تازہ ترین

اُردو ہے وحدتِ ہند کی ضمانت

مجھے بھی کچھ کہنا ہے

تاریخ    1 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   


محمد معروف خان۔۔۔ جالنہ
 اُردو   زبان ایک لشکری زبان ہے جس میں مختلف زبانوں کے الفاظ موجود ہیں ۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں، جیسے مہاراشٹر میں مراٹھی کا غلبہ ہے، کرناٹک میں کنڑ زبان قائم ہے، تامل ناڈو میں تیلگو، پنجاب میں پنجابی، گجرات میں گجراتی، سندھ کے علاقعہ میں سندھی غرض ہر ایک علاقہ کی ایک الگ زبان ہے۔ اس وجہ سے عوامی مقامات پر لوگوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے تعلقات قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا نہیںکرنا پڑتاہے۔ عوام سے ربط قائم کرنے میں عوامی زبان کی حیثیت سے اُردو کو کبھی بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اسے کہیں کہیں حکومتی سطح پر سرکاری زبان کا درجہ بھی حاصل رہا ہے۔ ابتداء میں اہل علم اردو میں لکھنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے ۔ صوفیائے کرام نے اس روایات کے خلاف بغاوت کرکے عوام سے عوام کی زبان میں گفتگو کی۔بقول مولوی عبدالحق ’’صوفیوں کی ہی جرأت کا فیض تھا کہ ان کا دیکھا دیکھی دوسرے لوگوں نے بھی جو پہلے ہچکچاتے تھے، اس زبان کا استعمال شعر و سخن ، مذہبی تعلیم و حکمت کے اغراض کے لئے شروع کیا۔یہی وجہ ہے کہ صوفیائے اکرام کومیں اُردو کا محسن خیال کرتا ہوں‘‘۔ایسا کہا جاتا ہے کہ اُردو زبان یہ مسلمانوں کی زبان ہے مگر یہ زبان مسلمانوں کی ہی کیسے یہ توہندوستانی زبان ہے ۔یہ اسی ملک ہندوستان میں پیدا ہوئی اور پھلی پھولی۔ اس کارسم الخط عربی اور فارسی سے ملتا جلتاہے لیکن مولف فرہنگ ِآصفیہ مولانا سید احمد دہلوی کے مطابق اردو کے ساڑ ھے پا نچ لاکھ ذخیرئہ الفاظ میں تقریباً تین چوتھائی الفاظ سنسکرت کے ہیں۔
جوں جوں اُردو ہندوستان میں پھلتی پھولتی گئی ،اس کا دائرہ اثر بڑھتا گیا۔ ہندوستان کے کونے کونے تک اُردوبولی جانے لگی ۔ اردو زبان پر مختلف علاقوں کی زبان کا اثر پڑنے لگا۔اُس میں دیگر زبانوں کے الفاظ کا شمار ہونے لگا، ہر علاقے کے اثرات سے اُردو میں الفاظ کاذخیرہ بڑھنے لگا۔ اُردو مقبول ہونے لگی ، مختلف فن کار اپنے فن کا مظاہرہ اردو میں کرنے لگے، شعراء نے شاعری، مضمون نگاروں نے مضمون نویسی ڈرامہ نگاری، افسانہ نگاری، صحافت جیسے فنون کا جوہر اردو میں دکھانے لگے۔بادشاہوں نے اپنے دربار کی زبانِ عام کے طور پر زبانِ اُردو   کومنتخب کیا جس میں اظہار خیال ا ور خط و کتابت کرنے لگے۔اُردو نے ہی مصنفین ، شاعروں ، ادیبوں، عالموں،اسکالروں کو دوامی شہرت بخشی ، شعروادب پروان چڑھا، نثر نگاری کو فروغ ملا کہ مختلف عنوانات پر مضامین، ڈرامے، افسانے، داستانیں، ناولیں منظر عام پر آگئیں ۔ 
 سب سے بڑھ کر یہ کہ ہندوستانی عوام اُردو کو مادری زبان کے طور پر استعمال کرنے لگے ۔کوئی بھی شخص کسی بھی علاقہ کا ہو ہندوستان کے کسی بھی علاقعہ میں جانے کے بعد اُسے ارود جیسی عوامی زبان کی وجہ سے پریشانی نہیں اُٹھانی پڑی اور وہ آسانی سے لوگوں سے رابطہ قائم کرلیتا۔تجارتی لین دین بھی آسانیاں ہوتی رہیں۔اُردو جیسی نفیس زبان کو ہندوستانی ہر سماج کاہر طبقہ قبول کر چکاہے ۔ ماضی میںمدتوںہر نجی ، سماجی، سیاسی، سرکاری اور سرکاری کام اُردو میں کیا جاتا رہا۔ ہندوستان کی جنگ آزادی میں بھی ارد  شعرو ادب نے قوم کا لہو گر مایا اور قوم نے اس زبان سے کی تاثیر سے ہر طرح کی قربانیاں دیں۔ چنانچہ انگریزوں کے خلاف طویل وصبر آزما جنگ ِآزادی میں شعراء اور لیڈروں نے ارود زبان کی وساطت سے ہی انقلاب اور جنگ آزادی کا صور پھونکا۔ ان دنوں ہر کوئی اُردو میں تعلیم حاصل کرن ے پر فخر محسوس کرتا تھا مگر دورِ حاضر میں اُردو اپنی شناخت کھوتی نظر آرہی ہے۔ اس کا ذمہ دارکون؟ کیا ہم اپنی مادری زبان بھول گئے یا پھر ہم پر غیرملکی زبان انگریزی کا زیادہ اثر ہوگیا ہے ؟عصر حاضر میں اُردو کو ختم کرنے میں سرکاریں ،متعصب لوگ اور خود اُردو ٹیچر ذمہ دار ہیں جو اپنی اولادوں کو مہنگے انگریزی اسکول میں داخل کرواتے ہیں اور دُنیا والوں کے سامنے بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ کانوینٹ اسکول سے تعلیم حاصل کرتا ہے۔ یوںآج اردو بولنے والے بھی خود اردو کا جنازہ نکال ر ہے ہیں۔ اردو میں انگریزی زبان کے الفاظ اس بہتات سے آگئے ہیں کہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ انگریزی بولی جارہی ہے یا اُردو۔ مغرب زدگی کے عالم میں کم و بیش سبھی خاص اور اہم الفاظ اُردو سے غائب کئے گئے ہیں اور اُن کی جگہ انگریزی زبان کے الفاظ بھر دئے گئے ہیں۔ اگر ہم اپنی تہذیبی بقاء ، اجتماعی مفادات اورعظیم ورثے کا احیاء چاہتے ہیں تو اُردو بول چال کو فروغ دیجئے ہیں ۔ اس کے لئے ہمیں چاہیے کہ اپنی اولاد کو اُردو کی تعلیم دلوائیں تا کہ اُن کی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہ رہے جائے۔طلبہ وطالبات اُردو زبان کی مٹھاس بھرے خزانوں سے واقف رہے ۔اُردو تنظیمیں اُردو کے شعر وادب کو فروغ دینے کے لیے ہمہ تن سرگرم عمل ہو جا ئیں ۔ طلبہ میں اُردو کا شوق بڑھانے کے لئے خوشخطی کے مقابلے، بیت بازیاں، مضمون نگاریاں ،  محافل شعر اور دیگر لسانی وادبی سرگرمیو ں کا تن من دھن سے اہتمام کریں۔
رابطہ :معلم آر، ایچ، وی انگریزی میڈیم  اسکول جالنہ
9960265862

 

تازہ ترین