نجی اسکولوں میں فیس اور اساتذہ کی تنخواہوں کا معاملہ | نجی اسکول انجمنوں کا جسٹس(ر)حکیم امتیاز کے ساتھ تبادلہ خیال

تاریخ    22 مئی 2019 (00 : 01 AM)   


نیو ڈسک
سرینگر//جموں کشمیرجوائنٹ کارڈنیشن کمیٹی آف پرائیویٹ اسکولز اورجموں کشمیرپرائیویٹ اسکولزایسوسی ایشن جموں نے یہاں فیس فکزیشن کمیٹی کے چیئرمین جسٹس(ر)امتیازحسین سے ملاقات کی۔جموں کشمیر جوائنٹ کارڈنیشن کمیٹی آف پرائیویٹ اسکولزکے صدر شوکت چودھری اورجنرل سیکریٹری جموں کشمیر پرائیویٹ اسکولزایسوسی ایشن جموں اجے گپتا کی قیادت میں وفدجس میں یوسف منظر ،رامیشورسنگھ منہاس ،رام پرکاش اور دیگر شامل ہیں نے فیس فکسیشن کمیٹی کے چیئرمین کا حکم نامہ نمبر01ایف ایف سی2019،جس میں متعدد معاملات کوایڈریس کیا گیا ہے،جاری کرنے کیلئے شکریہ اداکیا۔ملاقات کے دوران وفد نے چیرمین فیس فکسیشن کمیٹی کی توجہ تازہ حکمنامہ 01ایف ایف سی2019کے 8نمبر کے نکتہ کی جانب مبذول کرائی جس میں نجی اسکولوں کو داخلہ فیس چارج کرنے سے روکا گیاہے۔صدرجموں کشمیرجوائینٹ کارڈنیشن کمیٹی آف پرائیویٹ اسکولزنے چیئرمین ایف ایف سی کو بتایا کہ یہ حکم جموں کشمیراسکول ایجوکیشن ایکٹ 2002کے تحت ایس آراو123جو18مارچ2010کوجاری کیاگیا،کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایکٹ کے ضابطہ 9بعنوان ’لیوی وفیس کلکشن‘کے مطابق داخلہ فیس ایک بار بچے/طالبعلم کے اسکول میں نام درج کرانے کے وقت وصول کیاجائے گا۔شوکت چودھری نے جسٹس امتیازحسین کوبتایا کہ داخلہ فیس اسکول کے ڈ ھانچے کی ترقی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جس سے اسکول اور طالبعلموں دونوں مستفیدہوتے ہیں ۔ وفد نے چیرمین ایف ایف سی کو اس حکم پرنظر ثانی کرنے کی اپیل کی۔چودھری نے اُنہیں یہ بھی بتایا کہ نجی اسکولوں نے فیس میںکم سے کم 8فیصد سالانہ اضافہ کرنے کی گزارش کی تھی،جبکہ تازہ حکم کے پوائنٹ نمبر5میں 6فیصداضافے کومنظور کیا گیا ۔ انہوں نے چیئرمین ایف ایف سی کو بتایا کہ اسکول اساتذہ اوردیگر ملازمین کی تنخواہوں میں سالانہ اضافہ کرتے ہیں اوراساتذہ کی تنخواہوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاتا۔انہوں نے کہا کہ اگرہم اساتذہ کو معقول تنخواہ دیں گے تب ہی وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرپائیں گے ۔ہم اساتذہ میں سرمایہ لگاتے ہیں اورانہیں اچھی تنخواہ دیتے ہیں اور وہ ہمیں بہتر نتائج دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے ۔اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ اور دیگر اخراجات تب ہی ممکن ہیں جب سالانہ فیس ڈھانچے میں 8فیصد کااضافہ ہو۔وفد نے درخواست کی کہ فیس میں سالانہ اضافہ 6فیصد سے بڑھا کر 8فیصد کیاجائے ۔وفد نے فیس ڈھانچے سے متعلق دستاویزات داخل کرنے کی تاریخ میں توسیع کا بھی مطالبہ کیا۔وفد نے چیئرمین ایف ایف سی کاان کے مطالبات بغور سننے کیلئے شکریہ اداکیااورانہیں یقین دلایا کہ وہ محکمہ تعلیم کے ساتھ طلباء کو بہتر تعلیم فراہم کرنے کیلئے ہرممکن تعاون کریں گے۔اس دوران چیئرمین جے کے جے سی سی پی ایس نے تمام ممبران سے کہا ہے کہ وہ فیس ڈھانچے سے متعلق اپنی فائلیں ایف ایف سی کے پاس داخل کرائیں۔
 

تازہ ترین