GK Communications Pvt. Ltd

  مقابل اداریہ
چلی ہے رسم کوئی سراُٹھاکے نہ چلے


جب قدرت کسی قوم سے ناراض ہوتی ہے تو وہ آنکھیں اور کان ہونے کے باوجود اسے دیکھنے اورسننے کی صلاحیت سے محروم کردیتی ہے۔ جرمن صحافی اپنے ایک مضمون میں امریکی صدر باراک اوباما کی نئی افغان پالیسی کے تناظرمیں رقمطراز ہے ”اوباما کی نئی افغان پالیسی سے افغانستان کو کم اور پاکستان کو کہیںزیادہ خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔ اگلے چھ سات ماہ میں مملکت خداداد پاکستان ، عراق اورافغانستان سے زیادہ بدترین حالات کاشکار ہوجائے گا ۔ دسمبر2010ءتک پاکستان میں خانہ جنگی عروج پر پہنچ جائے گی۔ امن وامان تباہ ہوجائے گا ۔ پاکستانی عوام پناہ کی تلاش میں ایران ،چین اور کشمیر کی طرف بھاگیں گے لیکن انہیں کوئی پناہ نہیں ملے گی ۔ پاکستان کی رہی سہی معاشی حالت صفر ہوجائے گی ،پاکستان حکومت اور عوام قرضوں کے انبار تلے دب جائیں گے ، فوج اور عوام میں وسیع خلیج حائل ہوگی ،بلوچستان میں آزادی اورخود مختاری کا مطالبہ زور پکڑے گا ۔ جرمن صحافی نے اپنے اس طویل مضمون کا پاکستان کے جناب یاسر محمد خان نے ترجمہ وتلخیص پیش کرکے ہفت روزہ ”ضربِ مومن“ کراچی 11دسمبر2009ءکے شمارے میں شائع کرایا ہے۔ جرمن صحافی وتجزیہ نگار نے اپنے طویل مضمون میں یہ پیشین گوئی بھی کی ہے کہ افغانستان میں تعینات اتحادی فوجی اگلے چھ سات ماہ میں اپنی کارروائیوں میں تیزی لائیں گے خصوصاً پاکستان کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں اتحادی افواج جنگجوو¿ں کو پاکستان میں گھسنے کے لئے”راہداری“ دے دی جائے گی۔ یہ لوگ بھاگ کر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ گزین ہوں گے اور وہاں اتحادی فوج پر حملے شروع کردیں گے ۔ بظاہر اتحادی فوج ان لوگوں کے تعاقب میں پاکستان میں داخل ہوگی اور پھر کابل سے قندھار اوروہاںسے اسلام آباد تک سارا علاقہ اتحادی افواج کے رحم وکرم پرہوگا ۔ جرمن تجزیہ نگار وصحافی نے اپنے طویل مضمون میں بہت سارے انکشافات کئے ہیں ۔
اب آئیے اپنے کشمیر کے موجودہ حالات واقعات کی جانب.... یہاں پرعمر عبداللہ کی سربراہی میں ”نیشنل کانفرنس اور کانگریس“ کی مخلوظ سرکار کے صرف ایک سال کے دور اقتدار میں اب تک بے قصور اور بے گناہ مرنے والوں کی تعداد ہرلمحہ بڑھ رہی ہے ۔ آنے والے دِنوں میں اس میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ ابھی تک بہت سارے نو جوان تشویشناک حالت میں مقامی ہسپتالوں میں زندگی اورموت کے کشمکش میں مبتلا ہیں۔ اگرچہ جرمن صحافی وتجزیہ نگار نے امریکہ کے ناپاک عزائم سے پاکستان میں پیش آنے والے واقعات کا ایکشن پلان منظر عام پر لایا ہے،بالکل اسی طرح نئی دہلی ، کشمیر میں کسی بھی صورت میں سیکورٹی فورسز کو بارکوں میں واپس بھیجنے یا شہری آزادیاں بحال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے کسی نہ کسی بہانے ان کی تعیناتی برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔ ابھی حال ہی میں ریاست کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ضلع کپوارہ میں ایک بہت بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”تنازعہ کشمیر روٹی ، کپڑا اور مکان کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے ۔ اس کو سیاسی طورپر حل کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ۔“ عمر عبداللہ نے اس عوامی اجتماع میں جوتقریر کی الیکٹرانک میڈیا اورپرنٹ میڈیا نے اس کو نمایاں طورپر نشرو شائع کیا۔ ادھر نئی دہلی نے عمرعبداللہ کی اس تقریر کا راز داری سے سنجیدہ نوٹس لے کر 18لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل شہر سری نگر میں سیکورٹی فورسز کو نہ صرف یہاں کے لوگوں کے مال جائیداد واملاک کو تباہ وبرباد کرنے بلکہ یہاں کے سنگ بازوں سے نمٹنے کی آڑ میں نسل کشی کرنے کی مکمل چھوٹ دی گئی ۔ دراصل اس قتل وغارت گری کے پیچھے عمر عبداللہ کو یہ پیغام دیا گیا کہ تنازعہ کشمیر سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ اندرونی لااینڈ آرڈر کا معاملہ ہے۔ بدقسمتی سے عمر عبداللہ کو ورثے میں آفیسروں کی ایسی ٹیم ملی ہے جو انتظامی صلاحیتیوں سے محروم ہے ۔ ان آفیسروں کی Immaturity یا نااہلیت کی وجہ سے بھی عمر عبداللہ کی مخلوط سرکارکوہزیمت اُٹھانی پڑ رہی ہے۔ سنگبازوں کی سرکوبی گولیوں یا راست ٹئر گیس لگانے سے نہیں کی جاسکتی ہے بلکہ ایگزیکٹو مجسٹریٹ صاحبان کوسیکٹر وایز زون وایز تعینات کرنے پولیس ودیگر سیکورٹی فورسز کو مجسٹریٹ کے احکامات پر سختی سے عملدرآمد کرنے سے کی جاسکتی ہے کیونکہ ڈیوٹی مجسٹریٹ کسی بھی مشتعل ہجوم کویا انفرادی سنگباز سے نمٹنے کےلئے امن اومان بحال کرنے کے لئے انسانی جانیں تلف ہونے کے احتمال سے صرف فائر برگیڈ کے پانی کے ایک فوار ہ سے حالات کو قابو میں لاسکتا ہے ۔ جب مشتعل ہجوم یا چند افراد سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر بضد ہوںتو اس صورت میں مناسب اشک آور گولے سے کام چلایا جاسکتاہے ۔ ٹیر گیس شل کسی کے سر پر براہ راست لگانے کے بجائے سڑک کے اس حصہ میں داغا جاتا ہے جہاں وہ پھٹ کر صرف دھواں پھیلائے تاکہ بھیڑ کو تِتَر بتر کرے۔ مگریہاں کا باوا آدم نرالا ہی ہے۔ یہاں پر معصوم بچوں کو کرکٹ کھیلنے پر ۔ کالج جانے پر ۔ امتحان میں شامل ہونے پر گولیوں کی بوچھاڑ ابد ی نیند سلایا جارہاہے ۔ یہاں پر نہ تو سیکٹر مجسٹریٹ ، زونل مجسٹریٹ تعینات کئے جاتے ہیں نہ ان کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔ یہاں پرکرفیو لگایاجاتا ہے مگر یونیورسٹی کی طرف سے لئے جارہے سالانہ امتحان کے لئے پہلے طالب علموں ( امتحانات میں شامل ہونے والے امیدواروں) کو یونیورسٹی کی طرف سے اجرا شدہ رول نمبر سلپ کو ”محفوظ راہداری “ کی ضمانت یا کرفیو پاس تصور ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن جب یہ بچے جان جو کھوں میں ڈال کر امتحانی مرکز پہنچ جاتے ہیں وہاں انہیں یہ کہہ کر واپس اپنے گھر وں کو جانے کی ہدایت دی جاتی ہے کہ ”پولیس لاک اَپ“ سے امتحانی پرچے اور جوابی پرچوں کی سٹیشنری نہیں آئی ہے ۔ لہٰذا امتحانات ملتوی ‘ اس طرح سے ان اُمیدواروں کو گھر تک واپس جانے کی فرضی محفوظ راہداری دی جاتی ہے ۔ پھر کیا ہوتا ہے ابھی یہ طلبا وطالبات بمشکل ایک یا آدھ فرلانگ سڑک طے ہی کرپاتے ہیں تو آناً فاناً چاروں اطراف سے سیکورٹی فورسز کے اہلکار ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ان کا زد وکوب کرتے ہیں ۔کسی بھی جمہوری ملک میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ۔خود بھارت کی کسی بھی ریاست میں قوم کے نونہالوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہورہا ہے ۔ یہ صر ف وادی کشمیر ہی ہے جہاں کرکٹ کھیلنا ، امتحان دینے کے لئے جانا ، کسی کے ہاں تعزیت پر ُسی میں شمولیت کرنا ایک سنگین جرم یا بغاوت سمجھا جارہاہے ۔ گذشتہ ایک ہفتہ سے شہر سرینگر میں سیکورٹی فورسز کی ظالمانہ کاروائیوں سے دو ہزار سے زائد پرایٹویٹ گاڑیوں کو شدیدنقصان پہنچا ہے ۔ مرکزی ہوم منسٹر یہی مخلصانہ مشورہ دیا جاسکتا ہے کہ وہ سیکورٹی فورسزکو بلا کسی قانونی جوازیت کے طاقت کااستعمال کرنے سے گریز کرنے کی سخت ہدایت جاری کریں ۔اگر یہاں پر تعینات سیکورٹی فورسز کو طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرنے سے نہ روکا گیا تو یقینا فورسز کی زیادیتوں سے کشمیر کو بھارت سے الگ ہونے میں زیاہ دیر نہیں لگ سکتی ۔ نہتے اور غیر مسلح نو جوانوں مرد وزن پر گذشتہ ایک ہفتے سے سیکورٹی فورسز نے قہر برپا کیا ، معصوم نو جوانوں کو ابدی نیند سلا دیا گیا ، سینکڑوں کو اپاہج بنا دیا گیا ۔ والدین کو بڑھاپے کا سہا را چھین لیا گیا، اس وجہ سے ہند ” کشمیر، بھارت کاجز و لا ینفک ہے “ ہی کے دعویٰ داروں کی پوزیشن بھی مضحکہ خیز ہوچکی ہے ۔ ایک طرف سے سال1990 سے پیدا ہونے والے نو جوان کسی بھی صورت میں بھارت کی حکمرانی کوتسلیم کرنے سے انکاری ہیں،دوسری جانب سے فورسز کی طرف سے پرامن لوگوں کے مال جائیداد کو تہس نہس کرنے ان کے لئے اقتصادی بحران پیدا کرنے یا روزی روٹی کے ذرائع چھننے سے ایک لاکھ سے زائد قبروں پر مشتمل شہید مزاروں میں روزانہ مزید قبروں کے اضافے کررہے ہیں اس لئے وہ دن دور نہیں جب کشمیری بھارت سے الگ ہونے میں کامیابی حاصل کریں گے جس کے لئے وہ عرصہ 60سال سے جدو جہد کررہے ہیں لیکن انہیں بھارت سے الگ کرنے میں زیادہ رول فورسز کا ہی ہوگا کیونکہ فورسز کی زیادیتوں سے ہی اب کشمیر کا بچہ بچہ بھارت مخالف بن چکا ہے ۔
رابطہ :سعید حمید پورہ( نواب بازار) سرینگر
yousufgilkar.wahdat@gmail.com

 


سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    







 
 


©  2010   KashmirUzma.net

طابع وناشر:رشید مخدومی برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ
ایڈیٹر :فیاض احمد کلو،ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر،مقام اشاعت :6پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
 


GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By