تازہ ترین

’کرونا وائرس‘

قہرِ خُدا کی ایک ادنیٰ سی جھلک

تاریخ    20 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   


اے ۔مجید وانی
تاریخ گواہ ہے کہ جب زمین پر انسان نے فساد برپا کرنے یا سرکشی کی حدوں کو پھُلانگنے کی کوشش کی تو آسمان والے نے اُسے ایسی ڈانٹ پلائی کہ وہ اپنی عاجزی ،مجبوری ،بے بسی اور کمزوری پر رونے اور سینہ کوبی کرنے کے سوا کچھ نہ کرسکا۔
چین میں پیدا ہونے والے اور نظر نہ آنے والے ایک معمولی کیڑے نے آج پوری دنیا کے انسانوں کو بے پناہ خوف و دہشت میںمبتلا کرکے رکھ دیا ہے۔’’کرونا وائرس‘‘دراصل خدائے برتر کے اُسی قہر و قوت کا ایک ادنیٰ سا نمونہ ہے جو ایک عام انسان کے لئے جہاں حیرت و حسرت کا مقام ہے وہیں اپنے آپ کو سُپر پاور سمجھنے والے ممالک کے اُن متکبر اور سرکش حکمرانوں کے لئے ایک تازیانہ ٔ عبرت بھی ہے ،جن کے توسیع پسندانہ عزائم اور ملک گیری کی پیاس روز بروز بڑھتی جارہی ہے ،جو اپنے ملک سے ہزاروں میل دور معاشی اور دفاعی لحاظ سے کمزور ملکوں کے مالی وسائل پر قبضہ جمانے کے لئے اُن ہی کی سر زمین پر آگ و آہن کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہیںاور جن کے ہاتھ ہزاروں لاکھوں بے گناہ لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ،جو کبھی ایک ملک کی پُشت پناہی کرکے دوسرے مُلک کے ٹکڑے کراتے ہیں تو کبھی ثالث بن کر مختلف ملکوں کے مفادات کی بَلی چڑھاکر اپنے ملکی مفادات کی آبیاری کررہے ہیں۔جن کی تباہ کُن ہتھیاروں سے لیس فوجیں غریب اور ترقی پذیر ملکوں کا کریک ڈاون کرکے اُن کے سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں،جن کی رگوں میں شیطانی آرزوئیں بجلی بن کر دوڑرہی ہیں اور ایسی ہی ناپاک آرزوئوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے وہ دنیا کی مختلف قوموں کو کبھی مذہب کے نام پر،کبھی رنگ و نسل کے نام پراور کبھی زبان کے نام پر آپس میں دست گریباں کراکر انہیں کمزور بنانے میں فخر اور خوشی محسوس کرتے ہیں ،غرض اپنی تباہ کُن ایٹمی صلاحیت اور فوجی طاقت کے نشے میں چُور یہ متکبر حکمران زمین پر فساد بپا کرکے اور دوسروں پر تہمت ِ دہشت گردی لگاکر ہر مُلک میں اپنا الُو سیدھا کرنے میں جُٹے ہوئے ہیں۔موجودہ دور میں خاص طور پر اُن کے نشانے پر اُمت ِ مسلمہ ہے اور جہاں اس اُمت کو بدنام کرنے اور باقی قوموں کو اس قوم کے تئیں بدظن کرنے کے لئے وہ کروڑوں ڈالر صَرف کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں وہیں کچھ بے ضمیر اور ایمان فروش لوگ اُن کے جھانسے میں آکر ملت ِ اسلامیہ کو نقصان پہنچانے میں اُن کی مدد بھی کرتے ہیں۔
حق دیر سے صحیح لیکن باطل کو مِٹاکر ہی اوپر آتا ہے ۔اپنے فوجی سازو سامان پر نازاں یہ سُپر پاور ملکوں کے مغرور حکمران اس بات سے غافل رہتے ہیں کہ اُن کے اوپر ایک سُپر پاور بھی ہے، جس کے دست ِ قدرت میں ساری کائینات کی باگ ڈور ہے،وہ جب اور جو چاہے کرسکتا ہے ،اُسی کے تابع یہ چاند،سورج ،ستارے ،ہوا ،پانی اور زمین و آسمان ہیں۔جن کے بغیر انسانی زندگی قطعی ناممکن ہے اور وہی ذات ِ واحد ان ساری چیزوں کو حد سے گذرنے والوں کے خلاف استعمال میں لانے کی پوری قدرت بھی رکھتا ہے ،اُسی نے جس پانی میں قوم ِ نوح کو غرق کرکے تباہ و برباد کردیا ،اُسی پانی میں اپنے بندے یونسؑ کی حفاظت بھی کروائی ،جس سمندر میں فرعون جیسے سرکش کو جَلا ڈالا اُسی سمندر میں موسیٰ ؑ کے بچ نکلنے کے راستے بھی بنا دئے،جس آگ کو برساکر بنی اسرائیل کو نیست و نابود کردیا اُسی آگ سے ابراہیمؑ کو زندہ و صحیح سلامت واپس بھی نکال دیا،سُپر پاور کے دعویدار اُس ہَوا کا مقابلہ اپنے کن ہتھیاروں سے کریں گے جس ہَوا نے قوم ِ عاد جیسی طاقتور قوم کے جسموں سے گوشت اُڑا کر ان کے ڈھانچے کٹے ہوئے شہتیروں کے مانند زمین پر گرائے ،اُن سنگ ریزوں کا مقابلہ کون سے میزائیلوں سے کریں گے جن کے گرنے سے اَبرہنہ ،اُس کے مغرور فوجیوں اور بڑے ڈھیل ڈھول والے ہاتھیوں کا قیمہ بناکے رکھدیا ۔قرآن کریم میں جہاں حد سے گذر نے والے نافرمانوں کے خوفناک انجام کی داستانیں درج ہیں ،وہیں خدائے واحد کے خاص بندوں کی معجزاتی حفاظت کی اس میں پوری تفصیل بھی ہے۔
تاریخ اسلام کے اوراق اُلٹنے سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے ایسے کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں ،جنہیں پڑھ کر ساری انسانیت حیرت و استعجاب میں ڈوب جاتی ہے ،جہاں انہوں نے اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار سے سنگلاخ چٹانوں کو تراش کر اور سخت و جامد لوہے کو پگھلاکر ناقابل یقین کارنامے انجام دئے وہیں میدانِ جنگ میں وہ کبھی بھی دشمن کے سازوسامان یا اُن کی تعداد سے مرعوب نہیں ہوئے۔مٹھی بھر فاقہ مستوں نے اپنے وقت کی دو عظیم طاقتوں روم و فارس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی،دلوں میں خوفِ خدا اور ہاتھوں میں زنگ آلودہ تلواریں لے کر انہوں نے بڑے بڑے سورمائوں کا گھمنڈ توڑ کر انہیں زمین چاٹنے پر مجبور کردیا ۔ایسے ہی اللہ والوں کا ہر کام اپنے ذاتی مفاد کے لئے نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ صرف خدا کی کوشنودی اور اُخروی زندگی کے لئے ہوا کرتا تھا،یہی وجہ ہے کہ اُن سے انسان تو کیا جانور بھی خائف رہا کرتے تھے۔قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جو لوگ اپنے انجام سے غافل ہوکر میری بنائی کائینات پر غور نہیں کرتے وہ چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔بے شک آج بھی انسان خواہش پرستی کی ادنیٰ سطح پر گر کر درندوں اور چوپایوں کی زندگی جی رہا ہے ۔لاالہٰ الا اللہ پڑھنے والے اللہ کی اس کتاب کو پس ِ پشت ڈالنے کی بِنا پر آج ایسی رسہ کشی ،انتشار اور طرح طرح کی پریشانیوں میں مبتلا ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ہر طرف بس مال و دولت کی ایک نہ مٹنے والی بھوک اور نہ بُجھنے والی پیاس ہے ،زندگی کی ہَوس اتنی بڑھ گئی ہے اور معیار اتنا بلند ہوگیا ہے کہ مسافر ِ طمع کو کسی بھی منزل پر قرار نہیں ،دولت اور جاہ و حشمت کی کوئی بڑی سی بڑی مقدار اور اونچی سی اونچی سطح تسلی کے لئے کافی نہیں،بالِشت بھر پیٹ نے گویا زندگی کی ساری وسعت گھیر لی ہے۔ایک خدا کو ماننے والے آج سینکڑوں خدائوں سے آس لگائے بیٹھے ہیں ،دلوں میں ایمان کی مثال اُس درخت کے مانند ہے جس کی جڑیں سوکھ چکی ہیں اور اب خالی پتوں کی آبیاری کی جارہی ہے اور اس پر ستم یہ کہ حرام و حلال میں تمیز کئے بغیر رب ِ کائینات سے اپنی دعائوں کے قبول نہ ہونے کا شکوہ بھی کیا جارہا ہے۔
بہر حال ! اللہ تعالیٰ عظیم ہے ،حکیم و دانا ہے ،بردبار ہے ،بہترین فیصلہ اور حفاظت کرنے والا ہے ،ظاہر و باطن جاننے ولا ہے ،وہ اگر بخشنے والا اور مغفرت کرنے والا ہے تو سرکشوں اور نافرمانوں سے انتقام لینے والا بھی ہے۔اُس کے دریائے رحمت کی وسعت کا اندازہ لگانا ایک کمزور بندے کی سوچ سے باہر ہے جس کی ہر آتی جاتی سانس پر اُس قدرت والے کا قبضہ ہے ،سب کچھ فنا ہونے والا ہے اور باقی رہنے والی بس اُس کی ذات ہے ،اُسی عظمت والے کی غلامی میں ایک بندے کی بھلائی اور نجات پوشیدہ ہے ،بندہ اگر غفلت کی چادر ہٹاکر اور تمام معبود انِ باطل سے لگائی ہوئی اُمیدیں مٹاکر نہایت عاجزی ،انکساری ،مکمل طور نادم ہوکر اور اشکبار آنکھوں سے اُسی ذات ِ واحد کے دربار میں سر بسجود ہوجائے تو شاید وہ ’’کرونا وائرس‘‘ جیسی جان لیوا آفت سے چھٹکارا پاسکتا ہے ،ورنہ جس تیز رفتاری سے یہ زمین پر پھیلنے لگا ہے ،لگتا ہے کہ اس ناگہانی مصیبت سے نجات پانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔
 
���
احمد نگر سرینگر،موبائل نمبر؛9697334305