GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
۹ فروری۱۹۱۱ء
آل احمد سرور کی یاد میں

پروفیسر تسکینہ فاضلفردوس بر رُوئے زمین اور ماضی میں اہلِ نظر کے یہاں ایرانِ صغیر کہلائے جانے والے خطے کشمیر کے سب سے بڑے علمی مرکز دانش گاہِ کشمیر کو آج تک جن اکابر اساتذہ اور مشاہیر کی خدمات کا اعزاز حاصل رہا ہے، اُن میں گزشتہ صدی کی ستّر اور اسّی کی دہائیوں میں مقتدر اور بے بدل اساتذہ کی وہ تثلیث بھی شامل ہے جو پروفیسر آل احمد سرور، پروفیسر سید مقبول احمد اور پروفیسر منظورالامین پر مشتمل ہے۔ جا معۂ کشمیر کے ان ارکانِ ثلاثہ کا تعلق بالترتیب اقبال انسٹی ٹیوٹ، سینٹر آف سنٹرل ایشین اسٹیڈیز اور ماس کمیونکیشن کے شعبوں سے تھا۔ ان تینوں قد آور شخصیتوں کا اپنے اپنے میدان میں اہم مقام و مرتبہ ہے۔ تینوں نے جو نمایاں کارنامے انجام دئے ہیں، اُن پر کشمیر یونیورسٹی ہی نہیں پوری علمی اور ادبی دنیا ناز کرسکتی ہے۔ یہ وہ ارباب علم و دانش اور اہلِ کشمیر کے بہی خواہ تھے جن کی انتھک کوششوں کی بدولت یہ تینوں ادارے اپنی آفرینش سے لے کر کے مختلف مراحل سے گزر کر آج جامعۂ کشمیر کے تین بڑے اداروں کی حیثیت سے اپنا کام انجام دے رہے ہیں۔متذکرہ بالا تینوں اداروں کے ناظم غیر کشمیری تھے، جنہوں نے کشمیر سے باہر اپنے اپنے شعبوں میں خاصی شہرت حاصل کی تھی۔ چنانچہ خدمت خلق اور اعلیٰ انسانی قدروں کی پاسداری کے جذبۂ بے پایاں سے سرشار ہوکر ان تینوں ارباب علم و دانش کے یہاں جغرافیائی حدود، رنگ و نسل اور زبان وغیرہ کے امتیازات بے معنی تھے۔ ان کا عمل بے لوث ہونے کی بناء پر ان کی جزا بھی کچھ اور ہے۔ اس وقت مذکورہ بالا تثلیث کے ایک ہی رُکن پروفیسر آل احمد سرور کے یومِ وصال کی مناسبت سے اُنہیں اپنی بساط کے مطابق خراج پیش کرنا مقصود ہے۔

    سرور صاحب کو شایانِ شان خراج پیش کرنے کی اہلیت اور سعادت وہی حاصل کرسکتا ہے جواُن کے حقیقی مقام و مرتبے سے آگاہ ہو۔ سرور صاحب ۹فروری ۱۹۱۱ ء کو علی گڑھ کے شہر بدایوں میں پیدا ہوئے تھے۔ اُنہوں نے نوے سال کی عمر پاکر ۹فروری ۲۰۰۲ئ؁ کو وفات پائی۔بغور دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سرور صاحب جیسی ممتاز شخصیتیں کب کسی تعارف کی محتاج ہوسکتی ہیں۔ ادب کا وہ کون سا طالب علم ہے جو اُن کے نامِ گرامی اور اُن کے غیر معمولی کارناموں سے واقف نہیں۔ سرور صاحب اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ وہ ہمہ پہلو شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بیک وقت ایک شاعر، نقاد، ادیب، دانشور، اُستاد، ماہرِ اقبال اور اصول کے پابند انسان تھے۔ سرور صاحب اُستاذالاستاذ تھے۔ اُن جیسا آئیڈیل اُستاد پیدا ہونے میں خاصا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اُنہیں تین چار نسلوں کی تربیت کرنے کا اعزاز حاصل ہے جن میں بڑے بڑے ادیب اور اساتذہ شامل ہیں۔ سرور صاحب جیسے ہمدرد اور آئیڈیل استاد کو مرحوم لکھتے ہوئے دل میں اِک ہُوک سی اُٹھنے لگتی ہے لیکن موت پر کس کا بس چلا ہے۔ سرور صاحب کی شخصیت قوسِ قزح کے خوبصورت رنگوں سے عبارت تھی۔ وہ اپنے ہر رنگ میں آئیڈیل نظر آتے رہے۔ جامعۂ کشمیر کے اقبال انسٹی ٹیوٹ سے سرور صاحب کی وابستگی کا جہاں تک تعلق ہے۔ ۷۰ء کی دہائی کے اختتامیہ برسوں میں ریاست جموں و کشمیر کے اُس وقت کے وزیراعلیٰ شیخ محمد عبداللہ کی کوششوں سے کشمیر اور اہل کشمیر پر حکیم الامت علامہ اقبال کے احسانات کے پیش نظر دانش گاہِ کشمیر میں اقبال چیٔر کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ ۱۹۷۷ء کی بات ہے۔ سرور صاحب کو اس چیٔر کے لئے پروفیسر مقرر کیا گیا۔ سرور صاحب کی کاوشوں کے نتیجے میں ۷۹ء میں مذکورہ چیٔرکو اقبال انسٹی ٹیوٹ کا درجہ دیا گیا۔ سرور صاحب کے رفقائے کار میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، کے سابق وائس چانسلر اور نامور ماہر لسانیات، ادیب، شاعر اور اقبال شناس پروفیسر مسعود حسین خان فارسی کے بہت اچھے اُستاد پروفیسر کبیر احمد جائسی وغیرہ شامل تھے۔ سرور صاحب اقبال انسٹی ٹیوٹ میں ۷۷ء سے ۸۷ء تک یعنی دس سال رہے۔ اس مدت کے دوران ریسرچ اسکالروں کی تربیت، نہایت اہم موضوعات پر سمینار اور توسیعی خطبات کا اہتمام، مطبوعات کی اشاعت، اقبال کے نورِ بصیرت کو شایان شان طریقے سے عام کرنے کے لئے انٹر اکالج مباحثوں اور بیت بازی کے مقابلوں کا اہتمام کرنا سرور صاحب کی علمی سرگرمیوں میں شامل تھا۔ اقبال انسٹی ٹیوٹ میں قیام کے دوران سرور صاحب اقبال کی شاعری اور فکر کے نہایت اہم پہلوئوں پر ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالروں کی نگرانی کرتے رہے۔ ان میں اقبال کا سیاسی فکر، اقبال اور سوشلزم، اقبال اور ہیومنزم، اقبال اور تصوف، اقبال اور غزل، اقبال اور کشمیر، اُردو نظم میں اقبال کا کارنامہ جیسے موضوعات شامل ہیں۔ نیز اُردو شاعری کے دیگر موضوعات پربھی سرور صاحب کی نگرانی میں تحقیقی مقالے لکھے گئے۔ اس دور میں ادارہ میں علم و تحقیق کا ایک ایسا اعلیٰ معیار قائم کیا گیا جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔ چنانچہ اس دور کو اقبال انسٹی ٹیوٹ کے عہد زرّیں سے تعبیر کرنا مبالغہ نہ ہوگا۔ سرور صاحب اپنی نگرانی میں کام کرنے والے اسکالروں سے جم کر کام کرواتے۔ وہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ کام لینا بھی جانتے تھے۔ ریسرچ اسکالر کے کام کو جب ہی قابل اعتنا اور قابل قبول سمجھا جاتا تھا جب وہ اپنے موضوع سے متعلق تمام ضروری ماخذات اور کتابوںکا غائر مطالعہ کرکے اُن سے کماحقہ استفادہ کرتا۔ کام دیکھنے کیلئے سرور صاحب اسکالر کے ساتھ وقت پہلے سے مقرر کرلیا کرتے تھے۔ اکثر و بیشتر سہ پہر میں کام دیکھتے۔ ان کا طریقۂ اصلاح بڑا ہی دلچسپ، سودمند، منفرد، مشفقانہ اور ماہرانہ ہونے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی سخت گیر بھی ہوا کرتا تھا۔ کہیںکہیں تحریر میں اسکالر کی غفلت شعاری، سہل انگاری اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے پیش نظر اُنہیں غصہ بھی آجاتا تو ’’ابے عقلمند‘‘ کے الفاظ  اُسے سناتے۔ غیر ضروری الفاظ، فقروں اور جملوں کو کاٹ کر پوری عبارت کو اس طرح خوبصورت اور پُراز معنی بنادیتے جس طرح کوئی ماہر باغبان باغ کو جھاڑ جھنکار سے پاک و صاف کرکے دیدہ زیب بنادے۔ اصلاح کا یہ طریقہ ایک استاد کے اہل نظر ہونے کے علاوہ شاگرد کے تئیں اس کی شفقت اور ہمدردی کی بھی غمازی کرتا ہے۔ علم کے نشے میں چُور ہوکر اسکالر کے کام پر اپنے کام کو ترجیح دینا، اس کی حاضری کو اپنے کام میں رکاوٹ سمجھ کر اُس سے پیچھا چھڑانے کی غرض سے عجلت میں بے دردی سے اس کی محنت پر پانی پھیرنا- یہ سرور صاحب کا شیوہ ہرگز نہ تھا۔ بلکہ وہ اسکالر میں خود اعتمادی پیدا کرنے کا ہُنر بھی بخوبی جانتے تھے۔ تحریر میں جہاں کوئی کمی، کوتاہی یا خامی محسوس کرتے، اُسے دور کرنے کا راستہ اسکالر کو سجھادیتے۔عبارت میں موجود غلطیوں پر ان کی تیز نگاہ شاہین کی مانند پڑتی۔ واقعات کی صحت کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اس کے لئے اسکالر کو خواہ کتنی ہی محنت کرنا پڑتی۔

            سرور صاحب وسیع ذہن، اعلیٰ ظرف اور بالیدہ فکر کے مالک تھے۔ جن لوگوں پر انہوں نے احسان کیا، ان میں سے بعض اُن کے مخالف بھی ہوئے لیکن سرور صاحب کی شخصیت میں عظمت کا پہلو ہمیشہ کارفرما رہا۔ زندگی کے تئیں اُن کا ایک مثبت نظریہ تھا۔ اُنہیں اس بات پر یقین واثق تھا کہ خدا نے انسان کو بے پناہ صلاحیتوں اور استعداد سے نوازا ہے۔ کسی کی صلاحیتوں کو بھانپ کر اُنہیں بروئے کار لانے میں سرور صاحب اپنا جواب نہیں رکھتے۔وہ بار بار ذہن کے دریچوں کو کھلا رکھنے پر خاصا زور دیتے۔ جو کہتے اس پر خود بھی عمل کرتے۔ علم کی دولت سے مالا مال ہوکر ہروقت ہر آن کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے اور اسے دوسروں کو سکھانے کے خواہاںرہتے۔ انہوں نے کبھی بھی علم میں بخل سے کام نہیں لیا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے علم میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا۔ وہ سوچ سمجھ کر اور وسیع تناظر میں کوئی نکتہ بیان کرتے یا لکھتے۔ مطالعہ کرنے کے بعد گہرے غوروفکر سے کام لیتے۔ اُن کے تنقیدی مقالات میں اکثر و بیشتر ہمارا سابقہ اُن چھوٹے چھوٹے جامع جملوں سے پڑتا ہے جو نہ صرف ایک پورے مقالے بلکہ مبسوط کتاب کا موضوع بن سکتے ہیں۔ سرور صاحب الفاظ کے اصراف کے بجائے کفایت لفظی سے کام لینے پر خاصی قدرت رکھتے تھے۔ اختصار اور جامعیت کے فن کو برتنا کوئی آسان کام نہیں۔یہ فن بڑی ریاضت اور جان سوزی کے نتیجے میں آتا ہے۔ سرور صاحب کی تحریروں میں اکثر مقامات پر دریا کو کوزے میں بند کردینے کے فن پر اُن کی دسترس کے ثبوت فراہم ہوتے ہیں۔

            سرور صاحب کی شخصیت میں بزرگی کے عنصرکو میں نے بار ہا محسوس کیا ہے۔ وہ عمر اور منصب کے امتیاز سے بالاتر ہوکر جس شخص میں کوئی صلاحیت دیکھتے، اُس کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہتے۔ یونیورسٹی کے کئی نوجوان اساتذہ میں علم کی شعاعیں پھوٹتی دیکھ کر سرور صاحب جس عالی ظرفی، بزرگی اور دریا دلی کے ساتھ اُن میں خوداعتمادی اور عالی حوصلگی پیدا کردیتے، وہ آج کے اس ناہنجار دور میں اپنے فرائض منصبی سے نابلد اکثر اساتذہ کے لئے نشانِ راہ ہونے کے علاوہ چشمِ کشا بھی ہے۔ ایک آئیڈیل استاد کی حیثیت سے سرور صاحب نے جس ذمہ داری کو قبول کیا تھا اُس سے کمال وفاداری اور بڑی خوبی کے ساتھ نبھانا کوئی اُن سے سیکھے۔ نہ صرف دفتری اوقات بلکہ اپنی زندگی کی توقیّت (calender) کو انہوں نے اس طرح ترتیب دیا تھا کہ ہر کام اپنے مقرر اور مناسب وقت پر انجام دیتے۔ جن دنوں جامعہ کشمیر کے وائس چانسلر کو یونیورسٹی سے باہر جانا پڑتا، سرور صاحب سے قائم مقام وائس چانسلر کی حیثیت سے چارج سنبھالنے کیلئے کہا جاتا۔ سرور صاحب ایک آئیڈیل اکیڈیمشین(ideal academician) ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ پائے کے منتظم (administrator)بھی ثابت ہوئے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی انتہائی مصروفیات کے ان ایام میں بھی اقبال انسٹی ٹیوٹ اور اس ادارے کی فلاح کا خیال اس دردمند اور پُرسوز اُستاد کے قلب و ذہن سے کبھی محو نہیں ہوا۔ چنانچہ انسٹی ٹیوٹ کیلئے بھی وقت نکال لیتے۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ سرور صاحب جس منصب سے بھی وابستہ رہے، اسے اُن کے خلوص، ذمہ داری کے احساس اور بے لوث خدمت کی بدولت بلند مقام حاصل ہوا۔ سرور صاحب کے طرزِ حیات کے پیش نظر اگر اُنہیں مردِ درویش کے لقب سے ملقب کیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ کیونکہ علم کی دولتِ بے بہا سے سرفراز ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی کی تمام تر ضروریات میسر ہونے کے باوجود وہ قلندرانہ زندگی بسر کیا کرتے تھے۔ نمود و نمائش سے پاک و صاف زندگی، ہر شخص کی خیر خواہی، اپنے کام سے کام رکھنے کی خُو اور ذاتی تشہیر کی بھوک پیاس سے حد درجہ کی بے نیازی کو اُن کے فقر غیور کی نشانیوں سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کسی کو حاجی کہا اور نہ ہی کسی سے خود کو حاجی کہلوانے کی ضرورت محسوس کی۔وقت کی پابندی اور اس کی قدرومنزلت کے احساس میں سرور صاحب اپنی نظیر آپ تھے۔ آج کے کام کو آج ہی نپٹانے کی غرض سے دفتر میں دیر تلک بیٹھ کر کام میں جٹے رہتے۔ میں نے انہیں موسم گرما کے دنوں میں انسٹی ٹیوٹ سے اکثر چھ چھ بجے نکلتے دیکھا ہے۔ وقت کے تیز بہائو کے شدید احساس کے تحت اسے بامعنی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔ انسان کی تخلیق خوردونوش کیلئے نہیں، بلکہ اُسے اس دنیا میں کسی مقصد کے تحت خلق کیا گیا ہے۔سرور صاحب اس نکتہ سے بخوبی واقف تھے۔ چنانچہ کام کو عبادت کی طرح انجام دیتے رہے۔

            علم و ادب کی دنیا پر بالعموم اور جامعۂ کشمیر کے اقبال انسٹی ٹیوٹ پر بالخصوص پروفیسر آل احمد سرور کے بڑے احسانات ہیں۔اُن کے احسانات کو کوئی بھی تہذیب یافتہ قوم فراموش نہیںکرسکتی۔

تو کہاں ہے اے کلیم ذروۂ سینائے علم

 

تھی تری موجِ نفس بادِ نشاط افزائے علم

اب کہاں وہ شوقِ رہ پیمائی صحرائے علم

 

ترے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم

’’شورِ لیلیٰ کو کہ باز آرایشِ سودا کند

خاکِ مجنوں را غبارِ خاطرِ صحرا کند‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 رابطہ : مضمون نگار اقبال انسٹی چیوٹ کشمیر یو نیو رسٹی کی ڈائریکٹر ہیں

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By