تازہ ترین

علم سے روشنی ملتی ہے

بے عمل علِم آزار ہے

تاریخ    19 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   


بلال احمد
علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔علم نور ہے اور اس علم کے ذریعے ہی انسان اپنے آپ کو ،انسانیت کو ،ماضی حال اور مستقبل کو آئینہ کی طرح دیکھ سکتا ہے ۔علم نے انسان کو محکومی سے نکال کر حاکمیت عطا کی ۔قوموں کے عروج و زوال تعلیم کی ہی مرہوں منت ہوتے ہیں ۔بڑے بڑے اسکالر ،مفکر ،محدث ،مجتہد وغیرہ تعلیم ہی کی دین ہیں۔پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ِگرامی ہے کہ’’ انبیاء کرام کی میراث نہ درہم تھا نہ دینار بلکہ ان کی میراث علِم تھی ،پس جس نے علِم حاصل کیا اُس نے بہت کچھ پالیا‘‘۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ آثار قدرت کا علِم رکھتے ہیں وہی خدا سے ڈرتے ہیںلیکن یہی علم جہاں شریفوں کو متواضع بناتا ہے وہیں رذیلوں کو متکبر۔بظاہر دیکھنے میں بھی یہی آتا ہے علِم کی قوت جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو مکاری اور بسیار دانی پیدا ہوجاتی ہے اور جب ناقص علم ہو تو حماقت اور ابلہی پیدا کرتی ہے۔ پیغمبر آخرالزمان ؐکا ارشاد گرامی ہے کہ’’علِم بغیر عمل وبال ہے اور عمل بغیر علِم گمراہی ہے‘‘۔
قارئین کرام !مخلوط نظام تعلیم کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے ۔یہ دور حاضر کے اہل مغرب کی ایجاد ہے،دنیا کی قدیم تہذیبوں کے حامل ترقی یافتہ قوموں میں بھی مخلوط تعلیم کا رواج نہیں ملتا ۔تاریخ کے ہردور میں لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ نظام تعلیم رائج تھا ۔مخلوط تعلیم کا آغاز مساوات مردوزن کے پُر فریب نعرے سے ہوا ،اللہ تعالیٰ نے تخلیقی طور پر عورتوں اور مردوں کے درمیان صلاحیتوں کے اعتبار سے فرق رکھا ہے ،جس کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں کا دائرہ کار الگ الگ ہو،لیکن صنعتی انقلاب کے بعد جب سرمایہ داروں کے لئے زیادہ سے زیادہ افرادی قوت کی ضرورت پڑی تو کم از کم معاوضہ میں زیادہ سے زیادہ کام کروانے کے لئے خواتین کو آزادیٔ نسواں کے پُر فریب دام میں پھانس کر انہیں مردوں کے شانہ بہ شانہ لا کھڑا کیا گیا ۔انسانی معاشرے میں جب مرد و خواتین میں سے ہر ایک کادائرہ کار الگ الگ ہے اور دونوں کی زمہ داریاں بھی مختلف ہیں تو دونوں کا نظام تعلیم بھی علاحیدہ علاحیدہ رکھا گیا تھا مگر دور جدید میںمختلف اغراض و مقاصد کے لئے مخلوط نظام تعلیم کو ہی فوقیت دی گئی۔یہ الگ بات ہے کہ مخلوط تعلیمی نظام کا سب سے خطرناک اثر طلبہ و طالبات دونوں کی صحت پربُرا پڑتا ہے ۔مرو وعورت کا اختلاط ذہنی دبائو کے ہارمونس میں اضافہ کا سبب بن جاتا ہے ۔اسپین کی یونیورسٹی آف ویلنسیا کے محققین نے اس بات کا پتہ چلایا ہے کہ اس سے مرد کے کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کے نتیجہ میں صحت پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
 تعلیم کے مضر اثرات:
تعلیم کا مسئلہ ہر ملک کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔کسی بھی ملک یا قوم کی ترقی کے لئے یہ ایسی شاہ کلید ہے کہ جس سے ہر طرح کی ترقی کے سارے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں ۔مسلمانوں نے جب تک اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا ،وہ دنیا کے منظر نامہ پر چھائے رہے اور انہوں نے دنیا کو علم کی روشنی سے بھر دیا ۔انہوں نے تعلیم کے لئے کچھ بھی دوئی نہیں برتی اور اس کو انسانیت کی فلاح و بہبودی کا ذریعہ بنایا لیکن جب مسلمان غفلت  کے بازار میں گم رہے اور اپنے تہذیب و تمدن سے منہ موڑتے رہے اوراپنے اسلاف کو فراموش کرتے گئے،جس کے نتیجے میں اخلاقی پستی کا شکار ہوگئی۔مغربی دنیا تو پہلے ہی اخلاقی بحران کا شکار تھی تو عالم اسلام خاص طور پر اس سے متاثر ہوا،جس کا بڑا سبب یہی رہاکہ وہ دین سے غافل ہوچکی تھی۔چنانچہ عرصہ دراز کے بعد جب اس میں بیداری پیدا ہوئی تو اس نے وہی نظام تعلیم اپنایا جو یورپ کا تیار کردہ تھا۔ظاہر ہے کہ برطانیہ و فرانس کا سامراجی  نظام کافی دیر تک چلا تھاجو دنیا کے اکثر حصہ پر قائم رہا اور جب سیاسی مجبوریوں کی بنا پران کے زیر تسلط ملکوں کو آزادی نصیب ہوئی تو جسمانی طور پر تووہ آزاد ہوئے لیکن عرصہ دراز تک غلامی میں رہنے کی وجہ سے اُن کا ذہن و دماغ غلامی کے شکنجے سے باہر نہ آسکا۔ ان ملکوں میں یورپ نے جو نظام تعلیم جاری کیا تھا وہی نظام تعلیم سامراجی دور کے بعد بھی جاری رہا ۔اس چیز نے پورے عالم اسلام کو متاثر کیا ۔خود اسلامی ملکوں میں پڑھنے والوں کا حال یہ ہوا کہ وہ اپنی یونیورسٹیوں سے پڑھ لکھ کر نکلتے تو یہی لگتا تھا کہ وہ یورپ کے غلام ہیں۔ان کے ذہن و دماغ یورپی نظام کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے اور انہیں کی تہذیب میں رنگے ہوئے ہیں ۔مشرقی ملکوں کا مزاج اور یورپ کی روایات کا آپس میں کوئی جوڑ ہی نہیں تھا۔تہذیب و تمدن الگ الگ تھا،اس کے باوجود مسلم اُمت کا بیشتر حصہ یورپی تہذیب و تمدن کا دلدادہ بنتا گیاحالانکہ سامراجی تسلط سے آزاد ہونے والے ملکوں میں اپنے تہذیب و تمدن کو برقرار رکھنے یا بحال کرنے زبردست کشمکش کی فضا پیدا ہوگئی تاہم وہ سامراجی تہذیب و تمدن اور روایات سے باہر نکلنے میں لامیاب نہ ہوسکے ۔اسلامی ملکوں میں یہ کشمکش زیادہ وسیع پیمانے پر اور شدت کے ساتھ پیدا ہوئی اور ان ملکوں کی صلاحیتیں ان کے آپس کے نزاعات میں ضائع ہونے لگیں جو خانہ جنگی تک پہنچ گئی ۔الغرض آجکی نام نہاد روشن اور ماڈرن جاہلیت میں عورتوں کو آزادی کے نام سے دوبارہ اسی ظلم ، بے وقعی، بے قدری، ذلت اور رسوائی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔دور حاضر میں یورپ و امریکہ اور دوسرے صنعتی ممالک میں عورت ایک ایسی گری پڑی مخلوق ہے جو صرف اور صرف تجارتی اشیاء کی خرید و فروخت کے لیے استعمال ہوتی ہے ، وہ اشتہاری کمپنیوں کا جز ء لا ینفک ہے ،اُسے چادر اور چار دیواری سے باہر نکالا گیا بلکہ حالت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ اس کے کپڑے تک اتروا دیئے گئے ہیں اوراس کے جسم کو تجارتی اشیاء کے لیے جائز کر لیا گیا ہے، اور مردوں نے اپنے بنائے ہوئے قانون سے اسے اپنے لئے ہر جگہ پراس کے ساتھ کھیلنا اور اس کا استحصال کرنا ہی مقصد بنا لیا ہے۔
لہٰذا ہمیں اس دور میں رہ کر بھی اپنے اسلاف کی دی ہوئی تعلیم و تربیت سے جڑے رہنا چاہئے ۔قرآن ہمیں ہر دور میں رہنمائی کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیںاپنی نسلوں کو مغربی تعلیم و تربیت (جو اس دور میں زہر کا کام کررہی ہے)سے بچاکر ان پر ایک احسان کرنا ہے ،جو کہ ہمارا اولین فرض ہے تاکہ مغرب کی طرز تعلیم  سے دور رہیں اور ہم اپنے ملک و سماج کی نوجوان نسل کو دین کے کاموں میں مصروف رکھیں اور اپنے قوم و ملت کے مستقبل کو روشن کرنے کی تیاری پہلے سے ہی کرکے رکھیں۔