GK Communications Pvt. Ltd

  مقابل اداریہ
حضرت سلطان العارفین
سیرت طیبہ کا ایک اجمالی تعارف

قدیم ہندوستان میں راجپوتوں کے دو مشہور خاندان چندربنسی اور سورج بنسی برسراقتدار تھے ۔ ’راج ترنگنی‘ کے مطابق چندربنسی خاندان کا سلسلہ نسب برہما تک پہنچتاہے۔ اسی خاندان کے راجے مہاراجے ہزاروں سال تک بڑی شان وشوکت سے ہندوستان کے اکثر حصوں پر حکمرانی کرتے رہے اور جب اسلام کی روشنی ہندوستان میں پہنچی تو اس خاندان کے اکثر راجے اور رعایا حلقہ بہ گوش اسلام ہوئے ۔اسی خاندان کے ساتھ جناب سلطان العارفین ؒ کا سلسلہ نسب ملتاہے ۔ تاریخ کشمیر اس بات کی شاہد ہے کہ ان کے خاندان کے اکثر افراد مشہورومعروف حکام ،وزراء،سپہ سالار ، جاگیردار ،اہل دربار ، مقتدر فرماروا ںاور صاحب سیف وقلم گذرے ہیں ۔
اسی خاندان کے مورث اعلیٰ ہندوستان میں انقلابات آنے کی وجہ سے ہجرت پر مجبور ہوگئے اور راجہ سوسرم چندر نے وطن قدم سے ہجرت کرکے اضلاع کانگڑہ بمقام نگر کوٹ اقامت اختیار کی ۔ خداداد عقل وذہانت اور صلاحیت سے نگرکوٹ کا راجہ بن گیا ۔
اس کے بعد اس کا بیٹا مل چندرگدی نشین ہوا لیکن عیاشانہ زندگی بسر کرنے اور انتظام سلطنت سے لاپرواہ رہنے کی وجہ سے اس نے رعایا کو اپنا دشمن بنالیا ۔ رعایا نے بغاوت کی اور مل چندر کشمیر کی طرف بھاگ گیا۔کشمیر میں اس وقت راجہ جے سنگھ حکمران تھا ۔مل چندر اس کے دربار میں آیا اور اپنے حالات اس کو سنائے ۔ راجہ جے سنگھ نے اس کو جاگیر دے کرپہلے سپہ سالار اور بعد میں وزیر فوج مقرر کیا ۔اس عہدکے افسر کو اُس زمانے میں رانا کہتے تھے ، جس کی بگڑی ہوئی صورت رینہ ہے ۔ وزیر مل چندر نے جس تدبر اور فوجی مہارت سے نہ صرف کشمیر کو بلکہ ہندوستان کو چنگیر خان کے حملے سے بچایا ۔ راجہ جے سنگھ نے اس کو چنگیزخان کے مقابلے پر بھیج دیا ،بھیس بدل کر مل چندر چنگیز کے سرہانے پہنچا اور اپنا جوتا اس کے سر پر رکھ کر اس میں اس مضمون کار قعہ لکھ کر رکھ دیا کہ” اگر سلامتی چاہتے ہو تو واپس لوٹو ورنہ یہاںایسے بھی جانثار موجود ہیں جو کہ اپنی جان پر کھیل کر تمہارے سرہانے تک پہنچنے اور یہ رقعہ لکھ کر رکھ دیا۔تم کو اسی وقت ہلاک کرڈالتے لیکن سوتے دشمن کو مارنا بہادری نہیں ہے ۔ اس واسطے تم کو آگاہ کیا کہ خیر اسی میں ہے کہ واپس جاﺅ ۔“
اور جب چنگیز خان نے یہ رقعہ پڑھا اس کے دل میں خوف پیدا ہوا اور واپس چلا گیا ۔
اس کے عوض میں راجہ جے سنگھ نے اس کو لداخ اور اسکردو کے علاقے بطور جاگیر عطا کئے ۔ علاقہ لار موضوع کنگن میں مل چندر نے ایک مندر نما قلعہ تعمیر کیا او رمع اپنے کنبہ کے اس میں سکونت پذیر ہوا ۔ راجہ جے سنگھ کی وفات پر درباری اور رعایا وزیرمل چندر کو ہی راجہ بنانا چاہتے تھے لیکن اس نمک حلال وزیر نے متوفی راجہ کے بیٹے پرمانو کو تخت شاہی پر بٹھادیا اور اس نمک حلال اور دیانتداری کی وجہ سے رعامیں وہ زیادہ ہردلعزیز بنا۔ وہ 1176ءمیں فوت ہوا ۔اس کا بیٹا کھکھ چندر بھی وزارت اور سپہ سالاری کے فرائض انجام دیتارہا لیکن 1241ءمیں عین عالم شباب میں سورگباش ہوگیا ۔ اس کے بعد اس کا بیٹا بلاد چندر بھی راجہ سنگرام دیو ولد راجہ راج دیو کا وزیر اور سپہ سالار وہا ۔ بلاد چندر 1335ءمیں فوت ہوا۔ اس بیٹا سنگرام چندر بھی راجہ سنگرام دیو کا وزیررہا اور اپنے آقا سے بغاوت کرنے کی پادا ش میں قتل کیا گیا ۔
سنگرام چندر کا بیٹا رام چندر راجہ سنگرام دیو کے پاس آیا اور اپنے باپ کے جھگڑے سے دست بردارہوکر باپ کا عہدہ وزارت سنبھالا۔ راجہ سہم دیو ولد سنگرام چندر 1295ءسے 1325ءتک حکمران رہا ۔ اس کا وزیربھی رام چندر ہی رہا ۔ اسی وزیر الملک رام چندر کے سایہ عاطفت میںتبتی شاہ زادہ رنچن بھی پرورش پاتے ہوئے صاحب اقتدار بن گیا ۔
اسی زمانہ میں شاہ میر نام ایک درویش بھی سوات سے واردِ کشمیرہوااور وزیررام چندر کی عنایت خاص سے اس پر رہی اور صاحب منصب وثروت بن گیا ۔
 اسی زمانے میں لوہر چنک بھی دردستان میں اپنے مخالفوں سے شکست کھاکر کشمیر میں پناہ لینے آیا اورسہم دیو کے دربار سے جاگیر پائی ۔یہی وہ زمانہ تھا جب چنگیز کے پڑپوتے ذوالچوانے جس کو ذوالقدر خان بھی کہتے ہیں کشمیر پر 1322ءمیں 70ہزارسواروں کے ساتھ حملہ کرکے قتل وغارت کا بازار گرم کیا ۔اسی دور میں ہندودھرم،بدھ مت اور جین مذہب کے پیروکاروں نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے فتنہ فساد کی آگ کو مشتعل کرکے اس سبزہ زار کو لوگوں کے خون سے لالہ زار بنادیا۔
ایسے خطرناک حالات میں راجہ سہم دیو ولد راجہ سنگرام دیو بھاگ کر کشتواڑ پہنچا اور رنچن بھی اسی کے ساتھ چلا۔رام چندر اپنے قلعہ کنگن میں اپنے کنبہ کی حفاظت کرتارہا۔
جب ترکستانی افواج خونریزی اور لوٹ مار کرکے واپس چلے گئے تورام چندر نے حکومت سنبھالی ۔ جب رنچن کو کشتواڑ میں ان حالات کی اطلاع ملی تو اس نے کشمیر پر حملہ کرکے رام چندر کوقتل کیا اور اسی کی بیٹی کوٹہ رانی کے ساتھ شادی کی ۔ رام چندر کے بیٹے اور کوٹہ رانی کے بھائی راون چندرکو تالیف وقلوب کی غرض سے وزیربنایا اور ملک میں حکومت کرنے لگا لیکن ہندوﺅں ، بودھوں اورجینیوں کے مذہبی جھگڑوں سے بہت تنگ ہوا ۔ بیوی اور سالے کے ساتھ مشورہ کرکے اس نے ایک رات یہی عہد کیا کہ جس مذہب کے پیروکار کو صبح سویرے دیکھ لوں گا اسی کا مذہب اختیار کروں ۔ چنانچہ علی الصباح جب اپنے جھروکے سے باہر کی طرف دیکھنے لگا تو سب سے پہلے اس کی نظر ایک فقیر پر پڑی جو مغرب کی طرف رخ کرکے خصوع وخشوع کے ساتھ نمازادا کرنے میں مشغول تھا ۔
یہ بزرگ حضرت سید عبدالرحمن بلبل شاہ ؒصاحب تھے ۔ جو اس زمانہ میں تبلیغ اسلام کی غرض سے کشمیر میں وارد ہوئے تھے اور چند ایک افراد کو حلقہ بگوشِ اسلام فرمایا تھا ۔ جب وہ نمازسے فارغ ہوئے تو رینچن نے فوراً ان کو محل میں طلب کیا اور ان سے نماز کے بارے میں استفسار کیا۔ انہوں نے تعلیم اسلام پوری تفصیل کے ساتھ اُس کے سامنے بیان فرمائی۔ اس سعادت مند کو اسلام کی عظمت اور حقانیت کا سکہ دل پر بیٹھ گیا اور اسی وقت بمعہ اپنے کنبے کے ان کے دست حق پرست پر حلقہ بگوش اسلام ہوا۔جناب بلبل شاہ صاحبؒ نے اس کا نام صدرالدین اور راون چندرکانام شمس الدین رکھا۔
سلطان صدرالدین نے 1325ءسے 1327ءتک حکومت کی ۔ موخر الذکر اپنے جاگیرات کے انتظام میں مشغول ہوا ۔ اس کی وفات پر اس کا بیٹا احمد رینہ جاگیردار اور وزیررہا ۔ احمد رینہ کے بعد اس کابیٹا ابدال رینہ صاحب منصب وثروت رہا۔ جب ملک صدرالدین رینچن کی حکومت ختم ہوئی اور وہ اس دارِ فانی سے چل بسا تو شاہ میر کی اولاد جس کا ذکر اوپر آچکاہے، برسراقتدار آئی ۔ ابدال رینہ سلطان سکندر کی افواج کا سپہ سالار بنا ۔ شہمیری خاندان کے تیسرے اور چوتھے فرماروا ںسلطان شہاب الدین اور سلطان قطب الدین کے عہد حکومت میں دولت رینہ ابن ابدال رینہ سپہ سالاری اور وزارت فوج کے عہدوں پرمتمکن تھا ۔
سلطان زین العابدین کا سپہ سالار اور وزیراعظم اسی دولت رینہ کا فرزند رشید ہلمت رینہ تھا۔ہلمت رینہ کا بھائی احمد رینہ مدارالمہام کے عہدے پر فائز تھا۔احمد رینہ کا فرزند جہانگیر رینہ زین العابدین کے بیٹے حسن شاہ کے زمانے کا سربرآوردہ رئیس اور مقتدر درباری تھا ۔ حسن شاہ عیش پرست او رلاپرواہ تھا ۔ دربار میں سازشیں اور ریشہ دوانیاں ہونے لگیں اور انہی سازشوں کے سیلاب عظیم میں دوسرے اکابرواعیان کے ساتھ جہانگیر رینہ بھی شہید کردیا گیا ۔ جہانگیر رینہ کے شہید ہوجانے پر رینہ خاندان پر مصیبتیں نازل ہوگئیں ۔ ان کی جمعیت لوٹی گئی ، جہانگیر رینہ کا فرزند زینی رینہ یتیم وصغیر تھا۔ جان بچانے کے لئے اپنے کنبے کے ساتھ موضع تجر کی طرف جو کہ اس کے آبائی جاگیر میں شامل تھا، بھاگ گیا اور اسی گاﺅں میں یہ رینہ کنبہ سکوت پذیر ہوگیا ۔
زینی رینہ نے اپنی اولعزمی سے مرفہ الحالی اور فارغ البالی کا سامان پیدا کیا اور درباری جھمیلوں کو یک قلم ترک کرکے سعادت آخروی کی جستجو کرنے لگا ، چنانچہ شیخ الاسلام حضرت شیخ اسمٰعیل زاہد کبرویؒ کی درگاہ کے ارادتمندوں میں منسلک ہوگیا ۔ یہی زینی رینہ ہیں جو کہ حضرت باباعثمان رینہ ؒ کے والد اور حضرت سلطان العارفین جناب حضرت شیخ حمزہؒ مخدوم کشمیری کے بزرگ دادا تھے ۔اسی زینی رینہ کے حین حیات میں ہی حضرت بابا عثمان رینہ اپنی آبائی بچی کھچی جاگیر کو لے کر متمول ہوئے اور ایک اچھے خاصے متقی ، متدین اور متشرع بزرگ بنے ۔ اپنے ہی گاﺅں ”تجر“ میں ملک دولت رینہ کی صبیہ فرخندہ اختر حضرت بی بی مریم کے ساتھ ان کا عقدہوااوریہی مریم صفت نیک بی بی اسم بامسمٰی حضرت سلطان العارفین ؒ کی والدہ ماجدہ تھیں۔
حضرت بابا عثمان رینہ اور حضرت بی بی مریمؒ کا مزار پُرانور اسی قریہ تجر میں زیارت گاہ ہرخاص وعام ہے ۔ حضرت بابا عثمان ؒرینہ کے دوفرزند ارجمند تھے ۔ ایک جناب حضرت سلطان العارفینؒ اور دوسرے حضرت حاجی الحرمین شیخ بابا علی ؒرینہ تھے ۔
حضرت سلطان العارفین ؒ 900ہجری میں سلطان محمد شاہ کے زمانے میں جوکہ سلطان زین العابدین کے بعد تیسرا بادشاہ شہمیری خاندان میں سے تھا ،پیدا ہوئے اور اسی وقت سے قطب تھے ۔
حضرت شیخ چوں تولد شد
نوراطلاق درتقید شد
مختصر شیخ دیں بہ ایں اسناد
بود از اولیائے مادر زاد
پیدائش کے بعد اس نونہال گلشن ولایت وسعادت کا اسم مبارک حمزہ رکھاگیا ۔ حمزہ کے معنی شیر کے ہیں اور حقیقت میں حضرت سلطان ؒ شیر نیستان ولایت تھے ۔متعدد راویوں کے بیانات ولادت باسعادت سے پہلے رویادواقعات میں یہ نام درباررسالت سے بابا عثمان رینہؒ کو القا ہوا تھا۔
چونکہ حمزہؓ سید الشہدا ءعم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی تھا اور جہاد معنوی اور صوری دونوں میں ایک برگزیدہ اور محترم صحابی تھے اور آنحضور کے قلب مظہر میں ان کی بے حد محبت تھی ۔اس لئے حضرت سلطانؒ کے لئے بھی یہی نام تجویز ہوا ۔
(جاری)

 


سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    







 
 


©  2010   KashmirUzma.net

طابع وناشر:رشید مخدومی برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ
ایڈیٹر :فیاض احمد کلو،ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر،مقام اشاعت :6پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
 


GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By