GK Communications Pvt. Ltd

  مقابل اداریہ
قانونِ قدرت
خوشحال زندگی کی ضمانت

خالقِ کائنات نے دنیا کی تخلیق کرکے مختلف الاقسام مخلوق بنائیں اور ہر مخلوق کو مخصوص قوانین کے تابع کردیا۔ قانونِ قدرت کی تابعداری سے ہی کوئی بھی جاندار امن اور سکون سے اپنی زندگی گزار سکتا ہے، اور کسی بھی جاندار نے اگر قانون قدرت کی خلاف ورزی کی، تاریخ گواہ ہے کہ اُس کو عذابِ الٰہی کا سامنا کرنا پڑا۔ دنیا ایک مخصوص نظام کے تحت چلتی ہے اور اس نظام میں اگر کبھی بھی کوئی گڑبڑ ہوئی تو دُنیا شدید نقصانات سے دو چار ہوئی اور اس نقصان کا سب سے زیادہ خمیازہ اشرف المخلوقات یعنی انسان کو ہی بھگتنا پڑا۔ نظامِ ِکائنات کا تانا بانا جب کبھی بھی بگڑ گیا تو اس میں انسان کا ہی ہاتھ رہا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ انسان کو اپنی ہی لاپرواہی اور غفلت کے نتیجے میں وقتاًفوقتاً نقصان سے دو چار ہونا پڑا ہے۔ یہ بات باعثِ حیرت ہے کہ اشرف المخلوقات کا درجہ پانے کے باوجود بھی تما م دیگر مخلوقات میں انسان ہی قوانینِ قدرت کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہی مخلوق اکثر وبیشتر عذابِ الٰہی کا شکار بنتی ہے۔ جو بات اس سے زیادہ حیران کر دینے والی ہے، وہ یہ ہے کہ قدرت کی واضح نشانیوں کا بچشمِ خود مشاہدہ کرنے کے باوجودبھی راہِ راست سے بھٹکا انسان نہ سدھرنے کا نام لیتا ہے اور نہ ہی قانونِ قدرت کی تابعداری کی کوئی سعی کرتا ہے۔ انسان نے جب بھی قانونِ قدرت کی انتہا درجے کی خلاف ورزی کی ہے تو قدرت نے انسان کو سدھرنے کی موزون مہلت دی۔ اور جب انسان اپنی من مانی سے باز نہ آیا تو قدرت نے اپنی مختلف نشانیوں کا ظہور کرکے انسان کو دنیا میں اس کی اوقات کے ساتھ ساتھ قانونِ قدرت کی اہمیت کا احساس دلایا۔ انسانی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ خالقِ کائنات نے کتنی ہی نافرمان اقوام کو عبرتناک سزائیںدیکر انہیں ملیا میٹ کردیا اور ان کے بعد آنے والی قوموں کیلئے واضح نشانیاں چھوڑ دیں ۔
ایک انسان غور کرے تو قدرت کے تمام قوانین انسانی عقل کے ساتھ میل کھاتے ہیں اور قدرت کے قوانین میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو انسان کی فطرت یا عقل کے ساتھ ٹکراتے ہوں۔ انسانی عقل یہی کہتی ہے کہ کسی بھی شئے کا خالق یا موجد ہی اس شئے کے بارے میں زیادہ جانکاری رکھتا ہے اور وہی اُس شئے کے لئے موزون قوانین وضع کرسکتا ہے۔ اُن ہی قوانین کی عمل آوری سے اس مخصوص شئے کا صحیح اور منصفانہ استعمال کیا جاسکتاہے۔اور اگر خالق کے وضع کردہ قوانین کی خلاف ورزی ہوئی تواُس مخصوص شئے کا غلط انداز میں استعمال ہونا لازمی امر ہے۔ اس طرح اس شئے سے فائدہ حاصل کئے جانے کے بجائے نقصان ہونے کا احتمال بڑھ جائے گا۔ یہی بات کائنات ،اِس کے خالق اور قانونِ قدرت پر صادق آتی ہے۔ انسان نے جب بھی قانونِ قدرت پر اپنی بالا دستی قائم کرنے کی کوشش کی تو اس کو خالقِ کائنات کی مار سہنا پڑی۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا میں من مانی کرنے والی قوموںکا کیا حشر ہوا۔ قدرت نے من مانیوں کی پاداش میں انسان کو سزا دےنے کےلئے کبھی اُس کو پانی میں غرق کردیا، کبھی آسمان سے بلائیں نازل کیں، کبھی زلزلوں سے بستیوں کو تہہ تیغ کرکے اقوام کو ملیا میٹ کردیا۔ اس طرح خالق کائنات نافرمان لوگوں کا خاتمہ کرتا ہے اور آنے والے انسانوں کےلئے نشانیاں چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ عبرت حاصل کرکے قانونِ قدرت کی تابعداری کریں۔ قدرت کے قانون میں یہ بات بھی ہے کہ راستے سے بھٹکے انسان کو سدھرنے کی مہلت دی جائے۔ اِس مقصد کےلئے قدرت وقتاً فوقتاً اپنی کچھ ایسی نشانیاں ظاہر کرتا ہے جن سے انسان کو سنبھلنے کا موقعہ ملتا ہے۔ قدرت کی ان نشانیوں کو ذی ہوش انسان اور باضمیر قومیں ایک دم پہچان لیتی ہیں اور توبہ و استغفار میں خالقِ کائنات کے آگے سر تسلیم خم کرتی ہیں۔ قوم صدق دلی کے ساتھ توبہ کر لے تو خالق کائنات اس قوم کی تقدیر بدل دیتا ہے، اور اگرقوم ٹس سے مس نہ ہوئی تو عذابِ الٰہی کی مار اس قوم کا مقدر بن جاتی ہے۔ اِس طرح کی قوموں کو دین و دنیا کی ذلت سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔
آج اگر ہم بحیثیت ایک قوم اپنی حالت پر ایک نظر دوڑائیں تو یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ ہمارے کلہم حال میں ربِّ کائنات کی ناراضگی واضح طور پر شامل ہے۔ یہ ہماری نافرمانیوں اور قانونِ قدرت کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔ دستور اور قانون کے مطابق قدرت نے ہمیں سنبھلنے کے بے شمار موقعے فراہم کئے اور کئی بار ہم پر قدرت کی مار بھی پڑی۔ قدرت کی ناراضگی کا ایک نمونہ آج بھی دیکھا جاسکتا ہے، جس کا مشاہدہ ہم موسم کی شکل میں کر رہے ہیں۔ وادی میں آجکل سردی کا موسم چل رہا ہے لیکن اس موسم کے دوران بھی کھلی دھوپ نکلتی رہی ۔ اگرچہ عام لوگ اس موسم کو خوشگوار مانتے رہے، لیکن یہ موسم انتہائی خراب رہا۔”چلہ کلان“ جو کہ وادی کا سرد ترین موسم تصور کیا جاتا ہے میں بھی اس بار موسم انتہائی خراب رہا اور شدید برفباری کے بجائے اس موسم میں بھی کھلی دھوپ نکلتی رہی۔ اس موسم کا حال جولائی یا اگست کے مہینے میں برفباری ہونے کے مترادف رہا۔ یہ صورتحال جہاں پریشان کن ہے وہیں ہمیں یہ بات یاد دلاتی ہے کہ ہم قدرت کے قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس کائنات کا مالک اور خالق چاہتا ہے کہ اُس کی مخلوقات دنیا میں ہر کسی نعمت کا بھر پور فائدہ اٹھائیں۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہر کوئی مخلوق اُس کے وضع کردہ قوانین کی پاسداری کرے۔ لیکن ہم نے دنیاوی ہوس اور لالچ میں ڈوب کر فانی فوائد کے حصول کی خاطر اپنی من مانیوں کی حد کردی اور دانستہ طور اپنے لئے مصیبتوں اور پریشانیوں کا سامان پیدا کردیا۔ کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ عذابِ الٰہی اور خالقِ کائنات کی ناراضگی کا مشاہدہ کرکے بھی ہم راہِ راست پر آنے کا نام نہیں لیتے ہیں۔ خود غرضی، ہوس، لالچ اور دنیا میں فانی و فرضی مقام حاصل کرنے کی دوڑ میںہم اس قدر اندھے ہو گئے ہیںکہ ہمیں قوم اور سماج کے فوائد اور سدھار کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔بلکہ ہمیں قومی مفاد کے مقابلے میں اپنے ذاتی فائدے مقدم نظر آتے ہیںاور ہم ہمیشہ اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ ذاتی مقاصد کی حصولیابی میں بھی اگر قانونِ قدرت کو مدِّ نظر رکھا جائے تو اس میں بھی سماج اور قوم کے فائدے ہو سکتے ہیں۔
دُنیا میں جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ سب فطرتاً قدرت کے قانون کی پاسداری کرتی ہیں۔ مثلاً ایک شیر کے سامنے اگر گھاس کا ڈھیر رکھا جائے تو وہ اس کی ڈھیر کے قریب بھی نہیں جائے گا، کیونکہ قانونِ قدرت کی رو سے شیر کو گھاس نہیں کھانا ہے جبکہ ایک بکری گوشت (تازہ ہو یا باسی) کے قریب بھی نہیں پھٹکتی ہے۔ اس طرح تمام حیوانات، چرند و پرند اور نباتات قدرت کے قوانین کی مکمل پاسداری کرکے تابعداری کا جیتا جاگتا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ یہ بات باعث حیرت ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود بھی بیشتر اوقات قوانین قدرت کو رد کرکے اُن کی صریحاً خلاف ورزی کرتا ہے، جس کے نتیجے میں نظامِ کائنات میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔یوںانسان نہ صرف اپنے لئے بلکہ ان بے زبانوں کےلئے بھی مصائب و آلام کا سبب بنتا ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس سب کے باوجود بھی حیوان، جانور اور نباتات قدرت کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتے ہیں ۔ان بے زبانوں کا طرزِ عمل ہم سب کےلئے چشم کشا ہے اور ہمیںقدرت کی ان واضح نشانیوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ قدرت کے قوانین نہایت ہی سادہ اورقابلِ عمل ہیں جبکہ انسان کے اپنے ایجاد کردہ قوانین انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں۔ انسان نے جب جب اپنے ہی بنائے ہوے قوانین پر عمل کیا تب تب کائنات کا نظام بکھر گیا۔
اپنی موجودہ حالت ہم سب کےلئے ”توجہ طلب“ہے۔ یہی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں اور قوانین قدرت کی خلاف ورزی سے باز آئیں ۔ اس طرح ہم قدرت کی عطا کردہ ایک ایک نعمت کا بھر پور فائدہ حاصل کرسکتے ہیں اور دنیا کو جنت نما بنا سکتے ہیں۔ ہمیںاپنے آپ میں اشرف المخلوقات ہونے کا احساس پیدا کرکے خود کو قانونِ قدرت کا تابع بنانا چاہئے۔ یہی فطرت کا تقاضا ہے اور اسی طرح ہم اپنی حیات کو خوشحال بنا سکتے ہیں جبکہ اسی میں آخرت کی کامیابی کا راز بھی مضمر ہے۔

 


سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    







 
 


©  2010   KashmirUzma.net

طابع وناشر:رشید مخدومی برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ
ایڈیٹر :فیاض احمد کلو،ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر،مقام اشاعت :6پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
 


GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By