GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  اداریہ
ہمدردی سب کے ساتھ


ماہ دسمبر ۲۱۰۲ میں دلی المیہ نے واقعی بھارت ورش کے قلب وجگر کوجنجھوڑ کے رکھ دیا تھا ۔ دامنی کے علامتی نام سے مشہور بدنصیب دوشیزہ کے غم میں ہر باضمیر شامل ہوا ۔ نتیجہ یہ کہ یہ ٹریجڈی یکایک کئی دن تک انا ہزارے کے انشنوں کی طرح نئی دہلی کے عوامی، انتظامی اور سیاسی حلقوں کو اس حد تک گر ما گئی کہ حکومت کو عوام قابو کر نے میں پریشانیاں لاحق ہوئیں ۔ اُدھر پولیس پر پتھراؤ روز کامعمول بنا ۔ یہاں تک کہ جھڑپوں میں ایک پولیس اہل کار کام آ یا ۔ بے حد وحساب عوامی مظاہروں کے دباؤ میں اگرچہ اس حساس معاملے پر دلی پولیس مٹی کا مادھو بنی رہی مگر بعدازاں اس نے بلا کسی چوں چرا کے عوام الناس سے رسماً معافی مانگی ۔ دامنی کی  اجتماعی عصمت ریزی اور قتل پر جن لوگوں کے جذبات مشتعل ہو ئے تھے ،انہوں نے سیدھے سڑکوں پر آکر خواتین کے خلاف جرائم ا ور دست درازیوں کے بڑ ھتے ہو ئے واقعات پر حکومت کی تساہل پسندی پر زوردار احتجاجی مظاہر ے شروع کئے۔ حکومت ہند سمیت دلی کی ریاستی حکومت میںلوگوں کاغم وغصہ کم کر نے میں دامنی کے لئے ہر ممکن طبی امداد بہم پہنچاتی رہی، حتیٰ کہ اسے سپر اسپیشلٹی علاج ومعالجہ کے لئے بیرون ملک سرکاری خرچہ پر ملالہ یوسف زئی کی طرح فوراً بھیج دیا گیا مگر وہ بدقسمتی سے جانبر نہ ہوسکی۔ ابھی یہ افسوس ناک معاملہ گرما گرم ہی تھا کہ سری نگر میں بھی اسی نوع کا قدرے کم گھمبیر ایک ننگِ انسانیت واقعہ پیش آیا ۔ برزلہ کی پوش کالونی میں ایک خاتون پرائیوٹ ٹیچر پر کسی درندہ صفت نوجوان نے تیزاب سے حملہ کر کے اس کوبری طرح جھلسادیااوراپنی حیوانیت کی دھا ک بٹھا دی ۔ کشمیر کے طول وعرض میںاس سنگین قسم کی مجرمانہ حرکت سے عوام الناس سکتے میں آ گئے ، دوشیزاؤں اور والدین میں عدم تحفظ کی لہر دوڑگئی ، خصوصیت کے ساتھ سماج میں اخلاق اور تہذیب وشرافت سے بے توجہی پر لوگ سرا سیمہ ہو ئے اور خواتین سینہ کوبیاں کر نے لگیں ۔ دلی واقعہ کے پس منظر میںایک جانب پولیس نے مجرم کو فوری طور دھر دبوچ کر قانون کا منشاء پورا کر نے کی راہ ہموار کر دی اور دوسری جانب اپوزیشن پی ڈی پی نے متاثرہ دوشیزہ سے بھر پور ہمدردی کا قابل تعریف مظاہرہ کر کے اسے پارٹی کے خرچے پر بہتر طبی سہولت کے لئے اپالو ہسپتال دلی میں منتقل کیا ۔ اس انسان دوست کام کے لئے ہر شخص نے پارٹی کی سراہنا کی کیونکہ یہ ٹھوس انداز میں انسانیت نوازی کا کھلا اظہار تھا جب کہ عادتاً سیاست کار ہاتھ سے کچھ کر نے کی بجا ئے صرف بیان بازیوںا ور تقریر ی مشقوں سے ہی حمام گرمائے رکھتے ہیں ۔ اطلاع یہ ہے کہ دلی کے اس مشہور ومعروف ہسپتال میں متاثرہ لڑکی کی پلاسٹک سرجری کے لئے آٹھ لاکھ روپے کا بل آیا ۔ ۲۶ دن تک وہاں زیر علاج رہنے کے بعد اب اس دوشیزہ کو خیر سے رخصت کیا گیا ہے ۔ حزب اختلاف کی اس دریا دلی کا خوش نما جواب ریاستی حکومت نے اب اس لڑ کی کو ہمدردانہ بنیا دوں پر محکمہ تعلیم میں لیبارٹری اسٹنٹ کی ملا زمت کی صورت میں دیا ہے۔ ظاہر ہے دونوں حزب اقتدار اور حزب ا ختلاف کی ان مہر با نیوں سے متاثرہ خاتون کا ہی بھلا ہو ا۔ ا س نیک کام کے پیچھے کیا جذبہ کارفرما رہا ،اس سے قطع نظر یہ ایک دلدوز حقیقت ہے کہ معاصر سماج میں اکثر وبیشتر بد ترین حالات کے بھینٹ چڑھنے والوں کو کو ئی پو چھتا تک نہیں ۔ سماج ان کی خبر گیری کا حق ادا کر تاہے اور نہ مختلف سیاسی دھاروں سے تعلق رکھنے والے ان کاغم ہلکا کر تے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے وقت پر ان کو امداد وراحت ملناتو دور ان کی برسوں تک مسلسل کو ئی شنوائی تک نہیں ہو تی ۔ بہر صورت تیزاب حملے کی زد میں آنے والی لڑکی اس معنی میں خوش نصیب ہے کہ سیاست کاروں کی وساطت سے نہ صرف اسے بروقت اور بھر پورطبی امداد ملی بلکہ اس کے زخم مندمل ہوتے ہی رحم کی بنیا دپر اسے نوکری بھی دی گئی ۔ اگر چہ ان مادی فوائد کے باوجود اس کے ساتھ پیش آ یا ڈراؤنا واقعہ ہمیشہ اس کے مجروح جذبات کاتعاقب کر تا رہے گا ، تاہم غنیمت ہے کہ کسی نے اس کا زخم تو سہلایا ، کسی نے اس کو بیٹی اور بہن کا پیار دیا ، کسی نے اس کے احساسِ محرومی پر ہمدردی کا مرہم تو رکھا ۔ اس کے مقابلے میں ان کم نصیب لڑکیوں کے اہل خانہ کی تقدیر کتنی بری ہے جو برسوں سے اپنی لخت ہا ئے جگر کا دائمی فراق ہی برداشت نہیں کر رہے بلکہ انصاف طلبی کی راہ میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ آسیہ ، نیلوفر ، تابندہ غنی ، اقراء اجان ، صبرینہ فیاض، رومانہ جا وید وغیرہ اس کی زندہ مثالیں ہیں ۔ اگر ایک مظلومہ سے حکومت اور اپوزیشن یکساں طور ہمدردی اور مروت کا قابل صدتعریف رویہ اختیار کر تے ہیں تو حواکی جودیگر بیٹیاں اسی انسان دوست جذبے کی خواستگوار ہیں، ان کے ساتھ بے رُخی یا نیم دلی کا کیا مطلب لیا جا ئے گا ؟ کہیں یہ متضاد روش تو نہیں ؟ ان دونوں سیاسی قوتوں نے جس طرح مشتر کہ طورمتاثرہ ٹیچر کو اپنے انسانی جذبات کی سوغات فراخدلی سے دے دیں کہیں لوگ اس کا یہ مفہوم نہ نکالنے نہ بیٹھیں کہ یہ سب سیاست کی کارستانیاں ہیں اور ان کے پس پشت کسی انسانی جذبے کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دوسری متاثرین کو فوری انساف دے کر اس تاثر کی تکذیب کی جا ئے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By