GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  قارئین کے خطوط
شیام جی کی یاد میں


 ایک ایسی صدمہ خیزی کی شبیہ اُتارنا جو انسان کے وجود کو اندر ہی اندر گھن کی طرح کھائے جارہی ہو، جس کے نال کوبے ڈھنگے طریقے پر الگ کیا گیا ہواور اس کو زندہ اور متحرک ہونے کے بجائے نامُردگاں کے طور پر چھوڑا دیاجاتاہے۔ شیام کول اس چنار کی بات کررہے تھے جو وہ اپنے گھر کے صحن میں پیچھے چھوڑ آئے تھے جب کہ اب ان کا کوئی گھر ہی نہیں رہا تھا ۔ یہ درد بھرا اور حسرت ناک مضمون چند برس قبل شائع ہوا تھا جس کو ہمارے محدود فہم وادراک کے مطابق صحافت کے زمرے میں رکھا گیا لیکن میری دانست میں یہ ادب لطیف شاہکار تھا ۔میں نے جو کچھ پڑھا تھا یہ اس سے کہیں زیادہ بر تر تھا ۔

یہ اُن کا ایک ہی شاہکار نہیں تھا بلکہ اُن کے کئی شاہکارہیںگرچہ ان میں سے کچھ تراشیدہ ہیں مگر پھر بھی یہ سب ہیرے ہیں ۔شیام کول کو قدرت نے دنیاوی چیزوں کو ایک شاعر کی نگاہ ِ حساسیت سے دیکھنے کا بیش بہا تحفہ دیا تھا اور یہ بھی ان کا خاصہ تھاکہ وہ نہایت حساس موضوعات پر بڑی متحمل مزاجی اور جذبات سے عاری ہوکر بات کیا کرتے تھے ۔ ان کی یہ دونوں صفات قابل رشک تھیں۔

ان کے دوست احباب اور زندگی کے ہر شعبے کے شناور انہیں ازراہ شوق شیام جی کہا کرتے تھے ۔ ان کی شخصیت بڑی پُرکشش تھی۔ اگر کوئی ان کی شخصیت کی تصویر کشی کرنا چاہتا تو اس کومسرت وشادمانی حاصل ہوتی بلکہ وہ زندگی کی لطافتوں سے بہرہ ور ہوتا۔ قدرت نے انہیں اس نعمت سے بے پناہ انداز میں فیض یاب کیا تھا ۔ ان کے ہرلفظ کاسنجیدہ انداز ہوا کرتا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ فہم وادراک کی نزاکتیں اس میں سموئی ہوا کرتی تھیں۔ اُن کی پیشہ وارانہ اور معاشرتی زندگی قلمبند کی جاچکی ہے اور یہ اب عوام کے سامنے ہے مگر وہ  ذاتی طورجس ماحول کا حصہ تھے بلاشبہ اسی کا ایک جزولاینفک تھے اور انہیں اسی کی روشنی میں دیکھے جانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے نوجوانوں کی ایک نسل کو پروان چڑھایا …نشاۃ ثانیہ کی نسل ۔ اس پود کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ دانشورانہ جوش وخروش ،تجسس ، تخلیقیت ،اس کا سب سے بڑا امتیاز ہے ۔

یہ وہ نسل تھی جس نے عقیدے کی جست میں روایات کے خزینے سے تحقیق وتجسس، اُفق ،بغیر اُفق اورکسی نہ کسی طرح ان دونوں مقامات پر بیک وقت براجمان رہے ۔ بڑی اہمیت کے حامل یہ لوگ 1940ء اور 1950ء کے ہنگامہ خیز او رپُرجوش عشروں کے گواہ ہیں ۔ وہ  نے اپنے اردگرد 1960ء اور 1970ء کے عشروں کی دنیا بنانے میں مصروف عمل تھے۔ یہ استحکام اور افزودگی کا دور تھا اور جب وہ نئی نسل کو مشعل سپرد کرنے کی تیاریاں کررہے تھے کہ اُن کی ساری کائنات تہ و بالا ہوکر ڈھ گئی ۔

وہ من موہنے اقدار کو آپسی تعلقات میں بڑی اہمیت دیتے تھے ۔۔۔۔ احتیاط سے فروغ پانے والے یہ خواب جو تمام خس وخاشاک کی طرح بہہ گئے ۔ اس نسل کے وہ لوگ جو تہذیبی دڑار سے قبل چل بسے، ان کے ساتھ منصفانہ سلوک ہوا کیونکہ نوجوان طبقہ یعنی عقبی دستے کو روح فرسا مرحلے کا مقابلہ کرنا پڑا۔

ہرچیزکا کچھ نہ کچھ مطلب ہوتاہے ۔بلاشبہ زندگی بھی بجائے خود بکھر کر رہ گئی اور وہ اتنے بے بس تھے کہ وہ کچھ بھی نہیں کرپائے ۔اس پس منظر میں شیام جی کی طمانیت جس کا اظہار انہوں نے اپنی نجی اور عوامی زندگی میں کیا قابل فہم بن جا تی ہے ۔ وہ رات کی تاریکی میں کھلے تلاطم خیز سمندر میں روشنی کے مانند تھے۔ تاہم جب کوئی پلٹ کر دیکھتاہے تو وہ طمانیت درد وکرب میں تبدیل ہوجاتی ہے اور بے بس اور معذور دکھائی دیتی مگر لمحات گزشتنی اور رفتنی ہوتے ہیں ۔شیام جی کبھی بھی متنازعہ معاملات پر بحث کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے بلکہ ان کا یہ خاصا تھاکہ وہ تناظر کو برقرار رکھتے تھے ۔ ان کی بات میں کوئی کرختگی نہیں ہوتی تھی ۔ان کا لہجہ متوازی اور یکساں ہوتا تھا۔ اُن کے خیالات متعین ہوتے تھے ۔ ان کی نقل مکانی کی نگارشات میں کوئی مخاصمت ، تلخ نوائی یا ’’ماضی میں مقید رہنے کی بحث کی کوئی بات ہی نہیں ہوتی تھی ‘‘مگر یہ سب کچھ انہیں دو ٹوک بات کہنے میں مانع نہیں ہوتاتھا۔ انہیں اپنے پیشہ وارانہ ہمسر وہمعصربڑی عزت وتوقیر کی نگاہ سے دیکھتے ۔ یہی حال سیاسی جماعتوں کا تھا (ان کی نگارشات انہیں اکثر مخاصمانہ پوزیشن میں رکھتی تھیں۔)

شیام جی جونہی کمرے میں داخل ہوتے تھے تو گویاایں خانہ تمام آفتاب شد کی جیسی بات ہوتی تھی حتیٰ کہ زبردست مایوسی بھی دور ہوتی تھی ۔ بے کیف اور مایوس کن لمحات بھی بوجھل محسوس نہیں ہوتے تھے ۔ آج جب میں اسی نوعیت کے بے کیف اور مایوس لمحات سے گزار رہا ہوں تو مجھے ان کی تشفی اور تسلی بخش موجودگی حاصل نہیں ہے جو مجھے ان کی دائمی جدائی کا صدمۂ جانکاہ برداشت کرنے کا حوصلہ دیتی ۔ مجھے اب وقت کی مدد سے اپنے آپ کو سہارا دینا ہوگا۔ میری والدہ کو گزرے ہوئے …کئی برس ہوئے تھے کہ شیام جی نے مجھ سے کہا کہ وہ ان کو شیام لو کہہ کر پکارتی تھیں ، جب وہ چھوٹے تھے ۔ آخر کار وہ اُن کے چھوٹے چچیرے بھائی تھے ۔ وہ میرے لئے ہمیشہ چاچاہی نہیں بلکہ ایک بزرگ دوست َ۔۔۔ ایک عزیز دمساز۔۔۔۔ اور وہ میرے لئے ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By