،اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ یہ کشیدہ کاری کس خاتون کے لئے کی جارہی ہے اور کس کے لئے مناسب رہ سکتی ہے ،کیونکہ ہر شخص کی ایک الگ شخصیت ہوتی ہے اور ہر شخصیت کی وضع قطع بھی الگ ہوتی ہے اس لئے لباس کا انتخاب بھی شخصیت کی مناسبت سے ہونا ضروری ہے ۔بازاروں میںدستیاب کشیدہ کاری سے مزین لباس کو خرید نے والی خواتین کو بھی اپنی شخصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی ڈیزائن اور اسٹائل کا انتخاب کرنا چاہئے ۔مثال کے طور پر اگر آپ کا وزن زیادہ ہے یا آپ کا قد چھوٹا ہے تو کڑھائی کا ڈیزائن چھوٹا اور نفیس ہونا چاہئے نہ کہ بہت بڑے بڑے پھول بوٹے ہوں تو ایسے میں آپ اور زیاد موٹی ہی نہیں بلکہ بھدی اور بے ڈھنگ دکھائی دیں گی ۔اس کے برعکس پتلی اور لمبی قد کی خاتون اس قسم کے ملبوسات  با آسانی پہن سکتی ہیں ۔اسی طرح اگر آپ کی عمر چالیس سال پار کرچکی ہے تو زرق و برق اور تیز رنگوں کی کڑھائی والے ملبوسات آپ کے شایان شان نہیں ہوسکتے  ،ایسے ملبوسات پہن کر آپ بوڑھی گھوڑی لال لگام والی عورت کہلائے گی ،ہاں چھوٹی بچیوں اور کمسن لڑکیوں کے لئے ایسے لباس  پہنانے میں کوئی حرج نہیں۔خیر! کئی خواتین گھر پر ہی کڑھائی کے ذریعے لباس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں جس کے لئے یہ خواتین ہاتھ سے کڑھائی کے مختلف ٹانکوں کا استعمال کرتی ہیںاُنہیں چاہئے کہ دھاگوں  کے رنگوں اور ڈیزائن کا استعمال عمر کی مناسبت سے کریں ،جبکہ اکثر خواتین اپنے ملبوسات کو دلکش ، خوبصورت و دیدہ زیب بنانے کے لئے مشینی کڑھائی کرواتی ہیں ،ہاتھ کی کڑھائی میں وقت بہت زیادہ صَرف ہوجاتا ہے اس لئے مشینی کڑھائی کو ہی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ، بے شک کشیدہ کاری لباس کی خوبصورتی بڑھانے میں اہم رول ادا کرتی ہے ، تاہم اہم بات یہ ہے کہ جو لباس اور کشیدہ کاری آپ منتخب کرتی ہیں کیا وہ آپ کی شخصیت سے مناسبت رکھتا ہے ،خاص طور پر عمر کو مدنظر رکھ کر رنگ ،ڈیزائن اور اسٹائل کا  لحاظ رکھنا بھی تو لازم ملزوم ہے ،آج کل دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ خواتین کشیدہ کاری سے مزین جو ملبوسات پہن کر بسوں،بازاروں اور دفتروں میں گھومتی پھرتی رہتی ہیں،اُن میں سے زیادہ تعدا د اُن ملبوسات کی ہوتی ہے جو اُن کی شخصیت اور عمر وں کے مطابق نہ اُنہیں پہننے کا زیب دیتا ہے اور نہ اُن کی شخصیت کی مناسبت کے مطابق ہوتا ہے بلکہ غیر تہذیب یافتہ بھی ہوتا ہے۔افسوس کہ نہ نوجوان بہنیں اس کا خیال رکھتی ہیں اور نہہماری مائیں اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں۔خدا کے کے لباس کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کا خصوصی خیال رکھیں۔لباس تبدیل توکئے جاسکتے ہیں لیکن صحت نہ رہی تو زندگی انتہائی مشکل بن جاتی ہے۔
 

تازہ ترین