GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
نئے سرے سے کیس کھولنا مرعوب کرنے کی کوشش
فیس بک معاملے پر گرفتاریاں ناقابل قبول:گیلانی/ بلال

سرینگر//حریت کانفرنس(گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے فیس بُک استعمال کرنے والے نوجوانوں کی گرفتاری اور آزادی پسندوں کے خلاف 2010 کے کیس نئے سرے سے کھولنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریاست جموں کشمیر میں مصنوعی امن قائم رکھنے کے لئے خوف ودہشت کا ماحول قائم کررہی ہے اور یہاں بڑے پیمانے پر لوگوں کے بنیادی شہری حقوق پامال کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زور زبردستی مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نہیں ہے اور اس طرح کی غیرجمہوری پالیسی سے معاملات سلجھنے کے بجائے اور زیادہ الجھ رہے ہیں۔ گیلانی نے فیس بُک استعمال کرنے والے نوجوانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ آن لائن سوشل ویب سائٹس پر کسی مسئلے کے بارے میں تبصرہ کرتے وقت شائستگی کو ہرصورت میں برقرار رکھا کریں اور نان ایشوز پر لکھنے کی بجائے جموں کشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو اُجاگر کرانے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں۔ پولیس کے ہاتھوں طارق مجید خان، رمیز احمد شاہ اور ارشاد احمد کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت فورسز کے ہاتھوں خواتین کے خلاف جرائم کے بارے میں ورما کمیٹی سفارشات مسترد کئے جانے اور 2010 کے کیس نئے سرے سے کھولنے جیسے سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ریاست میں نان ایشوز پیدا کررہی ہے اور اس سلسلے میں بھارتی میڈیا کا بھی حکومت کو بھرپور سپوٹ مل رہا ہے۔ گیلانی نے کہا ’’ کشمیری قوم کی رواداری، بھائی چارے اور یگانگت سے متعلق روایات دوسروں کے لیے بھی قابل تقلید ہیں اور ہم نے مشکل ترین حالات میں بھی اس سلسلے میں شاندار مثالیں قائم کی ہیں، حکومت ہندوستان البتہ ہماری اس شبیہ کو خراب کرنے کے ایک سوچے سمجھے منصوبے پر عمل کررہی ہے۔ وہ ہماری قوم کو فرقہ داریت اور بہیمیت کی حامل ثابت کرانا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے یہاں کی مقامی حکومت کو بھی ایک ٹول(Tool)کی حیثیت سے استعمال کیا جارہا ہے‘‘۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ پچھلے22سال کے دوران میں جموں کشمیر میں بھارت کی مسلح فورسز کے ہاتھوں خواتین کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب ہوتا رہا ہے، البتہ ریاست میں کالے قوانین کے نفاذ کی وجہ سے آج تک ایک بھی اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے، کسی تھانے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوا ہے اور نہ کسی کی کوئی سرزنش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسی صورتحال میں جب بھارتی حکومت ان جرائم کی تحقیقات کرنے کے لیے عالمی اداروں کو ریاست میں آنے کی جازت نہیں دے رہی ہے، ورما کمیٹی سفارشات سے کم از کم یہ امید ہوگئی تھی کہ متاثرہ خواتین اب اپنے کیس لیکر سول عدالتوں میں جاسکتی ہیں، لیکن بھارتی حکومت نے انتہائی ہٹ دھرمی اور بہیمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وردی پوشوں سے متعلق سفارشات کو یکسر مسترد کردیا۔ نعیم احمد خان اور دیگر نوجوانوں کے خلاف 2010 کے کیس نئے سرے سے کھولنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ عمرعبداﷲ نے اس وقت اگرچہ یہ سارے کیس کالعدم کئے جانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ سب فراڈ ثابت ہوا اور پولیس سرگرمی سے اس سلسلے میں کام پر لگائی گئی ہے کہ وہ حریت لیڈروں اور عام نوجوانوں کی درجہ بندی کرکے ان میں سے مضبوط موقف رکھنے والوں کے کیسوں کو دوبارہ کھولے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گھڑے مردے اکھاڑنے کے مترادف کارروائی ہے اور اس میں براہِ راست بھارت کی ہوم منسٹری اور اس سے وابستہ خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ ادھر پیپلز کانفرنس چیئرمین بلال غنی لون نے بھی نوجوانوں کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں بلال لون نے کہا کہ پراگاش معاملے پر لوگوںکو گرفتار کرنا بدقسمتی ہے کیونکہ محض شک کی بنا پر گرفتاریاں کسی بھی مہذب سماج میں ناقابل قبول ہے۔ انہوںنے کہا کہ میں دھمکیوں کو صحیح نہیںمانتا لیکن یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کرکے ہی گرفتاریاں عمل میں لائیں۔ چونکہ گرفتارشدگان طلباء ہیں لہٰذا اس معاملے کو احتیاط کے ساتھ لینا چاہئے تاکہ ان نوجوانوں کا مستقبل خراب نہ ہونے پائے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By