GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
راج ناتھ کی بھا جپاصدارت
کیا یہ بیل منڈھے چڑھ جا ئے گی؟

مالی بد عنوانیوں کے دلدل میں پھنسے  سابق بی جے  پی صدرنتن گڈکری سے جب بھاجپا صدارت کا تاج چھین لیا گیا تو سوال یہ پیدا ہوا کہ اب یہ تاج کس کے سر پر رکھا جائے۔ زبردست چہ مہ گوئیوں اور قیاس آرائیوں کے بعدقرعہ ٔ فال بعد سابق صدر راج ناتھ سنگھ کا نام نکل آیا۔ یوں تو بی جے پی کی پہلی صف میں ایسے کئی نام تھے جن کو یہ عہدہ دیا جا سکتا تھا جیسے کہ سشما سوراج، ارون جیٹلی، روی شنکر پرساد وغیرہ لیکن نہ تو سشما کی کوئی عوامی بنیاد ہے اور نہ ہی جیٹلی کی۔ روی شنکر کا قد ابھی اتنا اونچا نہیں ہوا ہے کہ ان کے سر پر یہ تاج رکھا جاتا اور نہ ہی نتن گڈکری کی مانند وہ آر ایس ایس کے بہت زیادہ قریب ہیں کہ ان کے نام لاٹری نکل آتی۔ اس کے علاوہ سشما اور جیٹلی ایک ایک عہدے پر فائز بھی ہیں۔ لہٰذا ایک شخص ایک عہدہ کے فارمولے پر چلنے کی وجہ سے بھی ان کے نام پر غور نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ ان دونوں کے بارے میں پارٹی میں اتفاق رائے ہو پانا بھی مشکل تھا۔ ایل کے آڈوانی بہت معمر ہو چکے ہیں اور اب ان کے کندھے اتنے مضبوط نہیں رہ گئے ہیں کہ پارٹی کا بوجھ سنبھال سکیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے کی امیدواری پر بضد رہنے کی وجہ سے کچھ ان کے وقار میں بھی کمی آئی ہے۔ لہٰذا ان کے نام پر بھی غور نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً یہ فیصلہ کیا گیا کہ کیوں نہ ایک آزمودہ شخص کے ہاتھ میں باگ ڈور دے دی جائے۔ پھر لے دے کر راج ناتھ سنگھ ہی ایک ایسے نیتا نظر آئے جن کو پارٹی کی کمان سونپی جا سکتی تھی اور وہ سونپ دی گئی۔ وہ نہ صرف یہ کہ بی جے پی کے صدر رہ چکے ہیں بلکہ اتر پر دیش کے وزیر اعلی بھی رہے ہیں۔ ایک سینئر سیاست داں ہیں۔ آر ایس ایس سے قربت تو ہے لیکن بہت زیادہ کٹر یا سخت گیر نہیں ہیں۔ اٹل بہاری واجپئی کے بعد راج ناتھ کو ہی پارٹی میں ایک اعتدال پسند چہرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وہ ایک سلجھے ہوئے سیاست داں بھی ہیں۔ کوئی بھی بات سوچے سمجھے بغیر نہیں کہتے اور متنازعہ بیانات میں پھنسنے کی ان کی عادت نہیں۔ بڑی ذات کے لیڈر ہیں اور اتر پردیش میں عوامی حلقوں پر ان کی بہر حال گرفت ہے۔ اس کے علاوہ ایک غیر متنازعہ لیڈر ہونے کی وجہ سے ان کے نام پر اختلاف بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس طرح راج ناتھ سنگھ کو صدر بنا کر یہ ذمہ داری سونپ دی گئی کہ وہ 2014کے عام انتخابات میں پارٹی کی قیادت کریں۔

راج ناتھ سنگھ اور بی جے پی کے ایک اور قد آور نیتا اور گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے تعلقات بہت اچھے نہیں رہے ہیں۔ راج ناتھ نے اپنے دور میں ان کا نام نیشنل ایکزیکٹیو سے نکلوا دیا تھا لیکن جب انہیںصدر بنایا گیا تو سب سے پہلے مبارکباد دینے والوں میں مودی ہی تھے۔ در اصل ان کا نام وزیر اعظم کے عہدے کے لئے اچھالا جا رہا ہے، اس لئے انہوں نے ضروری سمجھا کہ راج ناتھ سے رشتے استوار کئے جائیں تاکہ ان کے عزائم کی تکمیل کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ چند روز کے بعد وہ بہ نفس نفیس چل کر دہلی آ گئے اور راج ناتھ کے دربار میں حاضری لگا دی۔ راج ناتھ بھی کم ہوشیار نہیں ہیں۔ انہوں نے ان کے وزیر اعظم کے عہدے کے امکانات پر ان سے گفتگو ہی نہیں کی۔ 2014کے عام انتخابات کے سلسلے میں بات کرتے رہے۔ باہر آکر دونوں لیڈروں نے یہی کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے سلسلے میں گفت و شنید ہوئی ہے۔ جب راج ناتھ سے مودی کی امیدواری کے سلسلے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ہمارے یہاں ایسے فیصلے پارلیمانی بورڈ کرتا ہے۔ اسی دوران یشونت سنہا نے مودی کا نام ایک بار پھر اچھال دیا۔ ان کے سُر میں سُر ملایا رام جیٹھ ملانی نے۔ حالانکہ اس سے قبل نتن گڈکری کے خلاف محاذ کھولنے کی وجہ سے انہیںمعطل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے اپنی معطلی کے خاتمے کے لئے یہاں تک کہہ دیا کہ مودی سے زیادہ سیکولر سیاست داں اس ملک میں کوئی نہیں ہے۔ اس بات پر ان کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ویسے رام جیٹھ ملانی کی کسی بھی بات پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں جو ان کے اپنے مقاصد کو سوٹ کرتے ہوں، خواہ اس سے کوئی ناراض ہو یا خوش ہو۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ انہوں نے رام کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا تھا لیکن ان کے اور یشونت سنہا کے بیانات پر بی جے پی میں اندرونی گھمسان ضرور چھڑ گئی اور پھر راج ناتھ سنگھ کو انہیں لتاڑ لگانی پڑی اور یہ حکم سنانا پڑا کہ پارٹی کے لیڈران سوچ سمجھ کر بیان دیں اور بہتر ہوگا کہ ایسے بیانات سے گریز کریں۔ جہاں تک راج ناتھ سنگھ کا سوال ہے تو انہوں نے مودی کی امیدواری کے سلسلے میں ابھی تک واضح طور پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ انہوں نے اپنے پتے چھپا رکھے ہیںجس کی وجہ سے نریندر مودی اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہے ہوں گے۔

بہر حال جب بھی کسی پارٹی کی صدارت تبدیل ہوتی ہے تو پارٹی کی شکل و صورت بھی تھوڑی بہت بدلتی ہے۔ نظریاتی بدلاؤ تو نہیں آتا البتہ کچھ پرانے ایشوز پھر سے سامنے آجاتے ہیں کچھ سامنے کے ایشوز پس پردہ چلے جاتے ہیں،یعنی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ راج ناتھ کے آنے سے بھی ترجیحات میں تبدیلی ہو رہی ہے اور اب ایک بار پھر آر ایس ایس او ربی جے پی کے رشتوں میں سدھار کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آر ایس ایس اس کا سرپرست ہے لیکن بحیثیت سیاسی پارٹی بی جے پی بھی کچھ اختیارات رکھتی ہے جس کی وجہ سے کبھی کبھار سنگھی لیڈروں کے ساتھ ٹکراؤ بھی ہوتا ہے۔ جیسے کہ نتن گڈکری کے معاملے میں آر ایس ایس کے بزرگ کارکن ایم جی ویدیہ اب بھی اس پر بضد ہیں کہ نتن گڈکری کے خلاف پارٹی میں سازش کی گئی ہے جب کہ دوسرے لیڈران اس سے اتفاق نہیں رکھتے۔ حالات کو نئے سرے سے استوار کرنے کے لئے راج ناتھ نے آر ایس ایس کے دربار میں حاضری لگائی ہے اور کئی ایشوز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس میٹنگ کی خاص اور تشویش ناک بات یہ رہی کہ اس میں وشو ہندو پریشد کے لیڈروں کو بھی بلایا گیا تھاجیسے کہ اشوک سنگھل، پروین توگڑیا وغیرہ اور بی جے پی کے ایل کے آڈوانی، سشما سوراج اور مرلی منوہر جوشی وغیرہ بھی موجود تھے۔

اس میٹنگ میں ایک تو 2014کے عام انتخابات کے سلسلے میں تبادلہ خیال ہوا اور دوسرے رام مندر کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی۔ اگر چہ بی جے پی کا خیال ہے کہ مرکز کی یو پی اے حکومت سے عوام کی بظاہر ناراضگی سے اس کا فائدہ ہوگا اور اگلی حکومت اس کی قیادت میں بنے گی لیکن اس کے باوجود وہ اس کامیابی کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ اس کے لئے وہ وشو ہندو پریشد کا بھی ساتھ چاہتی ہے کیونکہ بہر حال ایک بار مرکز میں اس کی حکومت بننے کے سلسلے میں پریشد کی جنونی سیاست نے بھی بڑا کام کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے بعد اس جنونی سیاست نے پھر کوئی رنگ نہیں دکھایا۔ عوام نے اسے پوری طرح مسترد کر دیا، لیکن اب ایک بار پھر اس نفرت انگیز سیاست کو تیز کرنے کی کوشش کی جائے گی جس نے ملک کے عوام کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ بہر حال بی جے پی کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ عوام اگر چہ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت سے بظاہر خوش نہیں ہیں لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہیں گے کہ نفرت کی سیاست کرنے والے برسر اقتدار آجائیں۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے۔ یہاں کے عوام سیکولر ذہن رکھتے ہیں اور وہ یہ قطعی برداشت نہیں کر سکتے کہ سیاسی مخالفت کی آڑ میں فاشسٹوں کو حکومت سونپ دی جائے۔

اس لئے بی جے پی کو یہ بات اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر اس نے رام مندر یا اس قسم کے دوسرے حساس اور نازک موضوعات کو سامنے رکھ کر الیکشن لڑنے کی کوشش کی اور عوام کے اندر فرقہ وارانہ زہر بھرنے کی سعی کی تو اسے منہ کی کھانی پڑے گی اور اس کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ یوں بھی بی جے پی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے والا نہیں ہے کیونکہ لوک سبھا انتخاب ملک گیر انتخاب ہوتا ہے۔ اس میں مقامی ایشوز کے بجائے قومی ایشوز کام کرتے ہیں۔ جذباتیت کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ مختلف قسم کی پارٹیاں اور مختلف سوچ اور نظریے کی سیاست کام کرتی ہے۔ اگر بی جے پی نے نفرت انگیز موضوعات کو آگے بڑھانے یا مودی کے نام پر ووٹ مانگنے کی کوشش کی تو این ڈی اے ٹوٹ جائے گا، نتیش کمار اس سے الگ ہو جائیں گے اور پھر یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ انا ہزارے کی مہم نے جو ماحول پیدا کر دیا ہے اس کے اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ اگر چہ انہوں نے بی جے پی کے تئیں نرم رویے کا مظاہرہ کیا ہے لیکن کرپشن تو بی جے پی میں بھی خوب فراوانی کے ساتھ ہے اور نتن گڈکری کا معاملہ تو تازہ بہ تازہ ہے۔ اس کو عوام کیسے نظر انداز کر دیں گے؟ایک بات اور نہیں بھولنی چاہیے کہ مرکزی حکومت نے ترمیم شدہ لوک پال بل کو منظور کرانے کی جو پہل کی ہے اس سے بھی فرق پڑے گا۔ سونیا گاندھی نے جو قدم اٹھایا ہے وہ کانگریس کے لئے بہت مفید ثابت ہوگا۔ سونیا پر انا ہزارے بھی بہت زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ اس لئے عام انتخابات آتے آتے ملک کے حالات کیا کروٹ لیتے ہیں اس کا بھی بہت کچھ اثر الیکشن پر پڑے گا۔ اگر بی جے پی اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ مرکز میں حکومت بنائے گی تو اسے اس خوش فہمی کے غبارے سے باہر آنا ہوگا۔

بہر حال راج ناتھ سنگھ کے کندھے پر بی جے پی کا بوجھ رکھ دیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ بی جے پی کو کس راہ پر چلاتے ہیں: وہ اسے ایک ہندو جنونی پارٹی بناتے ہیں یا ایک صاف ستھری پارٹی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پارلیمانی انتخاب جہاں بی جے پی کے لیے ایک بہت بڑا امتحان ثابت ہوگا وہیں وہ راج ناتھ کے لئے بھی کسی امتحان سے کم نہیں ہوگا۔ قوت ہی بتا ئے گا کہ وہ اس امتحان میں کتنے نمبر پاتے ہیں۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By