تازہ ترین

لکھن پورمیں700افراد قرنطینہ مراکز میں منتقل

ادھمپور میں راشن دہلیز پر پہنچے گا،سکھ طبقہ مدد کو سامنے آیا

تاریخ    25 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   


سید امجد شاہ
جموں // جموں وکشمیر داخل ہونے والے 700افراد کو لکھن پور میں قائم کئے گئے قرنطینہ مراکز منتقل کئے گئے ہیں جبکہ جموں وکشمیر کی پنجاب کے ساتھ لگنے والی سرحد پوری طرح سے سیل کردی گئی ہے ۔ سرکاری ترجمان روہت کنسل نے ایک ٹویٹ میں بتایا ’’بین الریاستی سرحد پر لکھن پور کو سیل کیاگیاہے اور داخل ہونے والے تمام شہریوں کو کٹھوعہ قرنطینہ مرکز بھیجاجارہاہے ‘‘۔انہوںنے عوام سے اپیل کی کہ وہ کرونا کے خلاف جنگ میں تعاون کریں ۔باہر سے آنے والے ہر فرد کو 14روز کیلئے قرنطینہ میں رکھنا لازمی قرار دیاگیاہے جس کیلئے کٹھوعہ میں 1395افراد کی گنجائش والے21مراکز قائم کئے گئے ہیں ۔ایس ایس پی کٹھوعہ شیلندرا مشرا نے بتایاکہ لوگ انتظامیہ اور پولیس کو تعاون دے رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید قرنطینہ مراکز قائم کئے جاسکتے ہیں ۔انہوںنے بتایاکہ سینکڑوں کی تعداد میں افراد جن میں سے بیشتر کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں ، لکھن پور سرحد پر پہنچے اور جموں وکشمیر میں داخل ہونے کی درخواست کی جنہیں پہنچنے پر کھانا وغیرہ دیاگیا اوراس کے بعد قرنطینہ بھیج دیاگیا۔اس دوران سکھ طبقہ بھی مدد کو سامنے آیا اور طبقہ کے کئی افراد نے لکھن پور کے مقام پر مسافروں کو کھانے پینے کی اشیاء فراہم کیں ۔دریں اثناء جموں ، سانبہ ، اودھمپور ، ریاسی ، پونچھ ، راجوری ، ڈوڈہ ، کشتواڑ ، رام بن اضلاع میں مکمل طور پر لاک ڈائون رہا اور انتظامیہ و پولیس کی طرف سے سختی سے بندشیں نافذ رہیں ۔ پولیس کی طرف سے بندشوں کو یقینی بنانے کیلئے جگہ جگہ خار دار تاریں بھی بچھائی گئی تھیں جبکہ جموں پٹھانکوٹ شاہراہ کو صرف لازمی خدمات والی اشیائے کیلئے کھلا رکھاگیا ۔صوبہ بھر کے بازار ویران اور سڑکیں سنسان نظرآئیں ۔دریں اثناء ڈپٹی کمشنر ادھمپور نے عوام کو ان کی دہلیز پرراشن کی فراہمی کی ہدایت جاری کی ہے ۔ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ نہ صرف راشن بلکہ دکاندار بھی لوگوں کو فون پراطلاع کے بعد اشیائے خوردنی گھروں تک پہنچائیں گے ۔