ریاست جموں کشمیر کے منقسم حصوں کے درمیان تجارت کا سلسلہ اکتوبر 2008میں بھارت اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کے سب سے بڑے قدم کے طور پر شروع ہوا تھا اور اس وقت توقع ظاہر کی گئی تھی کہ رفتہ رفتہ اس میں مزید توسیع و اضافہ ہو نے سے دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی تلخیوںاور غلط فہمیوں کی خلیج پاٹنے میں مدد ملے گی ،لیکن گزشتہ قریب 4سال کے دوران وقتاً فوقتاً اس طرح کے حالات پید ا ہو تے رہے ہیں جن سے اس محدود پیمانے کی تجارت پر ہمیشہ کے لئے بند ہونے کے خطرات منڈلانے لگے ۔خصوصی طور پر چکاں دا باغ تجارتی پوائنٹ پر رواں سال کے دوران کئی بار اس طرح کی رکاوٹیں پیدا ہوئیں جس سے نہ صرف آر پار تجارت کے مقاصد فوت ہونے کا احساس پیدا ہوابلکہ اس کی افادیت پر بھی سوالیہ کھڑا ہو نے لگا ۔ پہلے یہاں پر تعینات کسٹم حکام نے آم سمیت تجارتی فہرست میں شامل بیشتر اشیاء پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی کہ چونکہ یہ جموں و کشمیر کے کسی حصہ کی پیداوار یا مصنوعات نہیں ہیں ، اس لئے انہیں در آمدیا بر آمد نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ معاملہ بمشکل مرکزی داخلہ سیکریٹری کے ماہ مئی میں دورہ ٔ پونچھ کے دوران سلجھا ہی تھا کہ ماہ جون میں حدِ متارکہ پر دونوں ممالک کی افوج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد 3ہفتے تک آر پار تجارت پر مکمل روک لگا دی گئی۔ خد ا خدا کر کے یہ معاملہ ٹھنڈا ہوا ہی تھا کہ گزشتہ ہفتے کسٹم حکام نے پاکستانی زیر انتظام سے آنے والے 4ٹرکوں کو یہ کہہ کر روک لیا کہ ان میں لدا ہوا بادام امریکی الاصل ہے جبکہ صرف ان ہی اشیاء کی تجارت کی اجازت ہے جوکہ منقسم ریاست کے کسی حصہ کی پیدا وار ہیں ۔ تاہم جب محکمہ باغبانی نے واضح کیا کہ بادام جموں و کشمیر کے دونوں حصوں میں پید ا ہوتا ہے اور لیبارٹری میں بھیجے گئے نمونوں کی جانچ سے ثابت ہوگیا کہ یہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ہی حاصل کئے گئے ہیں ، تو اس کے بعد ہی ان ٹرکوں میںسے مال اتارنے کی اجازت دی گئی ۔ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو ئی بلکہ اب چھوہارے پر پابندی لگا کر کسٹم حکام نے نیا بکھیڑا شروع کر دیا ہے ۔ ان نت نئی رکاوٹوں سے آر پار تاجر برادری بھی کافی تنگ آچکی ہے اور اس ضمن میں وہ کئی بار احتجاج بھی کر چکے ہیں ۔ تاجروں کا الزام ہے کہ کسٹم حکام پنجابی تاجر لابی کے دبائو اور ایما پر ایسا کر رہے ہیں ۔ یہ الزامات کس حد تک درست ہیں ، اس سے قطع نظر ایک بات یقیناًعیاں ہوتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے کہ بار بار اس طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں ۔ آر پار تجارت اس وقت بذاتِ خود ایک مشکل اور فرسودہ عہدِ تاریک کے نظام کے تحت چل رہی ہے جس میں اشیا ء کا تبادلہ کیا جاتا ہے ۔ تاجرنہ تو روپے سے لین دین کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے درمیان براہِ راست رابطہ کے لئے ٹیلی فون اور دیگر مواصلاتی سہولیات میسر ہیں ۔ تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود ونوں طرف کے تاجر اس امید پر یہ سلسلہ جاری رکھے ہو ئے ہیں کہ آج نہیں تو کل دونوں طرف کی حکومتیں مثبت انداز میں سوچنے پر مجبور ہو جائیں گی جو ان کے لئے ایک نئی صبح کی نوید ہوگی ،لیکن موجودہ ماحول سے ایسا محسوس ہو تا ہے کہ اگر چہ بھارت اور پاکستان کی حکومتیں کنٹرول لائن پر تجارت کو فروغ دینے کے لئے تیار ہیں مگر شاید کچھ عناصرخود اپنی حکومتوں کی پالیسیوں کی نفی کر نے کے درپے ہیں ۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ جن اشیا ء کی در آمد و بر آمد اوڑی مظفر آباد روٹ پر جائز ہے وہ ریاست کے دوسرے حصہ میں ناجائز قرار دی جاتی ہیں اور یہ کہ اگر گزشتہ 4سال سے اس پر کوئی سوال نہیں اٹھائے گئے تو اب اچانک ایسی کون سی افتاد آ ن پڑی کہ یکے بعد دیگرے ان اشیا ء کو تجارتی فہرست سے خارج قرار دیا جا رہا ہے ، حالانکہ حال ہی میں خود ریاست کے وزیر اعلیٰ کنٹرول لائن پر بینکنگ سسٹم اور مواصلاتی رابطے قائم کرنے کی پُر زور وکالت کر چکے ہیں لیکن مرکزی کسٹم محکمہ کے رویہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آر پار تجارت کو مزید سہل بنانے کی بجائے اس میں بیجا رکاوٹیں کھڑی کر نے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ تاجروں کو ان کی وجہ سے کتنے خسارے اور مشکلات سے دو چار ہو نا پڑ رہا ہے ۔شاید اب وقت آ چکا ہے کہ ریاستی حکومت کو تاجروں کی بھر پور حمایت کر تے ہو ئے یہ معاملہ مرکزی حکومت کی نوٹس میں لانا چاہئے تاکہ کسٹم حکام پر واضحہو جائے کہ ان کارول نگرانی اور سہولیت فراہم کر نے کے لئے ہے اور اگر وہ ملکی پالیسی کے برعکس بے تکے اعتراضات اٹھاتے رہے تو ان کے خلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے ۔ نیز جب تک موجودہ اشیاء کے تبادلہ کا نظام جاری رہے گا ، اُس وقت تک کنٹرول لائن کے آر پار تجارت کو فعال اور کامیاب نہیں قرار دیا جا سکتا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تجارت میںتوسیع کر کے اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق کر نسی لین دین کے نظام کے تحت لایا جائے ۔ اسی صورت میں باہمی اعتماد سازی میںاستحکام کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے وگرنہ اس کی حیثیت محض علامتی ہو گی جو کسی وقت بھی بند ہو سکتی ہے ۔