GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
جسٹس ورما سفارشات
میزانِ عدل اور یہ آینہ بـے غبار

پورے ہندوستان میں خواتین کے تحفظ کے متعلق جسٹس ورما کی صدارت میں قائم کئے گئے کمیشن کی طرف سے پیش کردہ سفارشات کا خیرمقدم کیا گیا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس کمیشن نے اپنا کام وقت مقررہ سے کافی عرصہ پہلے کرلیا،ورنہ یہاں کون نہیں جانتا کہ مختلف کمیشنوں کا انجام عبرت کے سوا کچھ بھی نہیںنکلتا اور ان کمیشنوں سے انصاف پانے کی معمولی سی امید رکھنے والے انتظار کرتے کرتے اپنا دکھ درد ہی بھول جانے کے لئے مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس بات کے لئے جسٹس ورما اور اُن کے تحقیقاتی ساتھیوں کو اگر مبارکباد نہ دی جائے تو نامناسب ہوگا لیکن اس سے بھی زیادہ حوصلہ افزاء بات یہ تھی کہ اس کمیشن کی طرف سے پیش کردہ سفارشات کا نہ صرف ہندوستان کی سول سوسائٹی، دانشوروں، خواتین کے لئے کام کرنے والی رضاکار تنظیموں اور ایک دوسرے سے متضاد خیالات رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے خیر مقدم کیا بلکہ مزاحمتی قائدین لے کرسے ارباب ِ اقتدار تک ہر بات کے حوالے سے متضاد سوچ رکھنے والے کو ئی بھی کشمیری سیاستدان جسٹس ورما کمیشن کی رپورٹ کا خیرم مقدم کرنے میں یک زبان ہوگئے۔ جسٹس ورما کمیشن دراصل دامنی صمت دری اور قتل معاملے کے پس منظر میں قائم کیا گیا تھا اور جیسا کہ ہر ایک معلوم ہے کہ اس واقعے نے پورے ہندوستان خاص طور سے ہندوستان کے دل یعنی دلی کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔ جہاں یہ بات کسی المیہ سے کم نہیں کہ پورے ہندوستانی معاشرے نے خواتین کے عزت و آبرو کی وکالت کرکے حق ادائی کی وہاں بدقسمتی سے کوئی ایک آواز بھی اس ساری تحریک کے دوران جموں وکشمیر کی خواتین کے ساتھ گذشتہ25برسوں کے دوران پیش آنے والے قابل نفرین اور ناقابل برداشت واقعات کی رسمی مذمت رک کرنے کے لئے بھی تیار نہ ہوئی تاہم جسٹس ورما نے جب اپنی سفارشات ہندسرکار کو پیش کیں تو کمیشن کی سفارشات میںاچھی سفارشات کے کے علاوہ حفاظتی افواج کو AFSPAکی آڑ میں خواتین کی عزت و عصمت کے ساتھ کھیلنے کے راستے بند کرنے کی بات کہی گئی اور اس گھناونے جرم میں ملوث اہلکاروں کو عام آدمی کی طرح ان پر FIRدرج کرانے کی سفارش کی گئی۔اگرچہ اہل کشمیر کا یہ جائز مطالبہ کہ AFSPAکو سرے سے ہی واپس لیاجائے جسٹس ورما کی پیش کردہ سفارشات سے کوسوں دور ہے لیکن پھر بھی آزادی پسند سیاسی جماعتوں نے جسٹس ورما کی سفارشات کا خیر مقدم کرکے دوراندیشی، فہم اور تدبر کا مظاہرہ کیا۔ اسی بات سے حوصلہ پاکر وزیر اعلیٰ خوشی سے پھولے نہیں سمائے اور انہوں نے جسٹس ورما کمیشن کی AFSPAکے حوالے سے پیش کردہ سفارشات کو لے کرکل جماعتی میٹنگ بلانے کاعندیہ دیالیکن بدقسمتی سے جب متعلقہ کمیشن کی سفارشات کو قبول کرنے کا مرکزی سرکار نے فیصلہ کرلیا اور کمیشن کی طرف سے سفارشات پیش کئے جانے کے بعد برق رفتاری سے صدرجمہوریہ سے Ordinance نکلوا کر پورے ہندوستان کے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ ملک بھر کی عزت ماب خواتین کی عزت و عصمت کے حوالے سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیںتو اس آرڈیننس میں صرف ایک چیز غائب تھی اور وہ تھی AFSPAمیں ترمیم کرکے خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی وزن دار سفارش۔ ہندوستانی TVچینلوں سے لے کر ہندوستان کے عام آدمی تک نے ایسے بات یو ں خاموشی کے جبڑوں سے چبا کھائی جیسے ان کو سانپ سونگھ گیا ہو لیکن اس سے بھی افسوس ناک بات یہ ہوئی کہ جسٹس ورما کی رپورٹ پر رات دن Tweetلکھنے والے عمر صاحب کی انگلی ٹویٹ کے بٹن کو 33000KVکی ٹرانسمیشن لائن سمجھ بیٹھے۔ انہوںنے ایسی خاموشی اختیار کی کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ نہ معلوم دلی سرکار نے افسپا میں معمولی ترامیم کو نظرانداز کرکے کون سے اہداف حاصل کئے لیکن باریک بینی سے دیکھا جائے تو افسپا کے حوالے سے جسٹس ورما کمیشن کی سفارشات کو خاطرمیں نہ لاکر نہ صرف نئی دلی نے اصل کشمیر کو لمبی آہیں بھرنے کے لئے مجبور کردیا ہے بلکہ دلی نے کشمیر کے حوالے سے اپنی حماقتوں کی لمبی فہرست میں ایک اور جگ ہنسائی والی حماقت کا اضافہ کیا ہے۔ جس طرح ہندوستان کی مائوں اور بہنوں کی عزت و عصمت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ورما کمیشن کی سفارشات کو فرض سمجھ کر قبول کیا گیاہے ،بالکل اس کے برعکس افسپا کے حوالے سے سفارشات کو بیک جنبش قلم مسترد کرکے اہل کشمیر کو یہ سوچنے کے لئے مجبور کردیاگیا ہے کہ چاہے حالات جنگ ہو یا امن، خواتین کی عصمت کی بات ہو یا پولیس اصلاحات کی، اہل کشمیر ہر حال میں ہندوستان کے شہریوں کے برابرنہیں ہوسکتے۔ دلی کی شنگھاسن پر براجمان لوگوں سے یہ سیدھا اور معمولی سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر ان کے نزدیک عمر عبداللہ سے لے کر محبوبہ مفتی اور گیلانی سے لے کرعمر فاروق تک ہر کسی کشمیری کی بات کا بھروسہ نہ کرناقومی مفاد کی آبیاری کے مترادف ہے تو بھلا جسٹس ورما  نے بھی کیا AFSPAمیں ترامیم کی وکالت کرکے یہ ثا بت نہیں کیا ہے کہ وہ کسی ہندوستان مخالف بیرون ملک کی خفیہ ایجنسی کے وظیفہ خوار یاوفادار ہیں۔پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر جسٹس ورما کی ہر بات کسی مقدس کتاب کی طرح آپ کے دل میںجگہ حاصل کرتی ہے تو صرف AFSPAمیں معمولی ترامیم کرکے حفاظتی افواج کو صرف ایک معاملے یعنی عصمت دری میں ملوث ہونے کے جرم میں جوابدہ بنانے میںآپ کو کیا اعتراض ہے؟

 ہر ملک کے لئے اس کے شہریوں کی عزت اور عصمت کی حفاظت کرنا کسی بھی دوسرے ہدف قانون سے زیادہ اہم مانا جاتا ہے لیکن دلی کے پاس اس سوال کا نہ جانے کون سا جواب ہے کہ کشمیری خواتین کے عزت اور تحفظ کی حفاظت کا معمولی سا لحاظ رکھنابھی اس کو کیوں اپنے قومی مفاد کے منافی نظرآرہا ہے؟ صرف کشمیریوں کو اپنے لوگ کہنے سے نہ ہی نئی دلی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھانک سکتی ہے اور نہ ہی اپنی تعصب پرستانہ عادات کو جواز فراہم کرسکتی ہے۔ بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ریاست سرکار مرکزی سرکارکے سامنے AFSPAمیں ترامیم کے متعلق جسٹس ورما کمیشن کی سفارشات کو مسترد کرنے کے خلاف زوردار احتجاج کرتی ، اس کے بجائے اپنی خفت منانے کے لئے اور عوام کی آنکھوںمیں دھول جھانکنے کے لئے ریاستی وزیر قانون نے یہ راگ  الاپنا شروع کیاکہ مرکزی سرکار کے قوانین کا جموںاور کشمیر کی ریاست پر براہ راست اطلاق ممکن نہیں۔ وزیر موصوف نے ایسا کہہ کر کوئی نئی بات نہیںکی ہے بلکہ اپنے بگ باس کی Face Savingکا راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے۔ وزیر موصوف کیا اتنا جانتے ہیںکہ AFSPAرمرکزی سرکار کی طرف سے منظور کردہ ایکٹ ہے اور اس میں ترمیم کا اختیار صرف مرکزی سرکار کوہے۔ لہٰذا اگر ریاستی سرکار کوئی ایسی کمیشن بنالیتی ہے جو ورما کمیشن کی سفارشات کا جائزہ لے کر اورحاتم طائی کی کی قبر پر لات مار کر ستم زدہ اہل کشمیر کی خواتین کے لئے کوئی معقول اورمناسب تجاویز کی سفارشات بھی کرے تو ہماری بے بس سرکار ان سفارشات کو کس طرح AFSPAمیںشامل کرنے کی مجازہے؟ایسی کوئی بھی سفارشات یہاں کے کسی مقامی قانون کا حصہ بن سکتی ہیں جب کہ اہل کشمیر کے لئے ورما کمیشن سفارشات کے حوالے سے خوش آئندہ بات یہ تھی کہ انہوں نے AFSPAمیںکچھ ترامیم کرنے کی بات کی تھی۔ جسٹس ورما کمیشن کی سفارشات کا جائزہ لینے سے اہل کشمیر کے دکھ درد کا ہرگز مداوا نہیں اور اندرون ریاست ورما کمیشن یہ باتیں کرنے سے کشمیر کے حکمران اپنی ناکامیوں اور نئی دلی کی شطرنجی سیاست پر پردہ ڈال کر مرکزی سرکار کے عزائم سے چشم پوشی نہیں کرسکتے ہیں بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ نئی دلی کشمیریوں کے ساتھ پہلے سے ہی موجود دوریوں کو اور زیادہ بڑھانے کا کام کررہی ہے تو بے جانہ ہوگا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ شائد افسپا کے حوالے سے ورما کمیشن کی سفارشات کو لے کرہرگز اتنے زیادہ نہیںاچھلتے۔ انہیں دھوکہ لگاکہ نئی دلی ان معمولی سفارشات کو ماننے کے لئے تیار ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ کیوں نہ میں ان سفارشات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے یہ سارا کارنامہ اپنے نام کروں لیکن بدقسمتی سے جیسے ہی مرکزی سرکار نے افسپا کو چھوڑ کر جسٹس ورما کی باقی ماندہ تمام سفارشات میںمن و عن قبول کیں تو عمر صاحب کو نہ ہی اس معاملے کے حوالے سے کل جماعتی کانفرنس بلانے کی بات یاد آئی اور نہ ہی انہوں نے اس مسئلے کو لے کر اپنے من پسند مشغلہ یعنیTWEETکرکے لب  اظہارکھولنے کی ہمت کی۔ اغیار بار بار اہم کشمیر کو کیوں شکست کا احساس دے رہی ہے؟ اس کا جواب شاید خود نئی دلی میں بیٹھے بڑے بڑے سیاسی پہلونوں کو ہی معلوم ہے لیکن دلی کایہ تا نا شاہی رویہ ہر کسی ذی حس فرد کو یہ بات سوچنے کے لئے مجبورکرتا ہے کہ اپنی نوآبادیاتی سوچ میں مست ہوکر ہندوستان کی مختلف ایجنسیاں سب کچھ بھول اہل کشمیر کی تکالیف اور مصائب سے اپنے لئے مراعات اور ترقیاں حاصل کرکے اپنی ہی عوام کو گمراہ کررہی ہیں۔ شاید نئی دلی کشمیریوں کے ساتھ ہر نیا وعدہ اس لئے کرتی ہے کہ پرانا وعدہ ستم زدہ اہل کشمیر بھول جائیں۔ ابھی تو کل کی ہی بات جب 2010کی عوامی تحریک نے بظاہر نئی دلی کو ناک رگڑنے پر مجبورکردیا۔ علیحدگی پسندوںنے اگر خود دانستہ اور نادانستہ طریقوں سے کسی طرح اس عوامی تحریک کو مایوسیوں اور ناکامیوں سے دور چار کردیا، اس کے پیچھے بھی ان ہی ایجنسیوں کے شاطرانہ دماغ کا عمل دخل رہا ہے لیکن کم ازکم نئی دلی کے بڑے بابو اپنے ضمیر کے کہنے پر خود سے ہی کچھ اقدامات اکرتے تو بھی عام کشمیری چند لمحوں کے لئے نئی دلی کے تئیں اپنی سوچ تبدیل کرنے کے لئے مجبور ہوجاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جب 2010کی عوامی تحریک کے دوران ہندوستان کی مختلف جماعتوں کے قدآور لیڈران نے SKICCتاگیلانی صاحب کے دروازے پرجاکر کشمیری قیادت سے امن قا ئم کرنے اور مذاکرات قائم کرنے کی بھیک مانگی تو کسی کو یہ بھنک نہیںتھی کہ کشمیر میں بصد شوق کورنش بجا لا نے والے دلی سے آئے ہوئے ان بڑے بڑے نیتائوں کی بغل میںنہیں بلکہ ہاتھوںمیں چھریاںموجود ہیں اور ان کے میٹھے میٹھے الفاظ اپنے مدمقابل کے اس حد تک ہوش اڑا دیتے ہیں کہ اس سے ان کے ہاتھوں میں تیز دھار والی خوفناک چھریاں نظر ہی نہی آرہی ہیں۔ ہر کسی کو یاد ہے کہ وفد نے SKICCسے ہی یہ تاثر دینا شروع کیا کہ اب کی بار نئی دلی بامعنی مذاکرات کرنے کا پورا من بنا چکی ہے اور وفد کے اس Offerکو تب اور زیادہ تقویت ملی جب ارون جیٹلے سے لے کرسیتارام یچورمی تک نے مذاکرات کے آغاز سے پہلے بہت سارے اہم اعتماد سازی کے اقدامات کی بات کی اور کہا کہ اُن کے دلی لوٹتے ہی یہ سارے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ بامعنیٰ مذاکرات کے لئے راستہ ہموار کرکے مسائل کے حل کی خاطر مہذب طریقہ کار اپنا یا جائے اورمسئلہ کشمیر کے دائمی حل کے لئے کوئی دانستہ نکل آئے لیکن دلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ سے اترتے ہی یہ سارے لوگ یہ سب کچھ بھول گئے۔ آل پارٹی ڈیلی گیشن کے حشر کی جب بات کی جائے تو جسٹس صغیر کمیشن اور باقی ماندہ Working Groupکے انجام کی یاد ستانے لگتی ہے۔ اگر کوئی MLAیا وزیر اعلیٰ کبھی کبھار بھولے سے ان Working Groupsکی بات اسمبلی کے اندر کرتا ہے تو اسمبلی کی دیواریں بھی خوفناک قہقہے لگا کر اہل کشمیرکی بدنصیبی اور لیڈران کرام کی بے حسی اور بے بسی پر اپنا احتجاج درج کرتی ہیں۔ رادھا کمار اینڈ کمپنی جس زور و شور سے معرض وجود میںآئی ،اس سے کئی گناز زیادہ خاموشی سے اپنی موت آپ مر گئی۔ مذاکرات کاری کے نام کی توہین اور تذلیل کرنے کی مثال اس کمیشن کے حشر سے زیادہ اور نہیںمل سکتی ہے۔ خود رادھاکمار نے مرکزی سرکار سے حاصل تمام مراعات کو ہضم کر کے لئے جموں اور کشمیر کے مسئلے کو نسل، علاقائی تعصب اور سیاسی انتشار کی نذر کرنے کی ناکام کاوشوںکے باوجود بھی انہیںدلی کی سردمہری نے کڑواسچ کہنے کے لئے محبور کردیا اور ان کے منہ سے الفاظ نکلنے سے رک نہ پائے کہ دلی کے حکمرانوں نے رادھا کمار اور ان کے ساتھیوں کی تمام سفارشات کو NC کی اٹانومی قرارداد کی طرح ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔ ہر دن اپنی تاریخ رقم کرتا ہے اور ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب نئی دلی اپنے تمام کرتوتوں اور کج فہمیوں کے کفارہ ادا کرنے کے لئے کشمیری قوم سے خلوص دلی کے ساتھ مذاکرات کی خواستگوار ہوگی لیکن تب شائد ہی کوئی بھارت نواز بھی دلی کی بات کا یقین کرے گا اور وہ دن بھی اپنی تاریخ آپ رقم کر دے گا۔

…………………

(فاضل مضمون نگار ایم ایل اے لنگیٹ ہیں۔)

ای میل :- mlalangate@gmail.com

موبائل نمبر :-9419003104

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By