GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
عید گاہ میں بھرائی سے تاریخی عالی مسجد کوخطرہ لاحق
پانی کی سطح بڑھنے سے ملحقہ آبادی بھی متاثر، ڈرین کی فوری تعمیر کا مطالبہ

سرینگر// ریاست جموں وکشمیر تاریخ کی خاموش گواہ میدان عیدگاہ کے ایک کونے میں کھڑی، عالی مسجدحکام و عوام کی غفلت کی وجہ سے شدید خطرات میں ہے ۔ عید گاہ کے علاقے میں ہونے والی بھرائی سے عالی مسجد کے ارد گردزمین کی سطح بلند ہوگئی ہے اور پورے علاقے کا پانی عالی مسجد کے محراب کی طرف جمع ہونے لگا ہے جس سے نہ صرف اس تاریخی مسجد کی عمارت کیلئے شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے بلکہ اس کے آ س پاس کی کالونیوں میں بود باش کرنے والے عوام کیلئے بھی مشکلات کھڑی ہوگئیں ہیں۔ عیدگاہ کے میدان کو عیدین کی نمازوں کیلئے استعمال کیا جاتا رہتا ہے جبکہ میدان کی ایک جانب واقع عالی مسجد ایک عرصہ تک ویران رہنے کے بعد کچھ عرصہ سے پھر آباد ہوگئی ہے لیکن اس مسجد میں نماز پڑھنے والوںکے مطابق مسجد کے ارد گرد پانی جمع ہونے کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور مسجد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق شاہ ہمدان ؒ کے فرزند حضرت میر محمد ہمدانی ؒ نے 400کنال پر مشتمل یہ اراضی خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کر دی تھی لیکن اب سکڑتے سکڑے عیدگاہ کی اراضی صرف70کنال ہی رہ گئی ہے۔ عید گاہ کے ہی احاطے میں 1471کے آس پاس سلطان حسن شاہ نے عالی مسجد کی تعمیر کروائی تھی اور یوں یہ مسجد ریاست جموں وکشمیر کی قدیم ترین مسجدوں میں سے ایک ہے۔ سوشل ویلفیئر کمیٹی فردوس کالونی عید گاہ کے صدر معراج الدین بانڈے نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی عالی مسجد اور اس کے ملحقہ کالنیوں میں ، عید گاہ میںہونے والی بھرائی کی وجہ سے پانی بھر گیا ہے جس سے مسجد اوران کالنیوں میں بنے مکانات کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل محکمہ یو ای ای ڈی نے اس پانی کی نکاسی کیلئے ڈرینج پروجیکٹ پر کام شروع کر دیا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پریہ کام روک دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالی مسجد پانی جمع ہوجانے کی وجہ سے نہ صرف اس کی دیواروں میں سیلن پیدا ہوگئی ہے بلکہ اس کے احاطے میں چلنا پھرنا بھی مشکل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مسجد میں نماز قائم کیا جانا بھی ممکن نہیں رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالی مسجد کے ارد گرد رہنے والے عوام کیلئے بھی پانی جمع ہوجانے کی وجہ سے عبور ومرور کی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ معراج الدین بانڈے کا کہنا تھا کہ اگر فوری طور پر پانی کی نکاسی کیلئے ڈرین بنانے کا کام پھر شروع نہیں کیا جائے گا تو اس علاقے کے عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے۔  اس ضمن میں حلقہ انتخاب عید گاہ  کے ممبر اسمبلی مبارک گل سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس ڈرینج پروجیکٹ کیلئے پہلے ہی70لاکھ روپے واگذار کئے ہیں لیکن عوام کی طرف سے عید گاہ کی وسط سے ڈرین بنائے جانے پر اعتراض کے بعد انہوں نے انجینئروں کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ ڈرین کیلئے عیدگاہ کے گرد متبادل خاکہ تیار کریں تاکہ عیدگاہ، مزار شہداء کا تقدس پامال نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عالی مسجد کی تعمیر کو کوئی نقصان نہیں ہونے دے گی لیکن چونکہ اس وقت بارشوں اور برف باری کی وجہ سے پانی کی سطح بڑھ گئی ہے اس لئے ڈرینج کا کام رکا ہوا ہے۔تاہم 6ماہ تک اس ڈرین کا کام مکمل ہونے کی امید ہے جس کے بعد اس علاقے کا یہ درینہ مسئلہ حل ہوجانے کی امید ہے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By