وادی کشمیر میں منشیات کا بڑھتااثر تشویشناک

قوم اس وباء کی تباہ کاریاں روکنے کیلئے آگے آئے :گیلانی

تاریخ    18 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   


نیو ڈسک
سرینگر// حریت (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے وادی میں منشیات کے کاروبار اور اسکے استعمال کی وباء تیزی کے ساتھ پھیلنے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ مصیبتوں اور عذاب وعتاب میں گری یہ قوم اب ایک نئی لعنت کی دلدل میں دھنسی جارہی ہے۔گیلانی نے کہاکہ طبی ماہرین اور اداروں کے رپورٹس سے ہمارے پاؤں تلے زمین کھسک رہی ہے۔ اعدادوشمار چونکا دینے والے ہیں جن پر نہ چاہتے ہوئے بھی یقین کرنا ضروری ہے۔ 2015؁ء کے بعد ہر سال اس وباء میں پھنسے لوگوں میں چھ ہزار سے زیادہ کا تشویشناک اضافہ ہورہا ہے جن میں خواتین خصوصاً نوجوان لڑکیوں کی اچھی خاصی تعداد شامل ہے۔ چادر اور چاردیواری کو پہلے ہی روند ڈالاگیا تھا اب اس نئی مصیبت نے تمام اخلاقی اور انسانی حدبندیوں کو پھاند کر معاشرے کی بنیادوں کو ہلاکے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات میں ملوث افراد کا مضبوط مافیا ایک متحرک اور فعال نیٹ ورک کی بدولت سماج کے ہر طبقے کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حریت رہنما نے کہا کہ 8ویں سے لے کر بارہویں تک کے اسکولی بچے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ شراب کو امہ الخبائث قرار دے کر انہوں نے کہا کہ اس بدعت سے سالانہ 25لاکھ نفوس موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ جانی نقصان کے ساتھ ساتھ منشیات سے انسان اپنی عمر بھر کی جمع پونجی سے بھی ہاتھ دھوبیٹھتا ہے۔ شروع شروع شوقیہ طور پر استعمال ہونے والی ادویات اس نوجوان کی زندگی کی سب سے اہم ضرورت اور مجبوری بن جاتے ہیں جس کو حاصل کرنے کے لیے یہ لوگ کسی بھی حد تک جانے کے لیے خود کو آمادہ پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہمارے لخت جگروں کی ہلاکتیں، حراستی تشدد، قیدخانوں میں ناقابل بیان ٹارچر، پُرامن مظاہروں میں زخمی، مخدوش اور مستقبل کی غیر یقینیت، عدالتوں اور پولیس تھانوں میں حاضری جیسے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے ہمارے دشمن کو تسلی نہیں ہوئی کہ اب ہماری نئی پود کو ایک منصوبہ بند طریقے سے منشیات کی دلدل میں دھنسایا جارہا ہے۔ اس سے قبل کہ یہ سیلاب ہمارے رہے سہے سماجی اور معاشرتی ڈھانچے کو خس وخاشاک کی طرح بہالے، ہمیں اس کے سدّباب کے لیے بحیثیت قوم آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے حال ہی میں علماء کی طرف سے اس حوالے سے آگاہی اور اس پر غوروفکر کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وبا کو گھر، خاندان، محلہ، گاؤں، قصبہ اور معاشرے کی سطح پر روکنے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی۔ والدین پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر اُن کی حرکات وسکنات ، ان کے دوست احباب اور روزمرہ کے معمولات پر گہری نظر رکھیں تاکہ شروع میں ہی اس وباء کے اثرات کو بھانپ کر اس پر روک لگا سکیں۔ اسکول انتظامیہ اور خاص کر اساتذہ حضرات کو اس معاشرتی بیماری سے نئی نسل کو بچانے کے لیے اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ گیلانی نے کہاکہ منشیات کا وسیع کاروبار کرنے والوں کے سرغنوں کو بے نقاب کرکے ہی اس وبا کو جڑ سے ختم کیا جاسکتا ہے، ورنہ سماج کی گہرائیوں میں پوست جڑوں کو سیراب کرکے صرف اوپری سطح پر نظر آرہے چند ٹہنیوں کو کاٹنے سے اس دیو قامت مصیبت سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں ہے۔
 

تازہ ترین