ممتاز

افسانہ

تاریخ    23 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


طارق شبنم
’’ ایک پریشانی سے چھٹکارا ملتا نہیں تو دوسری آ کر گھیر لیتی ہے ۔اب میں کیا کروں ؟کیسے اتنی بڑی رقم کا انتظام کروں ؟‘‘ سوچوں میں غلطاں وپیچاں ممتاز اپنا ریزہ ریزہ وجود لئے کام کے لئے نکل گئی۔چند مہینوں سے اس کا جینا دو بھر ہو گیا تھا اور وہ پائی پائی کی محتاج ہو گئی تھی لیکن آج مالک مکان کی مکان خالی کرنے کی دھمکی اور غیر انسانی روئے کے سبب اس کے تن بدن میں کانٹے چبھنے لگے حالانکہ اس سے پہلے مالک مکان نے کبھی بھی ایسا رویہ اختیار نہیں کیا تھا بلکہ وہ انتہائی نرمی اور ہمدردی سے پیش آتا تھا۔
’’سنیے، اب کیسی حالت ہے ببلو کی؟‘‘
گلی کے نُکڑ پر تاک میں بیٹھے جنید کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔
’’ جی آج قدرے ٹھیک ہیں‘‘۔
ممتازنے بغیر اس کی طرف دیکھے کہا۔
’’کسی چیز کی ضرورت ہو تو بندہ حاضر ہے‘‘ ۔
اس نے شاطرانہ لہجے میں کہا لیکن ممتاز اس کی بات پر دھیان دئے بغیر آگے بڑھی ۔جنید،جو اس کے پڑوس میں رہتا تھا ، کا معمول تھا کہ وہ آتے جاتے اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا تھا ،ہمدردی جتاکے اس کے قریب آنا چاہتا تھا لیکن ممتاز اس کی کرتوتوںسے اچھی طرح واقف تھی اور کبھی اس کو ذرا سی بھی اہمیت نہیں دیتی تھی ۔  
ممتاز ایک پڑھی لکھی ،خوب صورت ،سلیقے مند اور با اخلاق لڑکی تھی ۔پڑھائی کے دوران ہی اسے ببلو نامی ٹیکسی ڈرائیور سے پیار ہو گیا تھا ۔اگر چہ اس کے گھر والے اس کے پیار کے خلاف تھے اور اس کی شادی کسی امیر گھرانے میں کرنا چاہتے تھے لیکن اس نے ان کی ایک نہ سنی بلکہ ببلو سے شادی کرنے پر بضد رہی اور وفا کی قندیل کو روشن رکھتے ہوئے والدین کی مرضی کے خلاف ببلو سے شادی کرلی ۔ببلو بھی ایک سلجھا ہوا جفا کش انسان تھا اور اسے ٹوٹ کر چاہتا تھا ،اس کی ہر خواہش پوری کرتا تھایوں ان کی زندگی ہنسی خوشی گزر رہی تھی ۔اس دوران ان کی خوشیاں اس دن دو بالا ہو گئیں جب ان کے یہاں ایک  پھول سی بچی نے بھی جنم لیاجس کے بعد ببلو بچی کی چاہت اوراس کی اچھی پرورش کے لئے زیادہ محنت کرنے لگا ۔ لیکن ایک دن اچانک ان کی خوشیوں بھری زندگی پر غم کی اوس پڑ گئی۔ببلو کی ٹیکسی کو حادثہ پیش آیا اور وہ شدید مضروب ہو گیا ۔خدا خدا کرکے اس کی جان تو بچ گئی لیکن اس کے علاج و معالجہ پر زر کثیر خرچ ہونے لگا۔گھر میں موجود جمع پونجھی کے علاوہ ممتاز کے پاس جو زیورات وغیرہ تھے انہیں بھی بیچ دیا اور وہ رقم بھی ختم ہوگئی۔ممتاز کے والدین نے مالی طور پر آسودہ ہونے کے باوجود پریشانی کی اس گھڑی میں ان کی کوئی مدد نہیں کی اور نہ ہی ممتاز نے اپنی خود داری کی وجہ سے ان کے یا کسی اور کے آگے کبھی ہاتھ پھیلایا ۔اس نے اپنے کچھ قریبی جان پہچان والوں سے قرض بھی لیا لیکن کب تک؟ آخر ممتاز پائی پائی کو محتاج ہو گئی ، گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی اور ببلو کی دوائیاں خریدنا بھی دشوار ہو گیا ۔سخت لا چاری کی حالت میں ایک دن ممتاز اپنے پڑوس میں رہ رہے سمندر خان ،جو لوگوں کو سود پر رقم دیتا تھا ، کے گھر گئی اور اُس سے کچھ رقم مانگی ۔ممتاز،جس کے انگ انگ سے شباب کے پھول جڑ رہے تھے ،کو دیکھ کر سمندر خان کے جیسے ہوش اڑ گئے اور وہ ترچھی نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے گویا ہوا۔
’’رقم تو میں تجھے ضرور دے دوں گا لیکن بدلے میں مجھے کیا ملے گا ؟‘‘
’’حضور۔۔۔۔۔۔ببلو کے ٹھیک ہوتے ہی میں سود سمیت آپ کی رقم لوٹا دونگی‘‘۔ 
’’نا ۔۔نا۔۔ نا ۔۔۔ تمہارا شوہر بیمار ہے ،میں تم سے کوئی سود نہیں لونگا اور رقم بھی جب مرضی ہو لوٹانا ۔شام کو آکے رقم لے جانا‘‘ ۔
اس نے شک و شبہ سے لبریزلہجے میں کہا ۔ممتاز جو کافی سیانی تھی ،اس کے ارادوں کو بھانپ گئی اور نا امید ہو کر وہاں سے نکل گئی ۔ مجبور ممتاز نے ادھر اُدھر ہاتھ پیر مارے۔ اپنے کئی جاننے والوں سے قرض مانگا لیکن کسی نے اس کی مدد نہیں کی ۔آخر مجبور ہو کر گھر کا چولہا چکی چلانے اور ببلو کی ا دویات خریدنے کے لئے لوگوں کے گھروں میں محنت مزدوری کرنا شروع کی۔وہ صبح معصوم بچی کو اپنے بیمار شوہر کے پاس چھوڑ کر کام پر چلی جاتی تھی اور تھک ہار کر شام کو واپس لوٹتی تھی ،یوں ان کی زندگی چلتی رہی ۔ببلو بھی اگر چہ دھیرے دھیرے صحت یاب ہونے لگا تھالیکن ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق ابھی کام پر جانے سے قاصر تھا ۔اس دوران ممتاز پر ایک اور آفت نازل ہوئی۔ مالک مکان نے انہیں تین دنوں کے اندر کرایہ دینے یا گھر خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا جس وجہ سے وہ سخت پریشان ہو گئی کیوں کہ چھ مہینے کا کرایہ ایک بڑی رقم تھی ۔ ممتاز دن بھر اسی پریشانی میں مبتلا لوگوں کے گھروں میں کام کرتی رہی ، شام کوگھر آکر بچی کو دودھ پلایااور گھر کے کاموں میں جُٹ گئی ۔ 
’’ممتاز۔۔۔ پرسوں مکان مالک کو پیسے دینے ہیں،میرے خیال میں کل تم جا کر جنید سے کچھ رقم ادھار مانگ لو ‘‘۔
مالک مکان کی رقم کو لے کر سخت پریشان ببلو ممتاز سے مخاطب ہوا ۔ کیوں کہ جنید ایک با ر اس کی خبر پرسی کے لئے آیا تھا اور اسے کسی بھی طرح کی مدد کی پیش کش کی تھی ۔
’’ نہیں ببلو ۔۔۔۔۔۔ وہ ٹھیک انسان نہیں ہے ،میں وہاں نہیں جائوں گی‘‘ ۔
ممتازنے دوٹوک الفاظ میں وہاں جانے سے انکار کیا ۔ کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی، ممتاز نے دروازہ کھولا تو سامنے نہایت ہی عمدہ لباس میں ملبوس ہاتھ میں اخبار لئے جنید کھڑا تھا ۔
’’بھا بھی ۔۔۔۔۔۔ ببلو کی طبعیت اب کیسی ہے‘‘ ۔ 
’’ اب بہتر ہے ،آپ اندر آجائیے ‘‘۔
وہ اندر آیا ،ببلو کی خیر عافیت دریافت کرنے کے بعد کچھ دیر اسے باتیں کرتا رہا جس دوران حق میزبانی ادا کرتے ہوئے ممتاز نے ٹھنڈے مشروب سے اس کی خاطر داری کی ۔
’’ اچھا ببلو بھائی ۔۔۔۔۔ اب میں چلتا ہوں ،کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے ؟‘‘
اس نے ببلو سے بڑہ ہی اپنائیت کے انداز میں کہا ۔ببلو نے موقعہ غنیمت جان کر بارہ ہزار روپے ادھار دینے کی گزارش کی ۔
’’یہ بھی کوئی بات ہے ۔۔۔۔۔ کل بھا بھی کو گھرپر بھیج دینا ،میں رقم بھیج دونگا ،جب ایک انسان انسان کے کام نہیں آئے گا تو پھر کون آئے گا ؟‘‘
اس نے سر تا پا ممتاز کا جائیزہ لیتے ہوئے کہا اور چلا گیا ۔ دوسرے دن کام سے لوٹ کر ممتازبا دل ناخواستہ ہی جنید کے گھر پہنچ گئی تو جنید نے مسکراتے ہوئے اس کا استقبال کیااور نوکر کو کافی بنانے کیلئے کہا ۔
’’ اب کہیے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ‘‘۔  
’’جی وہ ببلو نے آپ سے کچھ رقم ادھار مانگی تھی‘‘ ۔
’’ رقم شوق سے لے لیجئے لیکن بدلے میں مجھے بھی کچھ ملنا چاھیے ؟‘‘
’’کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔؟ ‘‘
’’مطلب آملیٹ بنانے کے لئے انڈا توڑنا ضروری ہے ،باقی تم خود سمجھ دار ہو‘‘ ۔
اس نے حریص نگاہوں سے ممتا کو گھورتے ہوئے کہا ۔
’’ ڈائیلاگ آپ بہت اچھے بولتےہیں ‘‘۔
ممتاز نے اس کے ارادوں کو بھانپتے ہوئے مسکراکر مذاق کے انداز میں کہا ۔ کیوں کہ اندھیرا ہو چکا تھا اور وہ وہاں سے سلامت نکلنا چاہتی تھی ۔
’’تم کچھ بھی سمجھو لیکن میں تمہارا قدر دان ہوں،کافی پی لیجئے‘‘ ۔
جنید نے اس کی نظر کرم حاصل کرنے کے لئے چاپلوسی کا سہارا لیتے ہوئے شاطرانہ لہجے میں کہا ۔
’’شکریہ اس مہربانی کے لئے ،اس وقت میں چلتی ہوں ،کل فرصت سے ملیں گے‘‘۔
اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور خوفزدہ ہرنی کی طرح وہاں سے نکل گئی۔اس کی مسکراہٹ کو رضامندی سمجھ کر جنید کے دل ودماغ میں خوشیوں کے رباب بجنے لگے ۔گھر پہنچ کر ممتاز،جس کی آنکھوں میں درد کا بیکراں سمندر پنہاں تھا ، نے اشک آلود آنکھوں سے ببلو کو ساری بات صاف صاف بتادی اور کچھ دیر اندر کے طلاطم کو آنکھوں کے راستے بہانے کے بعد پریشان سوچوں کے تانوں بانوں میں الجھ کر گھر کے کاموں میں جٹ گئی۔جنید مالی طور کافی خوشحال تھا لیکن انتہائی بگڑا ہوا،حسن پرست اور بری عادتوں کا شکار تھا، جس وجہ سے شادی کے کچھ ماہ بعد ہی اس کی بیوی اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی ۔ممتاز کو چونکہ اللہ نے بے پناہ حسن و جمال سے نوازا تھا ،اس کے وجود پر ہر وقت سپیدئہ سحر کا ہالہ چھایا رہتا تھا ،رنگ میں وہ سونے کی ڈلی تھی اور بڑی بڑی مخمور آنکھوں سے جیسے نور برستا تھا ۔جس بنا پر اس نے ممتاز کی شادی کے دن سے ہی اس پر ڈورے ڈالنے شروع کئے تھے ۔وہ اس کو اپنے جال میں پھنسا نا چاہتا تھا اور طرح طرح کے حربے استعمال کرکے اس کے قریب آنا چاہتا تھا لیکن ممتاز جو اس کی بری نیت سے اچھی طرح واقف تھی ،نے کبھی اس کو معمولی سی اہمیت نہیں دی تھی ۔اب وہ ممتاز کی غربت اور مجبوری کا فائیدہ اٹھا کر اپنی آرزو پوری کرنا چاہتا تھا ۔گھر کی صفائی کے دوران ممتاز نے وہ اخبار اٹھایا جو جنید کل وہاں ہی بھو ل گیا تھا ،وہ ا نتہائی نفرت سے اخبار کو کوڑے دان میں پھیکنے ہی والی تھی کہ دفعتاً اس کی نظر اخبار میں چھپے اشتہار پر پڑی جسے پڑھتے ہی اس کی بانچھیں کھل گئیں، پژ مردہ آنکھوں میں ایک چمک سی عود آئی ۔
’’ ببلو ۔۔۔۔۔۔ پیسوں کا انتظام ہو گیا ‘‘۔
اس نے خوشی سے اچھل کر اشتہار ببلو کو دکھاتے ہوئے کہا ۔ببلو نے دیکھا تو کسی مریض کو او نگیٹیو  o-ve  خون کی اشد ضرورت تھی۔
’’ کیسی باتیں کرتی ہو ،اب تم اپنا خون بیچو گی ۔۔۔۔۔؟‘‘
’’ اور نہیں تو کیا ،خون بیچنے میں برائی ہی کیا ہے ‘‘۔
علی الصباح ہی وہ اشتہار پر لکھے پتہ پر پہنچ گئی اور اپنا خون بیچنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔خون کے ضرورت مندوں کے جیسے نصیب کھل گئے وہ اسے جلدی سے بلڈ بینک پر لے گئے اور اس کے ٹیسٹ وغیرہ کرکے اس کی رگوں سے خون نکال کر اس کو دودھ پلایا اور رقم اس کے ہاتھ میں تھمادی۔وہ عجلت میں وہاں سے نکلی اور آٹو رکھشے میں سوار ہو کر گھر پہنچ گئی جہاں مالک مکان مونچھوں کو تائو دئے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔
’’یہ لیجئے بھائی صاحب آپ کی رقم‘‘ ۔
ممتاز نے نم آنکھوں سے رقم اس کو دیتے ہوئے کہا ۔رقم لے کر وہ حیران ہوا اور شرمندہ ہو کر وہاں سے نکل گیا ۔
’’کیا ہوا جانی ؟‘‘  
باہر نکلتے ہی جنید ،جو اس کا منتظرتھا،نے پوچھا۔
’’تمہاری دال گلنے والی نہیں ہے‘‘ ۔
اس نے رقم کی گڈی دکھاتے ہوئے کہا ۔ 
’’ لیکن وہ رقم لائی کہاں سے؟‘‘
جنید حیرت زدہ ہو گیا ۔
’’میں اپنا موبائیل اندر ہی بھول گیا میں لے کر آتا ہوں‘‘ ۔
’’میں بھی ساتھ چلتا ہوں اسی بہانے چھمک چھلو کے درشن توہو جائیں‘‘۔
وہ دونوں اندر کی طرف گئے۔۔۔۔۔۔
’’ ممتاز ۔۔ تم نے میری عزت بچانے کیلئے اپنا خون بیچ دیا ‘‘۔
ببلو گلو گیر لہجے میں کہہ رہا تھا ۔
’’ارے روتا کاہے کو ہے ،خون کیا چیز ہے ،ممتاز تو تیرے لئے جان بھی دے گی،لیکن جنید جیسے کمینے بھیڑیوں سے مجھے بچا کے رکھنا‘‘ ۔
ممتاز نے روتے ہوئے کہا ۔
’’ ارے پگلی ۔۔۔۔۔۔ وہ کمینہ تو اپنے کرموں کی سزا بھگت رہا ہے ، اس کی بد چلنی کی وجہ سے ہی اس کی بیوی اسے چھوڑ کر چلی گئی ہے‘‘۔
دروازے پر پہنچ کر ممتاز اور ببلو کی باتیںسن کر جنید کے پورے جسم میں درد کی ایک تیز ٹیس اٹھ گئی اور وہ ایک دم دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔
’’ ببلو ۔۔۔۔۔۔ بد چلن میں نہیں وہ تھی جو اپنی عیاشیوں میں میرا پیسہ پانی کی طرح بہاتی تھی ،جب میں نے پیسہ دینے سے منع کیا تو مجھے چھوڑ کر چلی گئی اور میں سمجھنے لگا کہ ہر عورت ایسی ہی ہوتی ہے لیکن آپ کا اور بھابھی کا پیار دیکھ کر آج میری آنکھیں کھل گئیں۔اگر ہوسکے تو مجھے معاف کر دینا ‘‘ ۔  
نم آنکھوں سے کہہ کر وہ شرمندگی کی حالت میں وہاں سے نکلا جبکہ جانی کچھ دیر ان سے باتیں کرتا رہا۔
٭٭٭ 
 اجس بانڈی پورہ193502 کشمیر
ای میل ؛ tariqs709@gmail.com
موبائل نمبر؛9906526432

تازہ ترین