مزید خبرں

تاریخ    16 مئی 2019 (00 : 01 AM)   


گزشتہ 20دنوں میں پونچھ پولیس کی منشیات مخالف کاروایاں

۔10افراد گرفتار،2پر پی ایس اے عائد،2کلو ہیروئن کے علاوہ دیگر منشیات ضبط 
عشرت حسین بٹ
پونچھ//ضلع پونچھ میں بڑھ رہی منشیات لت پر شکنجہ کستے ہوئے پونچھ پولیس نے گزشتہ20دنوں میں 10 افراد کو گرفتار کیا ہے جس دوران دو ملزموں کو پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت گرفتار کیا گیا جبکہ آٹھ افراد پر این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی ۔پولیس نے منشیات اسمگلنگ کی مختلف کارروائیوں میں 2کلو ہیروئن کے علا وہ دیگر منشیات بھی ضبط کی گئی ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ کے دوران متعدد نوجوانوں منشیات کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے تھے جس کے بعد پولیس کی جانب سے ضلع بھر میں منشیات اسمگلنگ ومنشیات سے متعلق دیگر کاروبار کیخلاف کارروائی شروع کی گئی ۔پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ 20دنوں کے دوران دس منشیات اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے 2پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے)عائد کیا گیا ہے جبکہ اس سلسلہ میں مختلف پولیس اسٹیشنوں میں معاملات درج کر کے مزید تحقیقا ت شروع کی گئی ہیں ۔اعداو شمار کے مطابق پولیس نے گزشتہ اور رواں ماہ کے دوران این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت آٹھ معاملات درج کئے ہیں جن میں سے دو کے چلان عدالت میں پیش کئے گئے ہیں جبکہ7 افراد عدالت کی تحویل میں ہیں اور تین افراد پولیس ضمانت پر ہیں ۔ان کارروائیوں کے دوران 2کلو ہیروئن ،159گرام چرس ودیگر منشیات اور ممنوع کیپسول بھی ضبط کئے ہیں تاہم اس مہم کے دوران منشیات کی فصل کو بھی تباہ کیا گیا ہے ۔پولیس کی جانب سے شروع کی گئی مہم پر پی ڈی پی سنیئر لیڈر شمیم احمد نے کہا ہے کہ ضلع پولیس کی جانب سے شروع کارروائیاں خوش آئند ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پولیس مذکورہ معاملہ پر سنجیدگی کیساتھ کام کر رہی ہے ۔موصوف نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ پولیس معاشرے کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے اپنی کارروائی مزید سخت کرئے گی ۔منڈی ویلفیئر فورم کے صدر طارق منظور نے پونچھ پولیس کی کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ پولیس اور سیول سوسائٹی غیر قانونی کاموں کیخلاف قدم بہ قدم ہے ۔ایس ایس پی پونچھ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ منشیات کا کارو بار کرنے والوں کو کسی قیمت پر نہیں بخشا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ مہم یں مزید سرعت لائی جائے گی ۔
 

 ڈگری کالج مینڈھر میں سٹاف کی قلت 

خالی پڑی اسامیوں کو ترجیحی بنیادوں پر پُر کیا جائے :عوام 

جاوید اقبال 
مینڈھر//گورنمنٹ ڈگری کالج مینڈھر میں کئی اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے ۔ڈگری کالج میں تعلیم سرگرمیوں کو معیاری بنانے کیلئے لیکچراروں کی 26اسامیاں منظور کی گئی ہیں جبکہ اس وقت صرف 17لیکچرار ہی تعینات کئے گئے ہیں اسی طرح نان ٹیچنگ سٹاف کی بھی قلت پائی جارہی ہے ۔کالج پرنسپل ڈاکٹر عبدالروف نے بتایا کہ کالج میں ٹیچنگ او ر نان ٹیچنگ سٹاف ممبران کی قلت پائی جارہی ہے جس کی وجہ سے پورا تعلیمی نظام متاثر ہو رہاہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت کالج میں نان ٹیچنگ ،درجہ چہارم کی مجموعی طورپر 18پوسٹ منظور کی گئی ہیں جن میں سے صرف 9ہی تعینات ملازمین ہیں ۔مقامی لوگوں نے ریاستی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مینڈھر کالج میں سٹاف کی قلت کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی متا ثر ہو رہی ہے لیکن انتظامیہ کی جانب سے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔تعظیم حسین شاہ نامی ایک شخص نے بتایا کہ گور نمنٹ ڈگری کالج مینڈھر میں سٹاف کے قلت کے سلسلہ میں کئی بار اعلیٰ انتظامیہ سے اپیل کی گئی تاہم اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔مقامی لوگوںنے ریاستی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مینڈھر کالج میں عملے کی قلت کو دور کیا جائے تاکہ طلباء کو سہولیات میسر ہو سکیں ۔
 
 

مینڈھر میں سیاحت محکمہ کی عمارت مکمل ہو نے کے بعد بھی بند 

جاوید اقبال
مینڈھر//محکمہ سیاحت کی جانب سے سیاحوں کی سہولیات کیلئے تعمیر کردہ عمارت مکمل ہو نے کے بعد بھی بند ہے ۔مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ کروڑوں روپے خرچنے کے بعد عمارت کومکمل کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد مذکورہ عمارت کو عوامی استعمال میں نہیں لایا گیا ۔مقامی لوگوں کے مطابق محکمہ ٹورازم کی جانب سے عمارت میں پانی ،بجلی ودیگر بنیادی سہولیات بھی دستیاب رکھی ہوئی ہیں جبکہ مینڈھر عوام کو پروگرام منعقد کر نے کیلئے کوئی بھی جگہ دستیاب نہیں ہے اور ڈاک بنگلہ کی عمارت مکمل نہ ہو نے کی وجہ سے لوگوں کو کمرے دستیاب نہیں ہوتے تاہم دوسری جانب محکمہ سیاحت کی عمارت میں سیاحوں کیلئے تعمیر کردہ دس سے زائد کمرے موجود ہیں لیکن اس کے باوجود بھی مذکورہ عمارت کو عوامی استعمال میں نہیں لا یا جارہاہے ۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ عمارت کو جلد ہی عوامی استعمال میں لایا جائے ۔اس سلسلہ میں ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ نے بتایا کہ مذکورہ عمارت کے استعمال کے سلسلہ میں ٹینڈر نکالے گئے تھے لیکن کسی نے بھی ٹینڈر نہیں ڈالا جس کی وجہ سے مذکورہ عمارت کو عوامی استعمال میں نہیں لایا گیا ۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں دوبارہ سے ٹینڈر نکالا جائے گا تاکہ عمارت کو استعمال میں لایا جاسکے ۔
 

شیئرمارکیٹ سے پیسے ہڑپنے کا معاملہ 

مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت سے جعلی بینک کھولا گیا :عوام 

جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر کی عوام نے انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہو ئے کہاکہ شیئرمارکیٹ کے نام پر جعلی بینک کھولنے کے دوران مقامی سیول اورپولیس انتظامیہ نے مبینہ طورپر لیٹروں کا ساتھ دیا ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ مذکورہ جعلی بینک میں کچھ ہی دنوں میں اربوں روپے جمع کئے گئے اور بعد میں لیٹرے فرار ہو گئے تاہم مقامی سیول اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی بھی کارروائی عمل میں نہیں لائی ۔لوگوں نے کہاکہ اس پورے معاملے کے پیچھے کچھ اثر و رسوخ رکھنے والے افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں جبکہ ریاستی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس سلسلہ میں پوری تحقیقات کر کے سچائی کو سامنے لائے ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ شیئر مارکیٹ نامی جعلی بینک میں کام کر نے والوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جس سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ کام کرنے والوں کے والدین و دیگر لواحقین بھی مذکورہ عمل میں ملوث ہیں ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ اس معاملہ کی تحقیقات کروا کر متاثر ین کو پیسہ واپس دلایا جائے ۔
 
 

سرنکوٹ کے کئی سیاحتی مقامات انتظامیہ کی نظروں سے اوجھل 

بختیار حسین
سرنکوٹ// سرنکوٹ کے کئی ایک سیاحتی مقامات ابھی بھی ریاستی انتظامیہ و متعلقہ محکمہ نظروں سے اوجھل ہیں ۔سرحدی ضلع پونچھ کے سرنکوٹ علا قہ میں جبی توتی کے مقام پر ایک بہت حوبصورت مرگ موجود ہے اور اسی طرح سے تاریخی نوری چھم، پیر گلی،شاہ ستار ،جموں شہید، چرلاں، پمروٹ، سہڑی خواجہ،کے ساتھ ساتھ کئی ایسے مقامات موجود ہیں جن کو سیاحتی نقشے پر لایا جاسکتا ہے ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سرنکوٹ کی پہاڑی وادیوں کو سیاحتی نقشے پر لانے کے سلسلہ میں انتظامیہ کی جانب سے کاغذوں میں لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن زمین سطح پر ان سیاحتی مقامات کی بہتری کا کو ئی ثبوت ہی نہیں ملتا ۔سرپنچ خالد مغل ماڑہ نے بتایا کہ ماڑا میں بہت خوبصورت مرگ موجود ہیں اور دیرہ والی گلی بھی کسی سیاختی مقام سے کم نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت مغل شاہرہ پر ملک بھر سے آے ہوئے سیاخ ہزاروں کی تعداد میں سرنکوٹ کے نوری چھم ،دیرہ گلی، پیر گلی و دیگر سیاختی مقامات سے گزر کر وادی کشمیر کی جانب جاتے ہیں لیکن انتظامیہ کی جانب سے خطہ پیر پنچال میں آنے والے سیاحتی مقامات کی ترقی کو ممکن ہی نہیں بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے کئی سیاحتی مقامات کو نقشے پر نہیں لایا جاسکا ۔مقامی لوگوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سرنکوٹ کے سیاحتی مقامات کو سیاحتی نقشے پر لانے کیلئے معقول انتظامات کئے جائیں ۔
 
 

ٹریفک پولیس کی غیر قانونی پارکنگ کیخلاف مہم شروع 

بختیار حسین
سرنکوٹ// ٹریفک پولیس نے سرنکوٹ میں غیر قانونی پورکنگ کیخلاف مہم شروع کر دی ہے جس کے دوران غیر قانونی طورپر قصبہ کی سڑکوں کو کھڑی کی گئی گاڑیوں کو اٹھایا گیا ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ سرنکوٹ بازار میں غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے ہر دن جام جیسی صورتحال رہتی ہے جس کی وجہ سے مسافروں کیساتھ ساتھ عام راہگیروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔تنویر احمد نامی ایک مقامی شخص نے بتایا کہ سڑک کنارے کی گئی غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے ہمیشہ راہگیروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم پولیس کی جانب سے شروع کی گئی کارروائی کی وجہ سے عام لوگوں کو فائدہ ہو سکتا ہے ۔ٹریفک پولیس کے مطابق غیر قانونی پارکنگ کیخلاف شروع مہم کے دوران چھ گاڑیوں کو اٹھا یا گیا ہے اور اس سلسلہ میں جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ غیر قانونی عمل میں ملو ث افراد کیخلاف کارروائی جاری رہے گی ۔
 
 
 

 چوہدری بشیر احمد نازکی خد مات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا :مولانافتح محمد

مینڈھر//مولانافتح محمدمہتمم دارالعلوم محمودیہ مینڈھرو صدرمجلس نوجوانانِ اہلسنت والجماعت ضلع پونچھ نے کہاکہ چوہدری بشیر احمد ناز کی خطہ پیر پنجال کے عوام الناس کے تئیں مثالی خدمات کو تادیر یا درکھا جائے گا مولانا نے کہا کہ مرحوم ایک انتہائی باہوش سیاسی قائد تھے ۔انہوں نے کہاکہ مرحوم اپنے قول و فعل سے ایک معتدل مزاج انسان تھے انکی موت علاقہ کے لئے ایک بڑا سانحہ ہے اللہ تعالی انکی مغفرت فرمائے اور ان کے جواں سال خلف الرشید ریاض ناز کو سلمہ کو ا حوصلہ اور اسباب عطافرمائے کہ وہ انکے انسانی خدمت کے مشن کو آگے بڑھا سکیں مولانا نے کہاکہ ان کا تعلق تادیر یاد رکھے جانے کے لائق ہے اللہ تعالی رحم کرے وہ بڑی خوبیوں کے حامل تھے۔
 
 

سمبل مبینہ عصمت دری معاملہ

ملوث درندہ کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے:محمد بشیرمیر

 پونچھ//نائب صدر شیعہ فیڈریشن صوبہ جموں محمد بشیر میر نے سمبل سوناواری میں واقعہ تین سالہ بچی کے ساتھ ہوئے عصمت ریزی معاملہ میں ملوث درندہ صفت لڑکے کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس سانحہ کو انتہائی شرمناک قرار دیا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعہ کی فوری طور تحقیقات کرکے ملزم کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ چند شرپسند عناصر اس واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگت دینے کی کوشش کررہے ہیں جس کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ دونوں ملزم اور مظلوم مسلمان ہیں اور یہ واقعہ تمام مسلمانوں کے لئے انتہائی دردناک اور شرمناک  ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دل دہلانے والے واقعات سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس طرح اخلاق گراوٹ کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
 
 

کلچرل اکیڈمی کی جانب سے ڈگری کالج سرنکوٹ میں نعتیہ مشاعر ے کا اہتمام 

پونچھ//اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز کے زیراہتمام گورنمنٹ ڈگری کالج سرنکوٹ ایک نعتیہ مشاعرے منعقد کیا گیا جس کی صدارت معروف شاعر شیخ نظیرآزادؔ نے کی جب کہ اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے ڈگری کالج سرنکوٹ کے پرنسپل سید مسرف حسین شاہ موجود رہے۔ نعتیہ مشاعرے میں ابتدائی کلمات پیش کرتے ہوئے اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز راجوری پونچھ کے کلچر آفیسر ڈاکٹر علمدار عدم نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموںکا انعقاد صرف اور صرف یہاں کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی کی جانب سے جگہ جگہ ماہ رمضان میں نعتیہ محافل منعقد کی جا رہی ہیں تاکہ اس ماہ میں ان شعراء کو نعت کہنے کا موقع فراہم کیا جائے ۔اس نعتیہ مشاعرے کا با ضابطہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کے بعد ڈگری کالج سرنکوٹ کے طلبہ نے بھی بہترین نعتیہ کلام پیش کرکے محفل کو گرما دیا اور خوب داد و تحسین حاصل کی۔ اس نعتیہ مشاعرے کے دوران پونچھ کے معروف شعراء کرام ماسٹر قربان علی جعفری، محتشم احتشام،ایاز سیف، عظمت جعفری، علمدار عدم، حفیظ الرحمان صفدر ، بشارت راز، خلیل احمد ریشی، شریف مرھوٹی، سلیم شاہ، خلیل احمد ریشی اور دیگر شعرا کرام نے بہترین نعتیہ اشعار پیش کر کے اس پر نور محفل کو مزید پر نور بنایا۔ اپنے صدارتی خطاب میں شیخ نذیر آزاد نے تمام شعراء کرام کو بہترین کلام پیش کرنے پر مبارک باد د۔ انہوں نے خود اپنا کلام بھی پڑھا۔ مہمان خصوصی پرنسپل ڈگری کالج سرنکوٹ سید مسرف حسین شاہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز کے سب آفس راجوری کے روح رواں کلچر آفیسر ڈاکٹر علمدار آدم کے مشکور ہیں جنہوں نے ڈگری کالج  سرنکوٹ میں نعتیہ پروگرام منعقد کیا اور انھیں میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور شعرائے کرام کو مبارکباد پیش کی جنہوں نے بہترین کلام سے شرکاء کی روح کو منورو مجلا فرمایا۔انہوں نے کہا کہ وہ اس طرح کے پروگرام مستقبل میں بھی کروانا چاہیں گے تاکہ ڈگری کالج سرنکوٹ کے طلبہ اس طرح کی محفلوں سے کچھ سبق حاصل کر سکیں۔ 
 
 

نوشہرہ میں جام سے عوام پریشان 

رمیش کیسر 
نوشہرہ //سب ڈویژن نوشہرہ کے کرائسٹ سکول کے سامنے ودیگر علا قوں میں جام لگنے کی وجہ سے مسافروں و سکولی بچوں کیساتھ ساتھ عام راہگیروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔مقامی لوگوں اور راہگیروں نے انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ کرائسٹ سکول کے سامنے والی سڑک پر یکطرفہ ٹریفک چلنے کیلئے حکم جاری کیا جائے تاکہ مسافروں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ کم جگہ ہو نے کے باوجود بھی گاڑیوں کی آمد ورفت زیادہ ہوچکی ہے جس کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک جام جیسی صورتحال بنی رہتی ہے ۔انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ جام ختم کرنے کیلئے احتیاطی تد بیروں پر غور کیا جائے تاکہ مسافروں و عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔