تازہ ترین

دین کی بشارتیں!!

مسلمان اپنے فکرو عمل کا جائزہ لے

تاریخ    19 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر تنویر احمد خان
اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو معبوث کرنے کی بڑی وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ لوگوں کو بشارت و خوش خبری دینے والے اور بُرے انجام سے ڈارنے والے ہوتے تھے:’’یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بناکر بھیجے گئے۔‘‘(النساء)پھر ان کے نزدیک بشارت کا واضح تصور یہ ہوتھا تھا کہ انسان آخرت میں جہنم کی آگ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے ۔اس خوش خبری کو ہی قرآن کریم نے بڑی کامیابی کہا ہے ۔مگر اسلام محض آخرت ہی کی کامرانی کی بشارت نہیں دیتا بلکہ اس دنیا میں بھی کامیابی کا سہرا انسانیت کے سر باندھتا ہے،اُس نے اپنے فرماں برداروں کو یہ دعا سکھائی ہے:’’اے ہمارے پروردگار! ہم کو دنیا میں بھی بھلائی دے ،آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘اس سے ظاہر ہوا کہ انبیاء و رُسل ؑ جس مقصد کے لئے بھیجے گئے اس کا دوسرا حصہ دنیامیں غلبہ ٔ دین کی بشارت ہے ،جس کا وعدہ اُن سے اور اُن پر ایمان لانے والوں سے کیا گیا ہے۔:’’اور دوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمہیں دے گا اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی حاصل ہوجانے والی فتح۔اے نبی !اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو ۔‘‘(سورہ الصف)
یوں تو تمام انبیاء غلبۂ دین ہی کے لئے سعی و جہد کرتے رہے مگر نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فضیلت میں اعلیٰ ترین مقام حاصل ہے ۔قرآن کریم میں تین مرتبہ یہ آیت نازل فرمائی گئی ہے :’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق لے کر بھیجا ہے تاکہ وہ تمام جنس دین پر اللہ کے دین کو غالب کردے۔‘‘(سورۃ الصف اور الفتح)
بقول حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ یہی قرآن حکیم کی مرکزی آیت جس کے گرد قرآن کریم کی تمام آیات گردش کرتی ہیں۔
بعثت رسول ؐ کے دو پہلو ہیں:ایک بعثت خاص جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی عربی یا نبی امی کہہ کر پکارا گیا جس میں غلبۂ دین کی سعی و جہد براہِ راست آپ کو ادا کرنی تھی ،دوسری آپؐ کی بعثت ِ عام جس میں آپؐ کو خاتم النبیین اور رحمتہ للعالمین کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے اور اس حیثیت سے غلبۂ دین کی بشارت آپ ؐ کی تیار کردہ امت مسلمہ کے ذریعے پوری ہوگی۔
جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ِخاص کا تعلق ہے تو آپؐ نے اللہ کی تائید اور نصرت سے اپنی زندگی میں ہی دین کو ایسا غالب کرکے دکھایا جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی اور وہ منظر پیشین گوئی جو ’نصرمن اللہ و فتح قریب‘ کے الفاظ میں وارد ہوئی تھی بہ درجہ کمال و تما م عرب میں انہیں الفاظ میں پوری ہوئی ،جس کی تصویر قرآن حکیم نے سورۃ النصر میں کھینچی ہے ۔مگر آپ ؐ کی بعثت ِ عام جس کا تعلق عالمی غلبے سے ہے اور جس کا ذریعہ امتِ مسلمہ بنے گی ،وہ بھی اسی طرح پایۂ تکمیل تک پہونچے گی،جس طرح بعثتِ خاص کی بشارت پایۂ تکمیل پہنچی ہے ۔مگر وہ غلبہ دین کی بشارت کی تکمیل ابھی باقی ہے ۔
مگر اب جو آپ دنیا میں ایک تبدیلی دیکھ رہے ہیں کہ ساری دنیا ایک گائوں بن گئی ہے تو یہ اسی نور توحید کے اتمام کی تیاری ہے جو مشیت خداوندی کے ذریعے کی جارہی ہے اور یہ New World Orderنیا عالمی نظام کا نعرہ ہے ،یہ اصلاًJew World Orderیہودی عالمی نظام کا نعرہ ہے جس نے پوری دنیا کو بالعموم اور امت مسلمہ کو بالخصوص اپنے نرغے میں لے رکھا ہے ،مگر حقیقت میں اسلام کا منصفانہ نظام آنے والا ہے ۔ان شاء اللہ امت مسلمہ کے ہاتھوں غلبۂ دین کی بشارت کی تکمیل ہوگی اور قرآن بتارہے ہیں کہ وہ وقت قریب ہی آلگا ہے ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تمہارے دین کی ابتدا ء نبوت اور رحمت سے ہے اور وہ تمہارے درمیان رہے گی جب تک اللہ چاہے گا ۔پھر اللہ جل جلالہ اس کو اٹھالے گا پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہوگی ،جب تک اللہ چاہے گا ،پھر اللہ اسے بھی اُٹھا لے گا ۔پھر بداطوار بادشاہی ہوگی اور جب تک اللہ چاہے گا رہے گی ،پھر اللہ اسے بھی اٹھالے گا،پھر جبر کی فرماں روائی ہوگی اور وہ بھی جب تک اللہ چاہے گا رہے گی ،پھر اللہ اسے بھی اٹھا لے گا،پھر وہی خلافت بطریق نبوت ہوگی جو لوگوں کے درمیان نبی کی سنت کے مطابق عمل کرے گی اور اسلام زمین میں پائوں جمائے گا ،اس حکومت سے آسمان والے بھی خوش ہوں گے اور زمین والے بھی،آسمان دل کھول کر اپنی برکتوں کی بارش کرے گا اور زمین اپنے پیٹ کے سارے خزانے اُگل دے گی۔‘‘
اس ارشاد نبویؐ میں پوری انسانی تاریخ کو پانچ ادوار میں منقسم کیا گیا ہے جس کی ابتداء نبوت و رحمت اور جس کی انتہا خلافت بہ طریق نبوت ہے ۔درمیان میں دو ادوار ہیں ۔بداطوار بادشاہت اور جبر کی فرماں روائی ۔یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں ۔فرق صرف اتنا ہے کہ بداطوار بادشاہت ماضی کا حصہ بن چکی ہے اور جبر کی فرماں روائی وہ لعنت ہے جس سے آج پوری دنیا پریشان ہے ۔جس طرح بدترین دشمنی وہ ہوتی ہے جو دوستی کے لباس میں کی جائے ،اسی طرح بدترین جبر و استبداد وہ ہے جو آزادی و مساوات کے پردے میں کیا جائے۔
حدیث کے الفاظ ’’ملکاً جبری‘‘جبر کی فرماں روائی کو سمجھنے کے لئے فراست مومن درکار ہے ۔غلبہ دین کی بشارت کے سلسلے میںدو احادیث بڑی واضح ہیں ۔ایک تو وہ حدیث ہے جو مسند احمد میں حضرت مقدادبن اسودؓ سے مروی ہے کہ حضورؐ اکرم نے فرمایا:’’دنیا میں نہ کوئی اینٹ گار ے کا بنا ہوا مکان باقی رہے گا نہ کمبلوں کا بنا ہوا خیمہ، جس میں اللہ اسلام کو داخل نہیں کرے گا‘‘۔
دوسری حدیث صحیح مسلم میں حضرت ثوبان ؓ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اللہ نے مجھے پوری زمین کو لپیٹ کر دکھادیا ۔چنانچہ میں نے اس کے سارے مشرق بھی دیکھ لئے اور مغرب بھی ،اور یقین رکھو کہ میری امت کی حکومت ان تمام علاقوں پر ہوکر رہے گی جو مجھے لپیٹ کر دکھائے گئے ہیں۔‘‘
دورِ حاضر کے اس مرحلے پر غلبۂ دین کی بشارتوں کی تکمیل کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے والے خوش نصیب افراد کے بارے میں بھی رسول اللہ ؐ سے بڑی خوش خبریاں منقول ہیں ۔مثلاً آپؐ نے فرمایا:’’میری اُمت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت رکھنے والے لوگ میرے بعد ہوں گے ،ان میں سے کوئی تمنا کرے گا کہ کاش !اپنے اہل وعیال کے بدلے مجھے دیکھے‘‘۔ (بہ روایت حضرت ابو ہریرہؓ  ،مسلم)ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کاش! میں اپنے بھائیوں کو دیکھ پاتا ۔اصحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ،ہم آپؐ کے بھائی نہیں۔آپ ؐ نے فرمایا:’انتم اصحابی‘تم تو میرے دوست ہو،میرے بھائی تو وہ ہیں جو بعد کے زمانے میںآئیں گے۔‘‘
 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ نے رسول اللہ ؐ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ؐ کوئی ہم سے بہتر ہوسکتا ہے جبکہ ہم مسلمان ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کیا ؟ فرمایا:ہاں! وہ لوگ جو میرے بعد میں ہوں گے اور مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا ۔‘‘(رواہ احمد)
بشارتوں کی تاریخ میں یہ پہلو بڑا عبرتناک ہے کہ بعض گروہ صرف بشارتوں پر آس لگائے بیٹھے رہتے ہیں اور اپنے اندر وہ صفات پیدا کرنے کی سعی و جہد نہیں کرتے جو غلبۂ دین کے لئے مطلوب ہیں۔پھر اللہ کسی دوسری جماعت کو اپنی رحمت سے نوازدیتا ہے اور اولالذکر گروہ دونوں جہاں کی ناکامی پر کف افسوس ملتا رہ جاتا ہے ،یہی بات ہے جس کو’ سورہ مائدہ‘ میں اس طرح فرمایا گیا ہے :
’’اے لوگو!جو ایمان لائے ہو ۔اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر تا ہے تو پھر جائے ،اللہ دوسرے بہت سے ایسے لوگوں کو پیدا کردے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ اُن کو محبوب ہوگا ،جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے ،جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے،یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے ۔اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔‘‘قرآن و حدیث کی روشنی میں اُمت ِ مسلمہ کو اپنے فکر وعمل کا جائزہ لینا چاہئے اور وہ صفات اپنے اندر پیدا کرنے کی سعی پیہم کرنی چاہئے ۔بے شک اللہ کا دین غالب ہوکے رہے گا ۔