رسول ِ رحمتؐ کا ضابطہ قانون

مکمل ،مستقل او دائمی دستاویز

تاریخ    26 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   


عبدالمجید نعمانی
حضرت موسیٰ علیہ السلام جو دنیا کے بڑے قانون سازوں میں سے تھے، آسمانی احکام لے کر آئے ،جن کی رو سے قتل و غارت گری ،چوری اور بدکاری کو ممنوع قرار دیا گیا ۔ان کے بعد دوسرے پیغمبر ؑ اعلیٰ خیالات کی تبلیغ لے کر آئے اور سب سے آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔چونکہ اللہ کے پیغامات انسانوں تک پہنچانے کے لئے آپؐ آخری نبی تھے کیونکہ آپ ؐ کے پیغامات اور قوانین کو ہر زمانے اور ہر مقام کے لئے مفید اور کارآمد بنانا تھا ۔اس لئے آپؐ کے دائرہ عمل کو بھی ان کے پیش روئوں کے مقابلے میں وسیع تر رکھنا تھا ،لہٰذا وہ زماںو مکاںکی بندشوں سے قطع نظر انسانی زندگی کے تقریباً سبھی پہلوئوں پر اثر انداز ہے اور آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ضابطۂ قانون ایک مکمل دستاویز بن گیا ہے۔آپؐ نے وحی الٰہی کے زیر ہدایت جن اصول و فروغ کو بیان فرمایا ،اُن کی حیثیت مستقل اور دائمی ہے۔
چنانچہ دین اسلام کو قوانین و اخلاقیات کے ایسے بنیادی اصول و ضع کرنے تھے جو وقتاً فوقتاً اور جگہ جگہ تفصیلات سے متعلق قاعدے سے مرتب کرانے میں مدد دیتے اور جو اس وقت کے حالات کا ساتھ دینے کے لائق ہوتے ،قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کے جو احکامات درج ہیں ،ان سے مسلمان قانون سازوں نے پانچ اصول اخذکئے ہیں جو آئین کے سو پہلوئوں پر حاوی ہیں۔اسلام میں آئین سازی کا مقصد یہی ہے کہ ان اصولوں کی تعمیل کرائی جاسکے۔ا ن اصولوں کو شروع میں ’’کلیات خمسہ‘‘کہا جاتا ہے،جو مختصراً یہ ہیں:
۱۔ زندگی کا تحفظ ،۲۔جائیداد کا تحفظ،۳۔دین کا تحفظ،۴۔وراثت کا تحفظ،۵۔فکرو استدلال کا تحفظ۔
مسلمان آئین سازوں کے حساب کے مطابق قرآن پاک میں دو سو ستائیس آیات ،گیارہ قانونی معاملات مثلاً شادی،جہیز ،طلاق ،تحائف ،وصیت ،خریدو فروخت ،سرپرستی ،کفالت اور ارتکاب جرم سے تعلق رکھتی ہیں۔
یہ تو ظاہر ہے کہ اس بدلتی ہوئی اور ترقی پذیر دنیا کے لئے صرف یہ شقیں کافی نہیں کہی جاسکتیں،لہٰذا قرآن پاک نے مختلف حالات کے لئے قوانین مرتب نہیں کئے ،جو مختلف زمانوں اور مختلف مقامات پر پیش آسکتے تھے۔یہ بات آنے والے دور کے قانون سازوں کے لئے چھوڑ دی گئی تاکہ وہ بنیادی اصولوں کی روشنی میں وقت کے تقاضوں اور حالات کو دیکھتے ہوئے قوانین مرتب کرلیں۔لیکن شرط یہ ہے کہ وہ قرآنی احکام کے عین مطابق ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اپنے زمانے کے تقاضوں کا خیال نہیں رکھا بلکہ آپؐکے قانونی ملفوظات دوسرے تشریعی قوانین کا ذریعہ بن گئے جن پر تمام اسلامی آئین کی بنیادیں قائم ہیں۔اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ احکامات بھی نافذ ہیں کہ تمام مسلمان فرمانِ رسول ؐ کی پیروی کریں ۔’’قرآن پاک میں آتا ہے جو کچھ رسول ہم کو دے وہ مضبوطی سے پکڑے رہو اور اسے ترک کرو جسے وہ منع کرے ،جس نے رسول کی اطاعت کی فی الحقیقت اُس نے اللہ کی اطاعت کی ۔‘‘
اس لئے کہا جاتا ہے اور یہ کہنا صحیح بھی ہے کہ کوئی مملکت اسلامی نہیں کہی جاسکتی ،اگر اس کے قوانین قرآن و سنت سے متضاد ہوں۔سنت سے مراد ہر وہ بات جو نبیؐ نے کہی ،ہر وہ فعل ہے جو آپؐ نے کیا اور ہر وہ رائے جو دوسروں کے بارے میں آپؐ نے قائم کی ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی کردار ادا کیا، وہ ہر زمانے اور مقام کے باشندوں کے لئے مشعل راہ ہے۔
خریدو فروخت اور معاہدے عام قانون سے جتنے بھی مہذب نظام دنیا میں رائج ہیں ،ان سب میں معاہدے کا سب سے اہم عنصر ’’رضا مندی‘‘ہوتا ہے لیکن قانون کی رو سے رضا مندی کا مفہوم اس شخص کی رضامندی سے ہوتا ہے جو زیر معاہدہ لین دین سے ظہور میں آنے والے نفع و نقصان کا صحیح اندازہ لگانے کا اہل ہو ،اسی ضمن میں رسول اللہ ؐ نے فرمایا:’’کہ جب رضامندی کو کسی معاہدے کی شرط قرار دیا جائے تو وہ کسی دبائو ،فریب اور غلطی کے بغیر بالکل آزاد نہ ہو۔‘‘
ہمارے نبی ٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات جو واضح طور پر قانون سازی پر دلالت کرتی ہیں اور جو امن و امان کے حصول کا ذریعہ ہیں ،ہمارے نبی مصلح اور مربی ہونے کے ساتھ ساتھ قانون داں اور قانون ساز بھی تھے۔آپؐ نے دنیائے انسانیت کے لئے ایسی قانون سازی کی ہے کہ آپؐ کے بعد کسی کی رہنمائی کی حاجت ہی نہیں رہتی۔
 
 
 

تازہ ترین