تازہ ترین

سماجی برائیاں۔۔۔۔ سنجیدہ تحرّک کی ضرورت !

تاریخ    16 مئی 2019 (00 : 01 AM)   


 کچھ عرصہ سے ہمارے سماج کے اندر ایسی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں، جن کے بارے میں ہمارےآباء و اجداد نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ کشمیری سماج میں اخلاقی اقدار اس سطح تک پامال ہوسکتی ہیں، جہاں ایک شیرخوار کی عزت وناموس بھی محفوظ نہیں۔ سمبل کے دل دہلانے والے واقع نے رسانہ کی یادتازہ کی ہے، جس پر بہت سیاست کی گئی اور ملزم کو بچانے کےلئے کئی سیاسی جماعتوں نے ایسی چلتر بازیاں کیں کہ جس سے انسانیت کی بنیادیں مہندم کرنے والا وہ واقع فرقہ واریت کا رنگ اختیار کر گیا تھا۔ نتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ متعلقہ اداروں کو اسکی تحقیق و تفتیش میں انواع و اقسام کے دبائو کا سامنا رہا، جس کی وجہ سے حقائق سامنے آنے میں تاخیر ہوگئی، چنانچہ واقع کو پیش آئے ہوئے کم و بیش ڈیڑھ سال کا عرصہ ہونے کو آرہا ہے لیکن معاملہ ابھی تک فیصل نہیں ہوا ہے۔ سمبل کا واقعہ بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ اس نے بھی ہمارے سماج کی چولیں ہلا کر رکھی دی ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیاسی، طبقاتی اور فرقہ وارانہ صف بندیوں کے آر پار عوام لناس نے اس پر زبردست ردعمل کا اظہار کیا ۔ احتجاجات کا سلسلہ ہے کہ ابھی تک تھمتا نہیں ۔ سب سے اہم بات یہ کہ احتجاجی ردعمل کا سلسلہ وادی کے طول و عرض میں ہر طبقے کی طرف سے سامنے آیا ہے، جو ایک حوصلہ افزا ءبات ہے۔ اگر چہ سوشل میڈیا کے توسط سے اس شیطانی واقعہ کی مختلف رنگوں سے لیپاپوتی کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے فرقہ وارانہ سطح پر مجموعی رائے کے منتشر ہوجانے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ ایسی کوششیں دانستہ طور کی گئیں یا پھر یہ سوشل میڈیا پر کچھ نہ کچھ کہنے کی عادت سے مجبور حضرات کی غیر دانستہ حرکات ہیں، بہر حال سماج نے مجموعی طور پر اس رجحان کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، جو ایک مثبت روش ہے ۔ اس کے برعکس علمائے کرام نے فرقہ وارانہ و مسلکی صف بندیوں سے بالا تر ہو کر جس اتفاق و اتحاد اور یکسوئی کا مظاہرہ کیا وہ قابل تعریف ہے۔ بالالخصوص شیعہ سُنی کارڈی نیشن کمیٹی اور متحدہ علماء نے اکابرین و عمائیدین پر یہ واضح کیا ہے کہ وہ عوامی سطح پر انسانیت کے بنیادی اصولوں اور سماج کے اندر پنپنے والے مجرمانہ نوعیت کے رجحانات ، جیسا کہ رسانہ عصمت دری اور قتل کے معاملے میں ہوا تھا۔کی نشاندہی کرکے انہیں اُکھاڑ پھینکنے کے لئے تمام تر ذرائع  بروئے کار لائیں اور خصوصیت کے ساتھ عوام کےا ندر سماجی و اخلاقی اصول وقواعد اور ملکی قوانین کے احترام کا جذبہ بیدار کریں۔ علماء نے اس بات کی اہمیت کو بھی سنجیدگی کے ساتھ اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ جرائم کسی بھی نوعیت کے ہوں انہیں فرقہ وارانہ اور طبقاتی رنگت دینے کی سیاست سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف حکومت کی جانب سے بھی معاملے کی سنجیدگی اور باریک بینی سے تحقیقات کرکے اس خطرناک جرم کا ارتکاب کرنے والے کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے، مگر انتظامیہ پر یہ ذمہ دار عائید ہوتی ہے کہ وہ معاملے کے تمام پہلوئوں کی تحقیق و تفتیش کرنے کے عمل کو ایسا طول دینے سے احتراز کرینگے، جوبعد ازاں شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے اور جس کی وجہ سے خود غرض عناصر کو اپنے کھیل کھیلنے کا موقع ملتا ہے ۔ سمبل واقع پر برہمی کا جو ہمہ گیر عالم برپا ہوا ہے اور جس کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں بھی تعلیم وتعلم کا ماحول بُری طرح متاثر ہوا ہے، اسکا تقاضہ یہ ہے کہ طلباء سماجی ذمہ داریوں اور انتظامیہ کے عزائم اور اعلانات کو خاطر میں لاکر اپنے تعلیمی معمولات کو بحال کرینگے اور ایسی سماجی برائیوں کے خلاف ایک فکری محاز تیار کرکے نوجوان نسل کو موجودہ دور کی برائیوں سے محفوظ رکھنے کےلئے عملی زندگی میں کام کرینگے۔ فی الوقت یہ بات اہم ہے کہ سماج کے اندر پنپتی ہوئی برائیوں اور جدید دور کے فکری رجحانات کے منفی عناصر سے خود کو بچا کر ایک ترقی یافتہ سماج کو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔