دُعا۔ فضیلت اہمیت اور آداب

سبق آموز

تاریخ    14 جنوری 2022 (00 : 01 AM)   


مولانا عبد الرحمٰن سلفی
سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔(حاکم)یعنی دعا ایسا مضبوط ہتھیار ہے کہ جس کے ذریعے بندہ اپنے رب کی نصرت و تائید حاصل کر کے فتح یاب و کامران ہو سکتا ہے۔ جیساکہ سرورِ عالمؐ کی سیرت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ ہر موقع پر اپنے رب سے رجوع فرماتے، یقیناً اللہ تعالیٰ نے سرورِ کائناتؐ کو مستجاب الدعوات بنایا تھا، اسی طرح دیگر انبیائے کرام ؑصدیقین صالحین اور مظلومین ایسے ہیں، جن کی دعا ردنہیں ہوتی، البتہ اللہ ہی کو اختیار ہے جس کی دعا قبول فرمائے یا رد فرمائے ۔ دعا کی طلب و مقبولیت کے کچھ آداب و شروط بیان کئے گئے ہیں۔ اگر ان کا لحاظ و اہتمام کر لیا جائے تو امید واثق ہے کہ مانگی ہوئی دعائیں ضروراللہ کی بارگاہ میں منظور و مقبول ہو جائیں گی۔دعا مانگنے اور درجہ قبولیت کے حصول کے لئے لازم ہے کہ بندہ کسب حلال اختیار کرے۔ شریعت کی پابندی کرے۔ دعا کے لئے دو زانو باادب بیٹھے تو افضل ہے ،البتہ چلتے پھرتے لیٹتے جاگتے ہر حال میں رب سے دعائیں کر سکتا ہے۔ دعا مانگتے ہوئے عاجزانہ صورت اختیار کرے۔ دعا کے وقت اپنے گناہوں کااقرار کرے ،تاکہ دل میں اللہ کا خوف و ندامت پیدا ہو اور خشوع و خضوع نمایاں ہو۔ دعا کے لئے ضروری ہے کہ دعا یقین کامل کے ساتھ مانگی جائے، کیونکہ اللہ نے قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے ‘ البتہ بے یقینی و بے دلی سے کی گئی دعا قبول نہیں ہوتی۔ 
جب دعا مانگیں تو ہتھیلیاں پھیلا کر اپنے ہاتھ اس قدر اونچے اُٹھائیں، یہاں تک کہ انگوٹھے کندھوں کے مقابل ہو جائیں۔ سینے سے اوپر ہاتھ نہ اُٹھنے چاہئیں۔ دعا کرتے ہوئے مکمل یکسوئی اختیار کرنا چاہیے اور ادھر ادھر نہیں دیکھنا چاہیے۔ دعا کی ابتدا بسم اللہ اوراللہ تعالیٰ کی حد درجہ تعریف و توصیف اور سرورِ عا لم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر درود شریف سے کرنا چاہیے۔ دعا کے اختتام پر بھی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور درود شریف پڑھنا چاہیے، چونکہ درود شریف کے بغیر دعا معلق رہتی ہے، جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے کہ جس دعا میں درود نہ پڑھا جائے ،وہ زمین و آسمان کے درمیان معلق رہتی ہے (شرف قبولیت حاصل نہیں کر پاتی) اس کے بعد خوب دعا کریں۔ تین تین بار تکرار کریں۔ دعا کے بعد آمین کہنی چاہیے۔ آخر میں درود شریف کے بعد اپنے ہاتھوں کو منہ پر پھیرنا چاہیے۔ انشاء اللہ آ پ کی دعائیں قبول ہوں گی۔ اگر عربی میں یادنہ ہوں تو اپنی زبان میں بھی دعا مانگ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمانے والا ہے۔
’’مستجابُ الدّعوات‘‘یعنی وہ خوش نصیب اور عظیم المرتبت افرادجن کی دعائیں خصوصیت کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوتی ہیں۔ ان میں انبیائے کرامؑ خصوصی طور پر شامل ہیں۔ انبیائے کرامؑ میں بھی بالخصوص سرورِ کائنات حضرت محمدؐ سب سے عظیم المرتبت ہیں۔ آپؐ کی دعائیں بارگاہِ الہٰی میں مقبول ہوئیں۔ انبیاءؑ کے بعد دعاؤں کی قبولیت میں صدیقین اور صالحین کا مقام و مرتبہ ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حدیث میں وارد ہے ، سیدنا ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: بہت سے پریشان حال اور دروازے سے دھکے دیے جانے والے (صالح ) لوگ ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے بھروسے پر (کسی بات پر) قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا فرمادے۔(صحیح مسلم )
اسی طرح اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی دعا ضرور سنتا ہے جس پر کسی نے کسی طرح کا ظلم کیا ہو۔ خواہ وہ مظلوم کافر ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مظلوم کی دعا سے بچو، چونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ یا رکاوٹ نہیں ہوتی۔(بخاری و مسلم)
اسی طرح اس کی دعا بھی قبول ہوتی ہے ،جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے حق میں اس کی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے۔ نبی مکرمؐ کا فرمان ہے: جب کوئی مسلمان شخص کسی دوسرے مسلمان بھائی کے لئے اس کی غیر موجودگی میں دعا مانگتاہے توایک فرشتہ اس وقت دعا مانگنے والے کے لئے دعا کرتا ہے کہ اللہ تجھے بھی اسی جیسا دے۔ (صحیح مسلم)اسی طرح مسافر کی دعا اور والد کی دعا بیٹے کے لیے قبولیت کا مقام پاتی ہے۔ (ترمذی ) اسی طرح عدل و انصاف کرنے والے حاکم اور روزے دار کی دعاافطار کرتے وقت قبولیت حاصل کرتی ہے۔ (ترمذی) جو شخص روزانہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے پچیس یا ستائیس مرتبہ بخشش مانگے تو وہ ان لوگوں میں سے ہوجائے گا جن کی دعا بالخصوص قبول ہوتی ہے اور جن کی برکت سے زمین والوں کو روزی ملتی ہے۔(طبرانی کبیر) اسی طرح مریض کی دعا بھی قبول ہوتی ہے۔
ایک حدیث شریف میں سرورِ عالم ؐ کا فرمان ہے کہ مسلمان کی مانگی ہوئی کوئی دعا رائیگاں نہیں جاتی یا تو جو چیز اس نے مانگی، بعینہ وہی اسے مل جاتی ہے یا پھر اس کے بدلے کوئی آنے والی مصیبت و آفت ٹل جاتی ہے ،ورنہ اس دعا کے بدلے اسے قیامت کے دن ثواب مل جائے گا۔(حاکم)
یہ جاننے کے لئے کہ ہماری دعا درجہ قبولیت پر فائز ہوئی یا نہیں‘ چند علامات ہیں، جن سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ دعا شرف قبولیت سے باریاب ہوئی ہے ۔ وہ مندرجہ ذیل علامات ہیں، مثلاً دل میں رب کا خوف محسوس ہونا اور قلب پر ہیبت اور رقت کا طاری ہونا‘ اسی طرح بدن کے رونگٹوں کا کھڑا ہونا اور آنکھوں سے آنسوؤں کا جاری ہونا‘ دل میں سکون و طمانیت کا پیدا ہوجانا اور دل میں خوشی کا جذبہ بیدار ہوجانا۔ ظاہراً طبیعت کا ہلکا معلوم ہونا اور بوجھل پن کا خاتمہ ہوجانا اور ایسا محسوس کرنا کہ گویا مجھ پر ایک بہت بڑا بوجھ تھا جو اتر گیا ہے۔ یہ دعا کی قبولیت کی علامات ہیں۔
 

تازہ ترین