دیوانے کا خواب

افسانہ

22 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

رحیم رہبر
اِن تھک محنت کے بعد کبیر آخر کار شہر کے رئیسوں میں اپنا نام درج کرنے میں کامیاب ہوا۔ صرف چالیس سال کی عمر میں وہ ایک بڑی جائیدار کا مالک بن بیٹھا۔ تین ستارہ عالیشان ہوٹل کے علاوہ اُس کے پاس سات منزلہ شاپنگ مال اور تجارتی اعتبار سے اہم منڈی کے متصل دس کنال اراضی کا ایک بڑا رقبہ بھی تھا۔
شہر کی سبزہ زار کالونی میں اُس کا محل نما مکان جو سنگِ سیاہ کا بنا ہوا تھا، سٹون ہائوس کے نام سے آج بھی مشہور ہے۔ اُس مکان میں کبیر کے علاوہ اُس کی دو بیویاں، دو بیٹے اور اُس کا گھریلو ملازم رہتے تھے۔ کبیر کے پاس عیش و عشرت کے سب سامان میسر تھے لیکن اتنی دولت کمانے کے باوجود بھی کبیر مطمئن نہیں تھا۔ دراصل دولت کمانے کے خواب نے کبیر کو دیوانہ جیسا بنایا تھا۔ اسی لئے وہ دَھن دولت جمع کرنے میں اپنا ہر لمحہ بے تحاشہ صرف کرتا تھا۔ کبیر کے پاس اعلیٰ کوالٹی کی کئی گاڑیاں تھیں، جن میں مرسڈیز بینز کی وہ قیمتی کار بھی شامل تھی جس میں وہ خود سوار ہوکر گھومتا تھا۔ 
دولت کمانے کی حرص نے اُس کی راتوں کی نیند بھی چُرا لی۔ وہ کروٹیں بدل بدل کر شب گزاری کرتا تھا۔ دولت کا بھوت سوار ہونے کی وجہ سے وہ اولاد کی صحیح تربیت کرنے سے غافل رہا۔ یہاں تک کہ اُس کے دونوں بیٹے رمیض اور راجو کو سماجی اقدار اور اخلاقیات کے اصولوں کی بھنک بھی نہ پڑی۔ دونوں بیٹے اَن پڑھ رہے اور بے حساب باپ کی کمائی کو اُڑانے میں جُڑ گئے۔
دولت کی لَت نے کبیر اور اُس کے اہل خانہ کو مذہب سے دور کردیا۔ دُنیا کمانے کی دوڑ میں وہ آخرت کو بھول گئے۔ اُس کی دونوں بیویاں اقراء اور عُرواء بھی عیاشی میں اپنے شوہر کو پیچھے چھوڑ گئیں۔، فیشن پرستی اور عیاشی نے دونوں کو اتنا مغرور بنادیا کہ وہ سماج کے تئیں اپنے فرائض بھول گئیں۔ سماج کا ہر فرد انہیں حقیر دکھائی دیتا تھا۔!
دھیرے دھیرے کبیر کے گھر کا سارا نظام ٹوٹ گیا۔ گھر کے ہر فرد نے اپنے لئے جینے کا الگ راستہ چُنا۔ دولت کی فراوانی نے کبیر کے ساتھ اُس کی بیویوں اور بچوں کو بھی زندگی کی حقیقت جاننے سے محروم رکھا۔ والدین کی غلط تربیت نے دونوں بیٹوں رمیض اور راجا کو چھوٹی عمر میں ہی گنوار بنا دیا۔ دونوں لاڈلے منشیات کے عادی بن گئے۔!
کبیر ہمیشہ رات گیارہ بجے کے بعد گھر پہنچتا تھا۔ رات کا کھانا وہ اکثر باہر کسی ہوٹل میں ہی کھاتا تھا۔ اپنے گھر کے حالات کو جاننے کی اُس کو فرصت ہی کہاں تھی! وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ہے۔ کبیر ستر سال کا ہوا۔ اُس کی دونوں بیویاں ساٹھ سال کی عمر کو پار کر گئیں اور دونوں بیٹے بالترتیب 30اور 25برس کے ہوئے۔
روز مرہ کی طرح کبیر اُس رات بھی اپنی مرسڈیز کار میں بارہ بجے گھر پہنچا۔ کوٹھی کے ارد گرد پولیس کا گھیرا دیکھ کر اُس کے پائوں تلے زمین کھسک گئی۔ اپنی کار گیراج میں رکھنے کے بعد جونہی کبیر کار سے نیچے آگیا تو خاکی وردی میں ملبوس آفیسر نے اُس کو گھر کے اندر جانے سے روکا۔ 
’’میں اس گھر کا مالک ہوں!‘‘ اُس نے آفیسر کو غصے میں کہا۔
’’تب ہی تو تم کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے!‘‘ آفیسر نے جواب دیا۔
’’مجھے جانے دو۔اندر میری بیویاں اور میرے بیٹے ہیں۔‘‘ کبیر کا لہجہ اب سخت ہوگیا۔
’’تمہارے بیٹے کہاں ہیں؟‘‘ آفیسر نے کبیر سے پوچھا۔
’’کہاں ہیں!؟‘‘ کبیر نے بڑے ہی انہماک سے کہا۔
’’تمہیں ابھی پتا چلے گا‘‘۔ آفیسر بولا
’’کیا بکواس کرتے ہو!‘‘ کبیر غصے سے غرایا۔
’’بکواس نہیں، یہی حقیقت ہے۔ تمہارے دونوں بیٹوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئی ہیں۔ پوچھ تاچھ کے بعد اُن کی نشاندہی پر تمہارے اس عالیشان سٹون ہائوس سے بھی ہم نے نشیلی ادویات کی بڑی مقدار برآمد کی ہے۔ حیرت کا مقام ہے کہ اس جرم میں تمہاری بیویاں اور تمہارا گھریلو ملازم بھی برابر کے شریک ہیں!‘‘
’’صاحب! ایسا نہیں ہوسکتا ہے‘‘۔ کبیر نے اب نرم لہجے میں کہا۔
’’کبیر جی! ایسا ہی ہوا ہے۔ کاش اس گھر کے ذمہ دار ہونے کے ناطے تم نے صرف ایک بار یہ جاننے کی کوشش کی ہوتی کہ تمہارے گھر کے افراد کیا کررہے ہیں۔ تم نے اپنے بیوی بچوں کو اتنی آزادی دیدی کہ وہ حد ہی بھول گئے۔۔۔۔ کبیر جی! تم لوگ انسانیت کے دشمن ہو۔۔۔ ہم تمہیں اور تمہارے اہل خانہ کو اس بدترین جرم کے الزام میں گرفتار کرنے کے لئے آئے ہیں۔‘‘
’’لیکن صاحب! میں بے قصور ہوں۔ میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے‘‘، کبیر نے دبی آواز میں آفیسر سے کہا۔
’’کبیر جی! تم اتنی جلد بھول گئے!؟‘‘
’’ جی کیا۔۔۔!؟‘‘ کبیر نے بہت ہی نرم لہجے میں پوچھا۔
آفسیر نے کبیر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
’’کبیر! تم ابھی کہہ رہے تھے کہ تم اس گھر کے مالک ہو!‘‘
���
رابطہ: آزاد کالونی پیٹھ کا انہامہ
9906534724
 

تازہ ترین