تازہ ترین

شیخ پاری محلہ کپواڑہ

پسماندگی اور کسمپرسی کی تصویر

تاریخ    16 مئی 2019 (00 : 01 AM)   


پیر اظہر۔۔۔ کپواڑہ، کشمیر
 ہر  دور کی مرکزی حکومت گائوں دیہات کی ترقی پر زوردیتی چلی آ رہی ہے کیوں کہ تعمیر و ترقی کا اُجالا گاؤں دیہات تک پھیلائے بغیر ملک کی  ہمہ گیر ترقی کا خواب ادھورا رہنا طے ہے۔ سچ یہ ہے کہ اسی قابل تعریف خواب کی تعبیر میںپسماندہ اور ترقی کی دوڑ میں پچھڑے گاؤں کو مختلف اسکیموں کئے دائر ے میں لانے کے adopt کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی کے طور مرکز ی اسکیم سانسد آدرش گرام یوجنا کے تحت موجودہ وزیر اعظم نے اپنے پارلیمانی حلقہ ورانسی کے ککھراہیا گائوں کو گود لیا تھااور’’اکنامکس ٹائمس‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے جیا پو ر اور ناگ پور بھی گود لئے ہیں ۔ مذکورہ یوجنا کے تحت سیاسی لیڈران کئی ایک گائوںگود چکے ہیں لیکن ریاست جموں و کشمیر میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ ضلع کپواڑہ کی تحصیل کرالہ گنڈ سے ایک کلو میٹر کی مسافت پر واقع شیخ پاری محلہ کے نام سے غریب اورپسماندہ بستی کوآج تک کسی نے ان خطوط پر گود لینے کا سوچا تک نہیں ۔ بستی کو یہ نام یہاں رہنے والے پسماندہ ذات شیخ کی مناسبت سے ملا ہے۔ 10؍ چولہوں پر مشتمل یہ بستی دور جدید میں بھی تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔ حدیہ کہ بستی میں رہنے والے افراد کواُچھوت سمجھ کر آس پاس کی بستی والے ان غریبوںسے سماجی وابستگی سے گریز کر تے ہیں، جب کہ سرکار نے بھی بدقسمتی سے اس بستی کو زند گی کی جملہ بنیادی سہولیات سے محروم رکھا ہوا ہے۔ بستی میں پسماندہ طبقے سے وابستہ دس گھرانے چالیس سال سے سکونت پذیر ہیں ۔یہ لوگ پر نم آنکھوں سے انتظامیہ کی عدم توجہی اور اپنے تئیں سوتیلی ماں کا سلوک بیان کرتے ہوئے اپنی کسمپرسی کارونا روتے ہیں اور بزبان حال پوچھتے ہیں کہ کیا ہماری پسماندہ بستی کو ریاست میں کسی طرح کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے اور کیا ہمیں مسلسل بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا ارباب ِ حکومت کو  زیب دیتا ہے ؟ یہ بستی والے خطے میں بد حال زندگی بسر کر نے کی ایک بھدی مثال پیش کر تے ہیں ۔محلہ شیخ پاری کے یہ لوگ شاخسازی کا کام کر کے بے کیف زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ افسوس کہ سرکار کی طرف سے ان لوگوں کو ابھی تک نہ ہی پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت گھر تعمیر کرنے کیلئے کوئی مالی امدادد دی گئی ہے اور نہ ہی سوچھ بھارت ابھیان کے تحت ان کے لئے بیت الخلا ء تعمیر کئے گئے ہیں ۔ یہ کم نصیب لوگ رفعِ حاجت کے لئے دوسرں کے باغات میں جاتے ہیں تو اکثر اوقات انہیںرفع ِحاجت کے دوران مالکان باغات کے تشدد اور بدسلوکی کا شکار بھی ہونا پڑتا ہے ۔ ستم یہ کہ مذکورہ محلے کے غریب لوگوں کو اُجولا اسکیم کے تحت گیس کنکشن بھی نہیں دئے گے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ چونکہ محلے کے باسیوں کو محکمہ امورصارفین اور عوامی تقسیم کاری کی طرف سے APLراشن کارڈ دئے گئے ہیں، اس وجہ سے مذکورہ غریب کنبوں کو گیس کنکشن نہ مل پائے ۔حالانکہ یہ لوگ چاول صاف کرنے کیلئے چھج بناکر اور بھیک مانگ کر اپنی تکلیف دہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس محلہ میں محکمہ بجلی نے آٹھ برس قبل ترسیلی لائین اُکھاڑکر واپس لے لی ، اور دل تھام کر سنئے کہ بجلی میسر نہ ہونے کے باوجود بھی ان لوگوں کے ہاتھ بجلی کے بل تھمائے جاتے ہیں ۔ یہاں ابھی تک سوبھاگیہ اسکیم کے تحت تر سیلی لائین بھی نہیں بچھائی باوجود یکہ وزیر اعظم بلند بانگ اعلان کر تے آئے ہیں کہ ہندوستان کے ہر گھر تک بجلی پہنچائی گئی ہے۔ اس محلہ میں پینے کے صاف پانی کا بھی کوئی بندوبست نہیں ہے اور نہ ہی آج تک متعلقہ محکمہ نے اس گئے گزرے محلے کو واٹر سپلائی اسکیم کے دائرے میں ہی لایا ہے ۔ نتیجہ یہ کہ بستی کی خواتین کو پابر ہنہ دور تک سفر کر کے ندی نالوں میں جمع بارش کے پانی کو کندھوں پر لاکر گزارہ چلانا پڑتا ہے ۔محلہ کے اکثر لوگ نا خواندہ ہیں اور جو گنے چنے بچے سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے جاتے بھی ہیں ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ ان لوگوں کی شکایت ہے کہ گاؤں کے اسکول میں اساتذہ ان بچوں کو اُچھوت، گندے اور غریب جان کر تعلیم دینے میں عار محسوس کرتے ہیں ۔ اس طرز عمل سے یہ بچے زیورتعلیم جیسی بنیادی ضرورت سے آراستہ ہونے سے رہ جاتے ہیں ۔ ملکی آئین میں پسماندہ اور مخصوص طبقہ جات کے لئے خصوصی درجہ بندیوں کی کافی گنجائش رکھی گئی ہے ، ان کو ترقی کی دوڑ میں شامل کر نے کے لئے مختلف اسکیمیں وضع کی گئی ہیں، پسماندہ لوگوں کو بہت ساری سرکاری مراعات بھی دی گئی ہیں، مگر ان حوالوں سے مذکورہ بستی کی حالت ِزار دیکھ کرحکام سے پوچھا جاسکتا ہے کہ پسماندہ طبقہ جات کے لئے رہائش ، صحت، تعلیم ، روزگار اور دیگر ضروریاتِ زندگی کے حوالے سے ریزرویشن وغیرہ کی جو خوش نما باتیں کی جاتی ہیں ، کیا عمل کی دنیا میںان کا اس محلے میں کہیں وجود بھی ہے ؟ شیخ پاری محلہ کپواڑہ کو جب صحیح معنوں میں ان تمام چیزوں کے حوالے سے نظرانداز کیا گیا ہے ،تو صاف ہے کہ یہاں مسحقِ امداد لوگوں کو اچھے سے رہنے کے لئے گھرنہیں ، پہننے کے لئے کپڑے نہیں ، کھانے کے لئے دو وقت کی روٹی میسر نہیں ۔سرکاری اسکیموں کے فیضان سے ان بے نواغریب لوگوں کو کس حد تک محروم رکھاگیا ہے ، اس کا سر سری اندازہ مذکورہ بستی کے مکینوں کی غربت ، کسمپرسی اور سماجی امتیاز کی جھلکیاں قدم قدم دیکھ کر لگا یا جاسکتا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ اور سیاست کاروں سے مخلصانہ اپیل ہے کہ کبھی ان پچھڑے ہوؤں کی حالت ِزار دیکھنے کی بھی زحمت گوار کر یں اور سر کی آنکھوں سے دیکھیں کہ یہ لوگ کن کن تکالیف دہ مسائل اور کیسی کیسی جان لیوا دشواریوں کے ہاتھوں یر غمال بنے جی رہے ہیں۔راقم الحروف یہی کہہ سکتاہے کہ ضلع کپواڑاکے شیخ پاری محلہ کی بدحال بستی کو بھی فوری طور گود لینے کی ضرورت ہے تاکہ غریب لوگوں کے لئے بنائی گئیں سرکاری اسکیموں کی لاج ر ہے ، ورنہ یہ سب ڈھکوسلہ ثابت ہوں گی۔