GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  قارئین کے خطوط
ایک خادمہ کی ضرورت ہے


اپنا مادر وطن،جو اپنی ہر ایک ادا سے پوری دنیا میں مشہور ہے،جو اپنی خوبصورتی کا لوہا منواکر پوری دنیا سے سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے ، جوچلہ کلان کی کڑکتی سردیوں کی وجہ سے لاکھوں باشند گان ِ وطن اور چرند و پرندکو وادی بدر کرتا ہے،جو برف پوش چادر میں لپٹی زمین پر کرۂ ارض کے لاکھوں لوگوں کو دعوت نظارہ دے رہاہے، جو اپنی سیاسی تاریخ کی وجہ سے بہت گرم رہا ہے اور کسی نہ کسی وجہ سے بین الاقوامی خبروں میں جگہ بنانے میں آئے روز شامل رہا کرتا ہے، جو اپنی صدیوں پرانی روایات پر آج بھی قائم و دائم ہے ، جہاں گاندھی جی کو تقسیم ہند کے دوران امن کی کرن نظر آئی تھی، جہاں آج بھی کوئی سنسان سڑکوں یا ویران شاہراؤں پر نہیں سوتا ہے، جہاں آج بھی انسانیت انسان کی داد دیتی نظر آتی ہے لیکن جہاں اسلامی روایات اور بھائی چارہ کے بلند بانگ دعوے ، اخباری سرخیوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ آج کل وادی سے باہر ہونے کی وجہ سے میں وادی کے اخبارات کو خرید کر پڑھنے سے قاصر ہوں ۔ البتہ انٹر نیٹ کی وساطت سے اخبار بینی کا شوق پو را کر رہا ہوں ۔ چند روز قبل اپنے ایک پسندیدہ اخبار کو کمپیوٹر کے سکرین پر انٹرنیٹ کے ذریعہ کھولا تو شاہ سرخی، سرخیوں اور مضامین کے علاوہ چھوٹے موٹے اشتہارات تک کو پڑھا۔ ایک اشتہار نے میری نگاہ کو ہی نہیں دل کو بھی دہلایا۔ یہی وجہ بنی کہ آج میں رو پڑا،میرے پائوں تلے زمین کھسک گئی اور میری بنی بنائی اخلاقیات و انسانیت سے بھری دنیا ایک ہی لخت میں اجڑ گئی۔ ۔۔۔۔۔! اشتہار دیکھ کر دل تڑپ اٹھا۔۔۔۔!ہاں ۔۔۔! اشتہار دیکھ کر دل تڑپ اٹھا، جذبات زخمی ہوگئے، دماغ کی صلاحیت منجمد ہوگئی، جسم پر کپکپی طاری ہوئی، خوبصورت لباس کا میل سامنے آگیا، آنکھوں سے آنسو چھلک گئے ، قدم تھرتھرائے اور یک لخت خوابوں اور خیالوں سے آبادد نیا برباد ہوگئی۔ سوچ رہا تھا کہ کہاں گئی وہ ماں جس کی گود اولاد کی پہلی تربیت گاہ ہے اور جس کے سینے کی ترو تازہ صحت مند غذا، اولاد کو چلنے پھرنے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے مالا مال کردیتی ہے، سوچنے لگا ۔۔۔!

سوچنے لگاکہ کہاں گئی ہماری وہ غیرت وحمیت ، وہ ہمدردی وہ مروت ، وہ انسان دوست روشیں ، وہ تہذیب وشرافت ، وہ لفظ لفظ چومنے کے لائق تاریخ جو ماں اور اولاد کے آ ئیڈئل رشتوں کو اجاگر کر تی تھی ؟  سوچنے لگا کہ کہاں گئے وہ استاد جو ناصحانہ انداز میں سمجھا تے تھے کہ جنت ماں کے قدموں میں ہے؟، کہاں گئے وہ منبر و محراب سے سامعین کو رُلا دینے والے مولوی صاحبان جو والدین کے ساتھ احسان اور نرمی وملا ئمت کا درس دے کر پتھروں کو بھی پگھلا دیا کر تے تھے؟ اور کہاں گئے وہ لڑ کے لڑ کیاں جو بزرگ والدین کی خدمت کرکے اللہ سے شرف قبولیت کی دعائیں مانگتے تھے۔ ۔۔؟ میں سوچ میں محو تھا کہ کیوں میں نے یہ اخبار پڑھا جس نے ہزاروں دلوں کو زخمی کردیا ہو گا، جس نے نہ جانے کتنے بزرگ والدین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہو گا ، جس نے اسلامی سماج کے ساتھ ساتھ کشمیری مزاج کو بھی لرزہ بر اندام کیا ہو گا۔ میں سوچ رہا تھا کہ لکھوں ، کیا لکھوں، کیسے لکھوں، لکھ کر کیا مدیر اخباراسے قبول کرے گا ،  اسے شائع کر نے کی زحمت گوارا کرے گا اور پھر کیا کوئی اسے پڑھے گا اور پڑھ کر عبرت حاصل کرے گا کیونکہ کل ہی اس کی نظر میں اشتہار تھا۔۔۔۔۔۔ لوگو! کہ مجھے دنیا کے دھندوں سے فرصت نہیں اس لئے بزرگ ماں کے لئے ایک خادمہ کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔!۔۔۔؟

رابطہ :خاکی منزل ہردو ہنڈیو شوپیان کشمیر

 9419023516/9797137055

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By