مزید خبریں

تاریخ    18 جولائی 2019 (03 : 11 PM)   


نیو ڈسک

وزیراعظم من دھن سکیم

غیر منظم ورکروں اور تاجروں کی رجسٹریشن کرنے کیلئے افسران کو ہدایت

سر ینگر//محنت و روزگار محکمہ کے کمشنر سیکریٹری سوربھ بھگت نے ایمپلائمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا دورہ کیا اور محکمہ کی طرف سے چلائی جارہی مختلف سکیموں کی عمل آوری کا جائزہ لیا۔متعلقہ محکمہ کے افسران کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ کے دوران اُنہوں پی یم ۔ایس وائی ایم سکیم ، ایس ایچ جی آف انجینئر سکیم ،ریاست کے دیگر بے روزگار نوجوانوں کی رجسٹریشن ، بے روزگار پوسٹ گریجویٹوں کی رجسٹریشن اور ماڈل کیئریر مراکز کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔کمشنر سیکرٹری نے پی ایم۔ ایس وائی ایم سکیم کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ روزگار کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ دیگر لائن محکموں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے مشاہرے کی بنیاد پر تعینات کئے گئے ورکروں جنہیں ماہانہ 15,000روپے سے کم کی رقم اد ا کی جاتی ہے اور ای ایم ایس وائی ایم سکیم کے تحت اہل ہوں کے حقوق و فرائض کو عملی جامہ پہنائیں۔اُنہوں نے افسروں پر زور دیا کہ وہ غیر منظم ورکروں ، تاجروں اور دیگر اہل دکانداروں کو سکیم کے تحت رجسٹریشن کریںتاکہ 60برس کی عمر پہنچنے تک اُنہیں سکیم کے تحت استفادہ حاصل ہو۔ انہیں بتایا گیا کہ اب تک سکیم کے تحت 70,000 ورکروں کو رجسٹر کیا گیا ہے اور اگست 2019ء تک اِن ورکروں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ جانے کی اُمید ہے۔کمشنر سیکرٹری نے محکمہ روزگار کی طرف سے کئے گئے اخراجات کا بھی جائزہ لیا۔انہیں بتایا گیا کہ متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کے ساتھ ڈسٹرکٹ ایمپلائمنٹ اینڈ کونسلنگ سینٹر اننت ناگ کی عمارت کی تعمیر کے سلسلے میں اراضی کا حصول کیا گیا ہے جنہوں نے متعلقہ عمارت کے لئے دو کنال اراضی کی نشاندہی کی ہے اور اس اراضی کو محکمہ روزگار کو منتقل کیا جائے گا۔اُنہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ ایمپلائمنٹ کمپلیکس بمنہ سری نگر پر جاری تعمیراتی کام کی نگرانی کریں۔میٹنگ میں ڈائریکٹر ایمپلائمنٹ جے اینڈ کے یشپال سمن ، جوائنٹ ڈائریکٹر ایمپلائمنٹ کشمیر شاہد محمود ، ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ محمد اکبر اور محمد رفیق بٹ کے علاوہ دیگر افسران بھی موجود تھے۔
 
 
 

پکھر پورہ میں پینے کے پانی کی قلت 

سرینگر//پکھر پورہ میں پینے کے پانی کی سخت قلت پائی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ کے این ایس کے مطابق علاقے کو جانے والی پانی کی ترسیلی لائن میں جگہ جگہ پانی ضائع ہوتا ہے۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ اگرچہ انہوں نے پی ایچ ای حکام کو کئی بار صورتحال سے آگاہ کیا لیکن دوسال گزرنے کے باوجود بھی پانی بحال نہیں کیا گیا ۔مقامی لوگوں نے محکمہ پی ایچ ای کے اعلیٰ افسران سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے ۔
 
 
 

۔15اگست کی تقریبات:ڈی سی کپوارہ نے انتظاما ت کاجائزہ لیا

کپوارہ//ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ انشل گرگ نے افسران کی ایک میٹنگ میں ضلع میں مختلف محکموں کی طرف سے 15اگست کی تقریبات کے سلسلے میں کئے جانے والے انتظامات کاجائزہ لیا۔اہم تقریب کا انعقاد ضلع پولیس لائینز میں کیا جارہا ہے ۔اس موقعہ پر اے ڈی سی نے پروگرام کی تیاریوں کے بارے میں جانکاری دی۔میٹنگ میںفیصلہ لیا گیا کہ ضلع میں سب سے بڑی تقریب ڈسٹرکٹ پولیس لائینز کپوارہ میں منعقد ہوگی۔تقریب کا آغاز شہنائی وادھن سے ہوگا۔جبکہ مہمان خصوصی ترنگا لہرائیں گے جبکہ مہمان خصوصی پریڈ پر سلامی لیں گے۔جس میں سکولی بچوںسمیت مارچ پاسٹ میں حصہ لینے والے بچوں کو ڈسٹرکٹ یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس آفیسر یونیفارم فراہم کریں گے۔اس دوران ضلع ترقیاتی کمشنرنے تقریب کے شایانِ شان انعقاد کے لئے افسران کو قریبی تال میل کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی۔
سرکاری اراضی سے قبضہ ہٹانے کی مہم شروع
 
 
 

اولڈ ٹائون بارہمولہ میں دوسرے روز بھی ہڑتال

سرینگر// اولڈ ٹائون بارہمولہ میںگذشتہ روز جاں بحق ہوئے مقامی جنگجو عدنان کی یاد میں دوسرے روز بھی ہڑتال رہی جس دوران کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ سڑکوں پر سے ٹریفک کی نقل و حرکت بھی مسدود ہوکر رہ گئی ۔ ہڑتال کی وجہ سے اولڈ ٹائون بارہمولہ کی سڑکوں پر مکمل سکوت چھایا رہا ۔کے این ایس کے مطابق اس دوران انتظامیہ نے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر بارہمولہ میں احتیاطی طور پر تعلیمی اداروں میں کام کاج معطل رکھنے کے احکامات صادر کئے تھے جبکہ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے موبائل انٹرنیٹ سروس کی رفتار پر بھی کم کی تھی۔ادھر قصبہ کے اندرونی علاقوں میں فورسز کی اضافی ٹکڑیوں کو تعینات کیا گیا تھا تاکہ کسی بھی احتجاج سے بروقت نمٹا جاسکے۔ اولڈ ٹائون بارہمولہ، کوکر حمام، خانپورہ اور خواجہ باغ سمیت دیگر علاقوں میںسیکورٹی کو سخت کیا گیاتھا۔ کئی مقامات پر نوجوانوں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں نے اندرونی گلیوں سے فورسز پر پتھر کیا تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
 
 
 

ماہی پروری صنعت کا فروغ 

ریاست میں 20ہزار ٹن مچھلی کی پیداوار: سکندن

سر ی نگر//گورنر کے مشیر کے سکندن نے کہا ہے کہ ریاست میں مچھلی پالن کی صنعت کو فروغ دینے کے لئے فشریز اورایکواکلچر کا ایک وسیع پروگرام زیر عمل ہے۔مشیر موصوف نے ان باتوں کا اظہار زرعی یونیورسٹی کشمیر میں’’ فشریز اینڈ کلائمیٹ چینج‘‘ کے موضوع پر دو  روزہ قومی کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔اس موقعہ پر کے سکندن نے کہا کہ ماحولیات کی تبدیلی سے اشیاء خوردنی کے نظام پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تغذیہ حاصل کرنے کے لئے مچھلی ایک مناسب ذریعہ ہے۔مشیر موصوف نے ترقیاتی ضروریات اور ماحولیات کے درمیان توازن پیدا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں، سائنسدان اور لوگ مل کر ماحولیات کی تبدیلی پر قابو پاسکتے ہیں جس کی وجہ سے ایکو نظام پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ٹراؤٹ مچھلی کو جموں وکشمیر کی شان قرار دیتے ہوئے مشیر نے کہا کہ اس مچھلی کو تحفظ فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کے لئے مناسب اقدامات کئے جانے چاہئیں۔کانفرنس کے دوران مشیر نے اعلان کیا کہ سرینگر میں ایک ایکوا کلچر پارک قائم کی جائے گی جس کے لئے جگہ کی نشاندہی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ طالب علموں اور عام لوگوں کو اس سلسلے میں جانکاری فراہم کرنے کے لئے ایکوا کلچر پارک قائم کرنا لازمی ہے۔اس دو روزہ کانفرنس کا انعقاد زرعی یونیورسٹی کشمیر کے فشریز انجنیئرنگ ڈویثرن نے ارتھ سائنسز کی مرکزی وزارت کے اشتراک سے کیا ہے۔زرعی یونیورسٹی کشمیر کے وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد، ڈائریکٹر آئی سی اے آر۔ ڈی سی ایف آر بھیم تل،ڈاکٹر دیبھا جیت شرما، ڈین فکلٹی آف فشریز پروفیسر ایم ایچ بلخی، آرگنائزینگ سیکرٹری ڈاکٹر گوہر بلال وانی اور ایم اے ایف ایس یو کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اے ایس نیناوے نے بھی اس موقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔کانفرنس میں بتایا گیاکہ ریاست جموں وکشمیر میں سالانہ20 ہزار ٹن مچھلی کی پیداوار ہوتی ہے اور اس حقیقت کے باوجود کہ ریاست کی فقط50 فیصد آبادی مچھلیوں کا استعمال کرتی ہے،مچھلیوں کی مانگ اور پیداوار میں کافی تفاوت پائی جاتی ہے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زرعی یونیورسٹی کشمیر کے وائس چانسلر نے کہا کہ مچھلیوں سے نہ صرف لوگوں کو تغذیہ فراہم ہوتا ہے بلکہ اس صنعت سے بھارت کی جنوبی ریاستوں کے کئی لوگوں کو روز گار بھی فراہم ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مچھلی صنعت سے بھارت کے14 ملین لوگوں کو روز گار فراہم ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں تقریباً93ہزار لوگ مچھلی صنعت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ریاست میں سالانہ1.5 لاکھ ٹن مچھلی کی مانگ رہتی ہے تا ہم پیداوار فقط20 ہزار ٹن ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں مچھلی صنعت کو فروغ دینے کی وسیع گنجائش ہے اور ریاست میں50 ہزار ہیکٹرآبی رقبہ موجود ہے۔بعد میں مشیر نے یونیورسٹی کے طالب علموں کی جانب سے اس سلسلے میں تیار کئے گئے خلاصہ پر مبنی ایک کتابچہ کی رسم رونمائی انجام دی۔مشیر نے آئی سی اے آر نئی دہلی کی جانب سے زرعی یونیورسٹی کشمیر کو13 واں درجہ دیئے جانے پر یونیورسٹی کے عہدیداروں کو مبارک باد دی۔انہوں نے یونیورسٹی کی ایک ایم ایس سی طالبہ عنبرین ہمدانی کی اُن کی حصولیابی پر عزت افزائی کی۔
 
 
 

 صنعت و حرفت محکمہ کے التواء میں پڑے پروجیکٹ

نوین چودھری نے تکمیل کیلئے ڈیڈ لائین مقرر کی

سرینگر//پرنسپل سیکرٹری صنعت و حرفت نوین کمار چودھری نے ایک میٹنگ کے دوران محکمہ کی مجموعی کارکردگی اور التواء میں پڑے پروجیکٹوں کی صورتحال کا جائیزہ لیا۔ انہوں نے عمل آوری ایجنسیوں سے تلقین کی کہ وہ ہر ایک پروجیکٹ مارچ2020 تک مکمل کریں۔میٹنگ میں منیجنگ ڈائریکٹر سیکاپ اتل شرما، منیجنگ ڈائریکٹر سڈکو رویندر کمار، ناظم صنعت و حرفت کشمیر محمود احمد شاہ، ناظم صنعت و حرفت جموں انو ملہوترہ، ڈائریکٹر ای ڈی آئی طفیل متو، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے انڈسٹریز جاوید اقبال اور ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس اندر جیت بھی موجود تھے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ713.37 کروڑ روپے کی بقایا لاگت والے 92 پروجیکٹوں کو صنعت و حرفت محکمہ نے منظوری دی ہے۔ان میں سے45 پروجیکٹ بشمول انڈسٹریل اسٹیٹ ڈورو، ڈگیانہ، اودہمپور، کھریو، لیہہ اور کرگل شامل ہیں، سیکاپ کے حق میں منظور کئے گئے۔اس کے علاوہ37 پروجیکٹ بشمول انڈسٹریل اسٹیٹ سانبہ، کٹھوعہ، لاسی پورہ، رنگریٹھ اور کھنموہ سڈکو کو تفویض کئے گئے۔ اس کے علاوہ جے کے سیمنٹس کو4 پروجیکٹ بشمول انڈسٹریل اسٹیٹ بڑی براہمناں، سولنہ اور نوشہرہ ملے جبکہ جے کے سیمنٹس اور ہینڈی کرافٹس کو2/2 ، جے کے ای ڈی آئی اور جیالوجی اینڈ مائننگ کو التواء میں پڑے پروجیکٹوں کے زمرے میں ایک ایک پروجیکٹ ملا۔ہر محکمہ کے سربراہ نے زیر تکمیل پروجیکٹوں کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔میٹنگ میں مختلف پروجیکٹوں کی عمل آوری میں محکموں کو درپیش مشکلات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس کے علاوہ اب تک کیپکس کے تحت اخراجات اور رقومات کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔پرنسپل سیکرٹری نے افسروں کو آنے والے مہینوں کی کارکردگی کے تعلق سے ایک بار چارٹ تیار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے پروجیکٹوں کی تکمیل میں ڈیڈ لائین کا خیال رکھنے پر بھی زور دیا۔سیکرٹری موصوف نے مقامی انتظامیہ کو اعتماد میں لے کر اراضی سے جڑے معاملات اور دیگر امور حل کرنے کی بھی ہدایت دی۔انہوں نے التواء میں پڑے زمرے کے پروجیکٹوں کو ترجیح دے کر انہیں مارچ2020 تک مکمل کرنے کی ہدایت دی۔
 
 
 

 پہلا پولٹری ایسٹیٹ کا قیام

ترال میں پولٹری شعبہ کو مرکزبنایا جائے گا:ـ ڈاکٹر سامون

سر ی نگر//بھیڑ و پشو پالن محکمہ جنوبی کشمیر کے ترال علاقہ میں اپنی نوعیت کا پہلا پولٹری اسٹیٹ قائم کر رہا ہے جس سے ریاست میں پولٹری شعبۂ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آنے کی توقع ہے۔اس سلسلے میں بھیڑ و پشو پالن اور ماہی پروری محکمہ کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے ایک تصور پیش کیا ہے جس کی بنیاد پر منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔اس منصوبے سے ریاست میں پولٹری شعبۂ کو فروغ ملے گا ۔ یہ شعبۂ ہر سال ایک ہزار کروڑ روپے مالیت کی پولٹری درآمد کرتا ہے۔ڈاکٹر سامون کی صدار ت میں آج بھیڑ وپشو پالن محکمہ اور صنعت و حرفت محکمہ کے علاوہ مال اور منصوبہ بندی محکموں کے افسران کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں اس منصوبے کا جائیزہ لیا گیا۔میٹنگ میں ڈائریکٹر انیمل ہسبنڈری کشمیر پورنیما متل، ایم ڈی سڈکو رویندر کمار، ڈائریکٹر صنعت و حرفت محمود احمد شاہ، اے ڈی سی پلوامہ یٰسین چودھری، ڈائریکٹر پلاننگ شبیر شفیع، سی اے ایچ او ڈاکٹر منیر احمد قریشی، ایگزن سڈکو عبدالرشید بٹ اور دیگر افسران موجود تھے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ سکیم کا مقصد پولٹری یونٹ قائم کرنا ہے جس سے پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے کسانوں، تعلیم یافتہ اور بے روز گار نوجوانوں کو فائدہ ہوگا۔ڈاکٹر سامون نے محکمہ مال، سڈکو اور انیمل ہسبنڈری محکمہ کے افسران کو پولٹری اسٹیٹ قائم کرنے کی جگہ کا معائنہ کرنے کی ہدایت دی۔ ڈاکٹر سامون نے ریاست جموں وکشمیر کو پولٹری اشیاء کی پیداواریت میں خود کفیل بنانے کے لئے اُٹھائے جارہے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے نجی پولٹری فارمروں سے تلقین کی کہ وہ اس شعبۂ کو فروغ دینے کے لئے حکومت کے شانہ بشانہ کام کریں۔
 
 
 
 

فاروق خان بلٹ پروف گاڑی استعمال نہیں کرینگے

سرینگر//گورنر کے نئے مشیر فاروق احمد خان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سرینگر اور جموں شہروں میں بُلٹ پروف گاڑی کا استعمال نہیں کریں گے۔مشیر موصوف نے کہا کہ وہ سرینگر شہر اور جموں کے اضلاع میں کسی پائلٹ گاڑی، بُلٹ پروف ایسکارٹ اور  بُلٹ پروف سِٹنگ وہیکل کا استعمال نہیں کریں گے۔ تا ہم مشیر نے کہا کہ وہ کشمیر کے دیگر اضلاع کے دورے کے دوران اسکارٹ اور بی پی گاڑی کا استعمال کریں گے۔
 
 
 

 کلبھوشن یادو کیلئے انصاف کامعاملہ

عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ خو ش آئند:عمران خان

سرینگر//پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو بھارت واپس نہ بھیجنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عمران خان نے لکھا کہ عالمی عدالت انصاف کا کمانڈر کلبھوشن یادیو کو بے گناہ قرار دے کر رہا اور بھارت کو واپس نہ بھجوانے کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔انہوں نے لکھا کہ وہ پاکستانی عوام کے خلاف جرائم کا ذمہ دار ہے اور پاکستان قانون کی روشنی میں آگے بڑھے گا۔
 
 
 

 مطالبہ صحیح لیکن کشمیری قوم کو بھی انصاف فراہم کیا جائے:حریت گ

سرینگر//کلبوشن جادھو کے بارے میں عالمی عدالت کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے حریت (گ)نے کہاہے کہ ہم نے کبھی نہیں چاہا کہ کسی شخص یا قوم کو انصاف نہ ملے۔ کسی بھارتی شخص کو بقول ان کے انصاف دلانے کیلئے بھارت نے کہا کہ وہ کسی بھی حد تک جاسکتا ہے اور وہ کلبوشن جادھو کیلئے عالمی عدالت تک بھی گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کلبوشن قصوروار ہے یا نہیں، ان کو سزا ملنی چاہیے یا رہائی، یہ بہرحال عدالت انصاف کے مناصب پر فائز افراد کا کام ہے کہ وہ اپنے ضمیر اور شواہد کی بنیاد پر اس شخص کے بارے میں آئینی اور قانونی تقاضوں کو پورا کریں، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایک فرد کو انصاف دلانے کے لیے ایک ملک اپنے تمام وسائل بروئے کار لاسکتا ہے تو ایک قوم جس کا مسئلہ گزشتہ قریباً ایک صدی سے خود بھارت ہی اقوامِ عالم کے سامنے لے گیا ہے، کو اب تک انصاف سے کیوں محروم رکھا گیا؟ اس کے برعکس جب بھی اس قوم نے عالمی سطح پر کئے گئے وعدوں، وہاں منظور شدہ قراردادوں اور عالمی اصولوں اور عدل وانصاف کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوششیں کی تو انہیں خاموش کرانے کیلئے طاقت کا بے تحاشا استعمال کیا گیا۔ اپنے پورے سسٹم اور طاقت کو اس آواز کو کچلنے کے لیے بروئے کار لایا گیا اورلایا جارہا ہے۔ حریت نے کہا جس طرح بھارتی حکمران ایک فرد کی زندگی کے لیے بے قرار ہوکر انصاف دلانے کے لیے اُس کی پشت پر کھڑے ہیںاسی طرح ڈیڑھ کروڑ انسانوں کی آبادی کو عذاب وعتاب سے نکالنے اور ان کی بقاء کے لیے یہ سرکار اور اُن کے عوام کیوں تیار نظر نہیں آرہے ہیں۔ ’’جمہوریت‘‘ کا دعویٰ کرنے والے بھارت جیسے ملک کے یہ شایان شان نہیں ہے کہ وہ ایک مظلوم قوم کے جمہوری اور پیدائشی حق کو بروز قوت دبائے۔ مسئلہ کشمیر جیسے دیرینہ تنازعہ کو پرامن طریقہ پر حل کرنے کے بجائے اس کو اپنی انا اور وقار کا مسئلہ بناتے ہوئے لوگوں کے خون کی ہولی کھیل کر جمہوری قدروں کو پامال کرنا کیا بھارت کا دہرا معیار ظاہر نہیں کررہا ہے؟ 
 
 
 

بھارت سلامتی کونسل سے رجوع کرے: بھیم سنگھ 

سرینگر//نیشنل پینتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندوستانی بحریہ کے ریٹائرڈ بحری افسر کلبھوشن جادھو کے معاملے کی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت میںہندستان کی نمائندگی کرنے والے جیورسٹس کے کردار کی تعریف کی ہے۔پینتھرس سربراہ نے سلامتی کونسل سے معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی کہ وہ پاکستان کو حراست میں لئے گئے کلبھوش جادھو کو جلد از جلد رہا کرنے کی ہدایت دے، کیونکہ اب اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ ان کی گرفتاری کے بعد انہیں اذیت اور پاکستان کی جیل میں فوجی حراستی قانون کے تحت ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور پہلے ہی دن سے ان کی حراست غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف تھی۔ یہ ایک بین الاقوامی ذمہ داری ہے کہ کلبھوش جادھو کو جلد سے جلد مناسب معاوضے کے ساتھ رہا کیا جائے، جو کہ بین الاقوامی قانون کی روح سے ضروری ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کے خاندان کو بھی دیکھ بھال، تمام مدد اور طبی مدد کے لئے مناسب معاوضہ بھی فراہم کیا جائے جو برسوں سے مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ حکومت ہند کو بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کے نفاذ کے لئے بغیر کسی تاخیر کے سلامتی کونسل جانا چاہئے
 
 
 

دردسن ریشی گنڈ میں متعدد افراد دست اور قے کی بیماری میں مبتلا ،علاقہ میں میڈیکل ٹیم روانہ 

کپوارہ//اشرف چراغ //کرالہ پورہ کے مضافاتی گائو ں درد سن بالا اور ریشی گنڈ علاقے میں دو روز سے دست اور قے کی بیماری نے متعدد افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کی وجہ سے لوگو ں میں زبردست تشویش پائی جارہی ہے ۔علاقہ کے لو گو ں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو روز سے یہا ں پر دست اور قے کی بیماری پھوٹ پڑی ہے۔ اس علاقہ میں محکمہ صحت کی جانب سے ایک سب سنٹر قائم کیا گیاہے لیکن وہاں ڈاکٹر تعینات نہیں ہیں ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ اس علاقہ میں اگرچہ واٹر سپلائی سکیم کے ذریعے پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے تاہم و ہ اس قدر نا صاف ہوتا ہے کہ و ہ اس پانی کو استعمال کرنے سے کتراتے ہیں اور جہا ں پینے کے پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے وہا ں پر لوگ ندی نالو ں کا ناصاف پانی استعمال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔علاقہ میں دست اور قے کی بیماری پھو ٹ جانے کے بعد بلاک میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد شفیع نے فوری طور ایک میڈیکل ٹیم کو علاقہ میں روانہ کیا اور وہا ں بیماری میں مبتلا افراد کا علاج و معالجہ کیاگیا ۔انہو ں نے بتا یا کہ اس بیماری پر قابو پا لیا گیا اور لوگو ں کو گھبرانے کی کوئی بھی ضرورت نہیں ہے ۔اس دوران محکمہ صحت نے کہا کہ گرمیو ں میں نا صاف پانی استعمال کرنے کی وجہ سے ایسی بیماریا ں پھو ٹ پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور اس میں لوگو ں کو سخت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔انہو ں نے لوگو ں سے کہا کہ وہ ابال کر پانی کا استعمال کریں تاکہ کوئی بھی مہلک بیماری پیدا نہ ہوسکے ۔
 
 
 

۔13جولائی1931کے شہداء پر ورکرمادتیا کا بیان 

کانگریس موقف واضح کرے رحمان ویری

سرینگر //پی ڈی پی نے 1931کے شہدا کے متعلق وکرم آدتیہ سنگھ کے ریمارکس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تحقیرانہ، شرانگیز اور فرقہ پرست ذہنیت کی عکاس قرار دیا۔پارٹی نے کانگریس پر برستے ہوئے کہا کہ وہ ڈرامہ بازی کا سہارا لے کر ایک طرف مزار شہدا جاکر فاتحہ خوانی میں حصہ لیتی ہے تو دوسری جانب انہی شہدا کی تحقیر کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتی۔پیپلز ڈیموکریک پارٹی نے شمالی کشمیر میں پارٹی کی کارکردگی سے متعلق تفصیلات جاننے اور آگے کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے جمعرات کو پارٹی کے نائب صدر عبدالرحمٰن ویری کی صدارت میں ایک خصوصی میٹنگ منعقد کی جس میں شمالی کشمیر میں پارٹی کارکنوں کی زمینی سطح پر کارکردگی سے واقفیت حاصل کرنے اور آگے کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کرنے پر توجہ مرکز کی گئی۔اس موقعے پر وکرم آدتیہ سنگھ کی جانب سے 1931کے شہداء کیخلاف ادا کئے گئے ریمارکس پر پارٹی نے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے تحقیرانہ، شر انگیز اور فرقہ پرست ذہنیت کی عکاس قرار دیا۔پارٹی ترجمان کے بقول ، نائب صدر عبدالرحمٰن ویری نے جمعرات کو شمالی کشمیر کی صورتحال سے واقفیت حاصل کرنے کیلئے خصوصی میٹنگ کی صدارت کی جس میں شمالی کشمیر سے وابستہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔ میٹنگ کے دوران ریاست کی تازہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کے علاوہ ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے تحفظ اور ریاستی مفادات کی حفاظت کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔میٹنگ کے دوران اس بات کو اُجاگر کیا گیا کہ مخلوط حکومت میں رہنے کے باوجود پارٹی نے کس طرح ریاستی مفادات کی حفاظت کو یقینی بنانے میں اپنا منصبی کردار ادا کیا۔ترجمان کے مطابق میٹنگ کے دوران شرکا پر باور کرایا گیا کہ مخلوط حکومت جس کا بی جے پی حصہ تھی، کے دوران کس طرح پی ڈی پی نے دفعہ 35Aکی حفاظت کیلئے ملک کے نامور وکلا کی خدمات کو حاصل کرتے ہوئے خصوصی پوزیشن کی حفاظت کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔پارٹی کے نائب صدر عبدالرحمٰن ویری نے میٹنگ کے دوران شرکار پر زور دیا کہ فی الوقت اس بات کی ضرورت ہے کہ زمینی سطح پر پارٹی کو کیسے مضبوط کیا جائے۔اس موقعے پر پارٹی کے جنرل سیکرٹری غلام نبی ہانجورہ نے وکرم آدتیہ سنگھ کی جانب سے 1931کے شہداء کے متعلق دئے گئے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ہانجورہ نے وکرم آدتیہ سنگھ کے بیان کو تحقیرانہ، شر آنگیزاور فرقہ پرستانہ سوچ کی عکاس قرار دیا۔وکرم آدتیہ سنگھ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے غلام نبی ہانجورہ نے کہا کہ کانگریس لیڈر کو پہلے تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے اور اس بات کو جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کن مقاصد کی خاطر 1931کے شہدا نے اپنی عظیم جانوں کی قربانیاں پیش کی۔انہوں نے کہا کہ کانگریس لیڈر کے بیان ان کی فرقہ پرستانہ سوچ واضح ہوجاتی ہے۔
 
 
 

بیمار ذہنیت کا عکاس  سوز سیخ پا

سرینگر//سینئر کانگریس لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہاہے کہ وکرمادتیہ سنگھ کا بیان انتہائی نامعقول ہے اور اس طرح کی فرقہ پرستی کی حامل سوچ کو کانگریس میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔سوزنے کہا کہ ’’وکرما دتیہ سنگھ نے بہت ہی منحوس اور مذموم طریقے سے اُس وقت اپنے بیمار ذہن کو اُجاگر کیا ہے جب اُس نے 13 جولائی 1931ء؁ کے عظیم مجاہدوں اور شہیدوں سے متعلق اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے بے حرمتی کی ہے۔ ان افسوس ناک، بیہودہ اور فرقہ پرستانہ خیالات کو پوری نفرت کے ساتھ رد کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ وکرمادتیہ سنگھ کو اپنی اس مہلک ذہنی بیماری کا علاج ناگپور جا کر آ ر ایس ایس کی دہلیز پر ڈھونڈنا چاہئے۔پروفیسر سوز نے کہاکہ انہوں نے کانگریس پریذیڈنٹ راہول گاندھی کو زبردست طریقے سے بتایا ہے کہ ایسے بیمار ذہنوں جن سے انتہائی فرقہ پرستانہ خیالات کی بدبو آتی ہے ، کانگریس سے باہر نکالا جانا چاہئے۔سوز کے مطابق انہوں نے ایس ایس پی کشتواڑ شری شکتی پاٹھک اور ایڈیشنل ایس ایس پی شری ناصر احمد اور کشتوار کے متعلقہ تھانہ دار شری اعجاز احمد وانی کو قواعد کے تحت استدعا کی ہے کہ وہ مفاد عامہ میں اُس درخواست کو جو سجاد احمد نجار ڈسٹرکٹ پریذیڈنٹ کانگریس پارٹی کشتواڑ نے کشتواڑ کی سی جے ایم کورٹ میں داخل کی ہے اور اُن سبوں کو اُس کی نقل بھی پہنچائی ہے ، اُسی درخواست کو وہ ایف آئی آر میں تبدیل کریں اور وکرما دتیہ سنگھ کے خلاف قانون کے تحت کاروائی شروع کریں۔‘‘
 
 

تازہ ترین