تازہ ترین

جارجیا میں پہلی مرتبہ ایک خاتون صدارتی عہدے پر منتخب

تاریخ    1 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   


تبلیسی// جارجیا کی خاتون سیاستدان ’سالوم زور ابشویلی‘ نے پہلی خاتون صدر منتخب ہونے کے بعد عہدہ سنبھال لیا، جو سوویت کی سابقہ ریاست میں یورپ کی طرح خواتین کے لیے بڑھتا ہوا قدم تصور کیا جارہا ہے۔ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد جارجیا کے الیکشن کمیشن نے بتایا کہ حکمراں جماعت جارجیئن ڈریم پارٹی سے تعلق رکھنے والی فرانسیسی نڑاد سابق سفارتکار نے دوسرے مرحلے کے انتخابات میں 59.52 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ دوسری جانب جلاوطن سابق صدر مخیل ساکاشویلی کی سربراہی میں قائم حزبِ اختلاف کی 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد، یونائیٹد نیشنل موومنٹ سے تعلق رکھنے والے حریف امیدوار گریگول وشازے نے 40.48 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی نتائج کو ’دھوکہ‘قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تاہم غیر ملکی مبصرین نے انتخابات کو برابر کا مقابلہ اور بہتر انداز میں منعقد قرار دیا۔ بعدازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نو منتخب صدر کا کہنا تھا کہ ’اب یہ دکھانا اہم ہے کہ ملک نے یورپ کو چنا ہے‘ جس کے لیے جارجیا کی عوام نے ایک یورپی خاتون صدر کو کامیاب کروایا۔ دنیا بھر میں خواتین صدر کی کم تعداد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ بہت پر مسرت احساس ہے‘۔ خیال رہیکہ جارجیا میں ہونے والے حالیہ انتخابات کو یورپی یونین اور نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کے حوالے سے جمہوری رائے کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔ انتخابات کے بعد 'آرگنائزیشن فار سیکیورٹی اینڈ کووآپریشن اِن یورپ' نے نگرانی کے بعد رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ انتخابات برابری کے مقابلے پر تھے جس میں امیدواروں کو مہم چلانے کا بھرپور موقع ملا تاہم ایک فریق کو غیر معمولی فائدہ حاصل تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات ’بہتر طور پر منظم‘ تھے لیکن مبصرین نے انتظامی اختیارات کے غلط استعمال کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا اور اسے پارٹی اور ریاست کے درمیان مبہم سے فرق سے تعبیر کیا۔