ہارٹ اٹیک کی جان لیوا بیماری میں بتدریج اضافہ

ْ۔30فیصد لوگ مبتلا،6فیصد کی موت واقع ہوتی ہے: معالجین

تاریخ    8 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر // وادی میں حرکت قلب بند ہونے کی بیماری بڑھ رہی ہے اور 100 میں سے 30فیصد لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں جن میں سے 5سے 6فیصد لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ محالجین کے مطابق یہ بیماری سگریٹ کا استعمال اور خون میں کیلسٹرول زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر کئی بیماریوں سے بڑھ جاتی ہے۔ معلوم رہے کہ وادی بھر میں دل کی بیماریاں ،جو کہ آج کل کے حالات میں عوام الناس کے تکلیف اور پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہیں اس سے بچنے کی تدابیر اور بیماریوں کی صورت میں بہترین علاج کے بارے میں معلومات کا نہ ہونا بہت سے مسائل پیدا کر رہا ہے ۔ہر دن کسی نہ کسی جگہ سے یہ اطلاعات ملتی ہیں کہ نوجوان حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دو بیٹھتے ہیں یا پھر دل کے اس روگ سے ڈھیروں ادویات لینے ہسپتالوں کے چکر لگانے یا پھر بائی پاس آپریشن تک چلتے ہی چلے جاتے ہیں۔ حرکت قلب بند ہونے کی بیماری نمبر ون جان لیوا بیماری کے طور پر سامنے آئی ہے۔امراض قلب کے ماہر اور صورہ ہسپتال کے شعبہ کارڈیولاجی کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر خورشید نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بھارت کے مریضوں میں دل کا دورہ بہت زیادہ بڑھ رہا ہے جبکہ بیرون ممالک نے اس پر کسی حد تک قابو پا لیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر وادی سمیت پورے ملک میں مریضوں میں بلڈ پریشر ، شوگر ، موٹپا ، کی علامت بہت زیادہ ہے اور یہاں فزیکل ایکٹی وٹی کچھ بھی نہیں، سگریٹ کا استعمال بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ بہت زیادہ ہو رہا ہے اور ان سب کو جب تک کنٹرول نہیں کیا جائے گا  اس بیماری میں کمی نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی جانب کوئی دھیان نہیں دیتا اور یہی وجہ ہے کہ کشمیر وادی میں بھی ہاٹ اٹیک عام ہو گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر پورے بھارت اور کشمیر وادی کی بات کی جائے تویہاں 100میں سے 30فیصد لوگوں کو قلب کی نسوں کی بیماری ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اس حوالے سے احتیاتی تدابیر اپنانی چاہئے کہ انہیں سگریٹ کم کرنا ہے، کھانے پینے کی چیزوں میں احتیاط برتنی ہے اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا ہے اور ایسا نہ کرنے پر اُن کی بیماریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر بشیر نائیکونے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وادی کے مریضوں میں بلڈ پریشر ، موٹاپا،سگریٹ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔مالجین کا کہنا ہے کہ جو شخص ان بیماروں میں مبتلا ہوتا ہے اُس میں یہ علامات ایک ماہ قبل ہی سامنے آنے لگتی ہیں لہٰذا بچاؤ کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔دل کے دورے کی علامات کو قبل از وقت بھانپ لینے اور علاج کرانے سے زندگی کے بچنے کا امکان کافی حد تک بڑھ جاتا ہے۔
 

تازہ ترین