GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
صورہ ہسپتال شیر کشمیر ٹرسٹ کو واپس ملے گا
پیر کے کابینہ اجلاس میں حتمی فیصلہ متوقع، موملازمین کا بجلی کرایہ بھی بڑے گا

جموں//ریاستی حکومت شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کی زمین ،انتظام و انصرام اور تمام اثاثے شیر کشمیر نیشنل میڈیکل انسٹی چیوٹ ٹرسٹ کو واپس سونپنے جارہی ہے، جو مفتی محمد سعید کی سابق حکومت نے اپنے اختیار میں لیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پیر کو ہونے والے کابینہ اجلاس میں حکومت صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کی زمین، انتظام و انصرام اور تمام اثاثے ٹرسٹ کو واپس سونپ دئے جانے کے منصوبہ پر حتمی فیصلہ لے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ کابینہ 2003میں اُس وقت کی مفتی محمد سعید کی سربراہی والی حکومت کی جانب سے لئے جانے والے کابینہ فیصلے کو منسوخ کرے گی، جس کے تحت حکومت نے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کا انتظام حکومتی نرسنگ ہومز اور چوپرا نرسنگ ہوم جموں کی طرز پر اپنے ہاتھوں میں لینے کا فیصلہ لیا تھا۔ شیر کشمیر نیشنل میڈیکل انسٹی چیوٹ ٹرسٹ کے ٹرسٹیز نے اس حکومتی فیصلہ کیخلاف طویل قانونی جنگ لڑی تاہم ریاستی ہائی کورٹ نے کابینہ فیصلہ منسوخ کرنے سے انکار کیا جس کے بعد انہوں نے حکومتی فیصلہ کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا۔

انالوجی

ریاستی حکومت نے ایک حکمنامہ زیرنمبرHME of 1976 محرر 27 اگست 1976 کے تحت کشمیر نرسنگ ہوم گپکار سرینگر کو اراضی ،عمارات اور دیگر تمام اثاثوں سمیت شیر کشمیر نیشنل میڈیکل انسٹی چیوٹ ٹرسٹ کو منتقل کیا ۔ایک دوسرے حکمنامہ زیر نمبرRev(NDK)90 of 1978 محرر 19 اپریل 1978 ریاستی حکومت کی جانب سے عطیہ کے طورزونی مر سرینگر میں 292 کنال 8مرلہ اراضی ،صورہ کی گورنمنٹ ڈسپنسری ،7کنال 12مرلہ اراضی سمیت ڈرگ ریسرچ لیبارٹری اور کشمیر نرسنگ ہوم کی23کنال 5مرلہ اراضی کے مالکانہ حقوق ٹرسٹ کو منتقل کئے گئے۔ٹرسٹ نے1995-96میں ریاستی حکومت سے گزارش کی کہ وہ کشمیر نرسنگ ہوم کو اپنی تحویل میں لے کیونکہ فنڈس کی قلت کے سبب وہ اس نرسنگ ہوم کو احسن طریقے سے چلا نہیں پارہے ہیں۔4جون1997کو اُس وقت کے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں یہ فیصلہ لیاگیا کہ کشمیر نرسنگ ہوم کو حکومت اپنی تحویل میں لے گی اور اسے گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کے کرنل چوپرا نرسنگ ہوم کے طرز پر چلایا جائے گا۔ایک اور حکومتی حکمنامہ زیر نمبر695-HME of 1997محرر6اگست1997کے تحت حکومت نے کشمیر نرسنگ ہوم کے احاطہ میں ایک نئی عمارت کی تعمیر مکمل کرنے کیلئے ٹرسٹ کے حق میں50لاکھ روپے کی گرانٹ ان ایڈ کو منظوری دی۔

2003کا کابینہ فیصلہ

کابینہ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ڈائریکٹر مادر مہربان انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سروس جموں نے حکومت سے اپنی ایک شاخ سرینگر میں کھولنے کی اجازت طلب کی ہے اور ٹرسٹ نے اصولی طور سے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ گپکارپر واقع نرسنگ ہوم اسے لیز پر فراہم کرے تاکہ اس جگہ کو مریضوں کے علاج ومعالجہ کے ساتھ ساتھ پیرا میڈیکل کی تربیت فراہم کی جائے۔ متذکرہ بالا کمیونکیشن کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹرسٹ نے کشمیر نرسنگ ہوم کو ایک تیسری پارٹی کو سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جوکہ حکومتی آرڈر 214-HME of 197.6 بتاریخ 28 اگست1976کی خلاف ورزی ہے اسکے علاوہ ٹرسٹ کی جانب سے تیسری پارٹی کو یہ جائیداد سونپنے سے وہ اپنے مفاد کیلئے استعمال کرسکتی ہے۔ اس حکمنامے کے ذریعے جو حکومتی آرڈر زیر نمبر 214.MEof1976 بتاریخ 27.8.1976 اور حکومتی آرڈر نمبرریو (NDK)90ٖٓٓ۔ 1978بتاریخ19اپریل1978اور اس جائیداد و زمین کا قبضہ لینے کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ آرڈر سکمز صورہ اور دیگر اداروں جو کہ ٹرسٹ سے منسلک ہیں، کا نظم و نسق ہاتھ میں لینے کیلئے کہا گیا ہے ان میں کوٹھی باغ سرینگر کی جائیداد،ڈاکٹر علی جان شاپنگ کمپلیکس بھی شامل ہیں۔ کابینہ نے یہ معاملہ ویجی لنس آرگنائزیشن کو بھی سونپا ہے تاکہ شیر کشمیر نیشنل میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے ٹرسٹی اورنظامیہ کی جانب سے یہ جائیداد کسی کو منتقل کرنے کی تحقیقات کرے جنہوں نے یہ جائیداد تجارتی مقاصد کیلئے اپنے تصرف میں رکھی ہے۔ اسی تناظر میں حکومت نے نرسنگ ہوم گپکار اور دیگر جائیدادوں کا انتظام بھی اپنے ہاتھوں میں لینے کا فیصلہ لیا ہے ۔

قانونی جنگ

ٹرسٹ کے ٹرسٹیز نے حکومتی حکمنامہ کے خلاف ریاستی ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تاہم ڈویژن بنچ نے معاملہ پر منقسم فیصلہ صادر کیا۔ جبکہ جسٹس وی کے جنجی نے عرضی ہی خارج کردی تاہم جسٹس سید بشیر الدین نے حکومتی حکمنامہ کو منسوخ کرکے رٹ پٹیشن منظور کردی۔ پٹیشن تیسرے جج کو منتقل کی گئی اور وہ ریاستی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ،جسٹس ایس این جھاتھے،جنہیں اس معاملہ میں حتمی فیصلہ صادر کرنے کیلئے کہا گیا۔ معاملہ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد تیسرے جج نے کابینہ فیصلہ میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے عرضی خارج کردی۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا ’’کیس سے متعلق حقائق و شواہد اور ریکارڈ پر دستیاب مواد کا جائزہ لینے کے بعد، میں حکومت کی اس دلیل سے متفق ہوں کہ اگر وسیع شنوائی کی اجازت دی بھی جاتی پھر بھی حکومتی حکمنامہ میں مداخلت عوامی مفاد میں نہیں ہوتی، معاملہ کی حساسیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ سبیہ طارق کے حق میں کشمیر نرسنگ ہوم منتقل کرنا واضح تھا لیکن حکومت کی جانب سے ایکشن نے مجوزہ منصوبہ کی راہ ہموار کردی‘‘۔ ٹرسٹیز نے تاہم ہمت نہ ہاری اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تاہم وہاں اس کیس کا کیا ہوا، اس بارے میں فوری طور کچھ بھی معلوم نہ ہوسکا۔

مزید کابینہ فیصلے متوقع

ریاستی کابینہ ممکنہ طور پرپیر کے اجلاس میں سرکاری اکاموڈیشن میں ٹھہرے دربار مو ملازمین کا بجلی کرایہ بڑھانے جارہی ہے۔ منصوبہ کے مطابق حکومت ایک کمرہ کیلئے ماہانہ 250، دوکمروں کیلئے 400 اور 3 کمروں کیلئے 700 روپے ماہانہ بجلی کرایہ ہوگا تاہم یہ کرایہ ملازمین اور محکمہ جائیداد یکساں طور برداشت کرینگے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By