تازہ ترین

عالمی شہرت یافتہ فٹبالر پی کے بنرجی کا انتقال، ہندوستانی فٹ بال کے ایک دور کا خاتمہ

21 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

یو این آئی
کولکتہ/ ہندوستان کے عظیم فٹبالر، سابق اولمپین اور سابق کوچ پردیپ کمار بنرجی کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ 83 سال کے تھے۔ ان کے خاندان میں دو بیٹیاں ہیں۔پردیپ کمار بنرجی ہندستانی فٹ بال میں پی کے بنرجی کے نام سے مقبول تھے۔ ان کے انتقال سے ہندوستانی فٹ بال میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن (اے آئی ایف ایف) نے بنرجی کے انتقال پر غم کا اظہار کیا ہے۔ بنرجی گزشتہ کافی عرصے سے بیمار چل رہے تھے اور انہوں نے کولکتہ کے ایک نجی اسپتال میں جمعہ کو آخری سانس لی۔وہ گزشتہ دو ہفتوں سے اسپتال میں آئی سی یو میں داخل تھے۔ انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا ہوا تھا۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے نمونیا اور سانس کی بیماری کا شکار رہے تھے۔ انہیں پارکنسن، دل کی بیماری اور بھولنے کی بیماری بھی تھی۔ وہ لائف سپورٹ سسٹم پر تھے۔ ان کے انتقال سے ہندوستانی فٹ بال کے ایک دور ختم ہو گیا۔بنرجی 1962 میں جکارتہ ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتنے والی ٹیم کے رکن تھے۔ بنرجی نے فائنل میں جنوبی کوریا کے خلاف گول داغا جس کے بدولت ہندوستان نے 2-1 سے تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔ انہیں 1961 میں ارجن ایوارڈ اور 1990 میں پدم شری سے نوازا گیا تھا۔23 جون 1936 کو جلپائی گوڑی کے مضافات واقع مویناگڑی میں پیدا ہوئے بنرجی تقسیم ملک کے بعد جمشید پور آگئے۔ انہوں نے ہندستان کے لئے 85 میچ کھیل کر 65 گول کئے۔ وہ ارجن ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے کھلاڑی تھے۔ ارجن ایوارڈ کا آغاز 1961 میں ہوا تھا اور یہ ایوارڈ پہلی بار بنرجی کو ہی دیا گیا تھا۔بنرجی گزشتہ ماہ بھر سے سینے میں انفیکشن سے برسرپیکار تھے۔ گزشتہ دنوں صحت خراب ہونے کے بعد انہیں کولکتہ کے میڈیکل سپراسپیشلٹی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ بنرجی کئی دنوں سے وینٹی لیٹر پر تھے اور جمعہ کو انہوں نے دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ انہوں نے رات 12 بج کر 40 منٹ پر آخری سانس لی۔ہندستان کے بہترین فٹ بال کھلاڑیوں میں شامل بنرجی نے اپنے کیریئر میں کل 45 فیفا اے کلاس میچ کھیلے اور 14 گول کئے۔ ویسے ان کا کریئر 85 میچوں کا تھا، جن میں انہوں نے کل 65 گول کئے۔ تین ایشیائی کھیلوں (1958 ٹوکیو، 1962 جکارتہ اور 1966 بینکاک) میں ہندستان کی نمائندگی کرنے والے پی کے بنرجی نے دو بار اولمپک میں بھی ہندستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے ایشیائی کھیلوں میں ہندستان کے لئے چھ گول کئے جو ایک ریکارڈ ہے۔بنرجی نے 1960 روم اولمپک میں ہندستان کی کپتانی کی تھی اور فرانس کے خلاف 1-1 سے ڈرا رہے میچ میں برابری کا گول کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ 1956 کی میلبورن اولمپکس ٹیم میں بھی شامل تھے اور کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا پر 4-2 سے ملی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔بنرجی نے 19 سال کی عمر میں بین الاقوامی ڈیبو 18 دسمبر 1955 کو سیلون (اب سری لنکا) کے خلاف ڈھاکہ میں چوتھے کواڈرینگولر کپ میں کیا تھا اور اپنے ڈیبو میچ میں دو گول کیے تھے جس کی بدولت ہندستان نے یہ میچ 4-3 سے جیتا تھا۔

 انتقال پر ممتا بنرجی کا اظہار غم

کولکتہ/مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے عظیم فٹبالر پی کے بنرجی کی موت پررنج و غم ظاہر کیا ہے اور ان کے خاندان کے تئیں اپنی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ممتا بنرجی نے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی کے بنرجی کے انتقال سے ہندوستانی کھیلوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن (اے آئی ایف ایف) کے صدر پرفل پٹیل اور سیکرٹری جنرل کشل داس نے بنرجی کے انتقال پر گہرا غم کا اظہار کیا ہے۔اے آئی ایف ایف کے نئی دہلی کے دوارکا واقع ہیڈکوارٹر فٹ بال ہاؤس میں اے آئی ایف ایف کا پرچم بنرجی کے اعزاز میں جھکا دیا گیا ہے۔کرکٹ آئیکن سچن تندولکر نے بنرجی کے انتقال پر ٹویٹر پر پیغام دیتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔یو این آئی۔