GK Communications Pvt. Ltd

  ادارتی مضمون
کشمیرکی نوخیز نسل
غصّے کی ذہنیت میں گرفتارکیوں؟

جو افراد یا قوم اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ہر دم تڑپ رکھتے ہیں وہ ماضی کی غلطیوں کا محاسبہ کر کے اُن سے سبق حاصل کر لیتے ہیں۔قوموں اور ملکوں کی پالیسیوں کی مستقبل میں کامیابی کا دارومدار اس بات پر منحصر ہوتاہے کہ وہ ماضی میں جھانک کر یہ نتیجہ اخذ کر لیں کہ اُنہوں نے غلطیاں کہاں کیں اور اُن غلطیوں کی سزا اُنہیں کس حد تک برداشت کرنی پڑی۔مستقبل کے لیے اسی حساب سے پالیسیاں ترتیب دی جاتی ہیں ، اُن کمیوں اور خامیوں کا ازالہ کیا جاتا ہے جن کی وجہ سے قوموں اور علاقوں کا سکون غارت ہو ا ہوتا ہے۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو کشمیر میں نہ ہی ہندوستان اور نہ ہی یہاں کے مقامی حکمران ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرلیتے ہیں بلکہ پچھلی تمام غلطیوں اور حربوں کو دوبارہ پوری شدّت کے ساتھ آزمایا جاتا ہے اور یہ لوگ نیوٹن کے اُس سائنسی اصول کو بھول جاتے ہیں جو Physics میں Newton's Third law سے مشہور ہے۔ یعنی:For every action there is an equal and opposite reaction. ۔ عمل اور ردعمل کے اس کھیل میں نہ صرف بدامنی اور بے چینی کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے بلکہ ملکوں اور قوموں کے اُن تمام منصوبوں پر پانی پھیر جاتا ہے جو اپنے عوام کی خوشحالی کے لیے ترتیب دیے جاتے ہیں۔ریاستی سرکار میں شامل نیشنل کانفرنس ہو یا دلّی والے ہوں ، وہ یہ بھول چکے ہیں کہ کشمیربرصغیر میں آتش فشاں کی حیثیت رکھتا ہے اور چھ دہائیوں پر محیط عرصے میں اس کی معمولی چنگاریوں نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کی نیند حرام کررکھی ہے اور اگرخدا نخواستہ یہ کبھی بھی پوری شدّت کے ساتھ اُبل پڑا تو ہند پاک کے کروڑوں عوام کے سنہری خوب مٹی پلید ہوں گے۔ایسا ہونا طے لگ رہا ہے کیونکہ حکومت ہند ریاستی سرکار سے مل کر یہاں زمینی سطح پر ایسے اقدامات کا ارتکاب کر رہی ہے جن سے کشمیر کی سر زمین پر پلنے والی نئی نسل میں شدید Reaction کا پیدا ہونا لازمی امر بن چکاہے۔ مستقبل قریب میں کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح القاعدہ اور طالبان اس وقت امریکہ اور پاکستان کے لیے درد سر بن گئے ہیں اُسی طرح مار دھاڑ، فائرنگ، لاٹھی چارج اور ظلم و ستم میں پلنے والی نسل کل ہندوستان کیا ،پوری دنیا کی نیند حرام کر دے۔کرکٹ کے میدان میں کھیلنے والے بچے جب اپنے ساتھی کی لاش خون میں لت پت دیکھتے ہیں، اسکول اور کالج کے طلباءجب کلاس کے ساتھی کی ہلاکت کی خبر اخبار میں پڑھتے ہیں، دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے نو نہال جب اپنے ہم عمر ساتھیوں کی قتل عام کی خبریںسنتے ہیں تو لازمی بات ہے کہ آنے والے وقت میںکشمیریوں کے پاس ایک ایسی نوجوان نسل ہو گی جن کے ذہن میں نفرت اور انتقام کے سوا کچھ بھی نہیں ہو گا۔ طاقت کے بل بوتے پر طویل مدت تک کسی قوم کو ڈرایا اور دھمکایا نہیں جا سکتا ہے بلکہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب کمزور سے کمزور آدمی تک بھی انجام کی پروا کیے بغیر ظلم و جبر کے خلاف اُٹھ کھڑا ہو جاتا ہے۔
شہر سرینگر اور دیگر قصبوں میں آئے روز سنگ باری کے واقعات رونماہوتے ہیں ، جن ہاتھوں میں قلم ،کاغذ اور کھلونے ہونے چاہیے وہ ہاتھ پتھر لیے دن بھر پولیس اور فورسز کے ساتھ دو بدو لڑائی لڑ رہے ہوتے ہیں،یہ سوچے بغیر کہ ان پتھر کے جواب میں اُنہیں گولیوں سے بھون دیا جا سکتا ہے۔ایسا کیوں ہے؟ کیوں یہ نوجوان اس حد تک جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر سنگ باری کے میدان میں کود پڑتے ہیں؟کیوں اِن نونہالوں کو نہ ہی پولیس کی گولیاں ڈرا سکتی ہیں اور نہ ہی پولیس اسٹیشنوں کے چکر اُن کے حوصلوں کو پست کر سکتے ہیں؟ دراصل یہاں قانون اور انسانی حقوق جیسے الفاظ مذاق بن کر رہ گئے ہیں ، پولیس اور فورسز کا کام لا اینڈ آرڈر قائم کرنا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے یہاں سب اُلٹا ہی چلا آرہا ہے، جن علاقوں میں پولیس اور فورسز کے اہلکار نہیں جاتے ہیں وہاں نہ ہی کوئی سنگ باری ہوتی ہے اور نہ ہی کسی بے گناہ کی جان تلف ہوتی ہے اور جن علاقوں میں پولیس اور فورسز اہلکار موجود رہتے ہیں وہاں نہ صرف سنگ بازی ہوتی ہے بلکہ کبھی کبھار معصوم اور بے گناہوں کو اپنی زندگیوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔مانا کہ کئی علاقوں میں مشتعل کم سن لڑکے بلا کسی جواز کے سنگ باری کرتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پولیس اور فورسز اہلکار اخلاقیات کے تمام حدود کو پار کر کے جوابی کارروائی میں کسی کی بھی جان لے سکتے ہیں، کسی پر بھی گولی چلا سکتے ہیں ۔حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ فورسز ایجنسیاں ہی ہیں جو شہر کے مختلف علاقوں میںبلا جواز ”سیکورٹی“ ؒلگا کر حالات کو پُر تناو¿ بنا رہے ہیں۔ جس نوجوان کا کھیل کے میدان کا ساتھی مارا گیا ہو، جس طالب علم کا Campus یار گولی کا نشانہ بنا ہوگا وہ اپنی دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے آخری حربے کے طور سنگ باری کے میدان کا انتخاب کر لیتا ہے اور جب اسٹیٹ کی جانب سے انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں ہو رہی ہوں گی تو Reaction کا ہونا لازمی بن جاتا ہے۔ ردعمل کی شدّت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالیہ دنوں(اخباری اطلاعات کے مطابق) پولیس نے قمرواری سے سات نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے جو شوپیان کے رہنے والے ہیں، اُن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ یہ سرحد پار ہتھیاروں کی تربیت حاصل کرنے کے لیے اپنے اپنے گھروں سے نکل پڑے تھے۔ شوپیان سانحہ میں جس طرح سے عوامی جذبات کا استحصال کیا گیا اُس کا یہی نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے، اسی طرح حالیہ لالچوک معرکہ آرائی میں جان بحق ہونے والے سوپور کے نوجوان کے والد کا کہنا ہے کہ اُن کا بیٹا ۲۰۰۸ئ کے مظفر آباد چلو مارچ میں شامل تھا۔ پرامن جلوس پر جگہ جگہ بلاجواز فائرنگ دیکھ کر اِس کے اندر فوج اور پولیس کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی اورانہوں نے عسکریت پسندی کا راستہ اختیار کر لیا۔یہ وہ صورتحال ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں ظلم و ستم سے تنگ آکر ”تنگ آمد بہ جنگ آمد“ کے مصداق کشمیری نوجوان انتہائی اقدام کا ارتکاب بھی کر سکتے ہیں۔
اپنے حقوق کے لیے پُر امن احتجاج کرنا قوموں کا جمہوری حق ہوتا ہے، لیکن ستم ظریفی دیکھئے کشمیریوں کے قتل عام کو جواز عطا کرنے کے لیے ان کے احتجاج کو کبھی فوج کے اعلیٰ آفسر”احتجاجی دہشت گردی“ (Agitational Terrorism)کا نام دیتے ہیں تو کبھی ان کو سرحد پار کی کارستانی قرار دیا جاتا ہے، ابھی کل پرسوں ہی سی آر پی ایف کے اسپیشل ڈائریکٹر جنرل این کے تریپاٹی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس حتجاجی تحریک کو "Gunless Terrorism" کام نام دے کر بے گناہ اور معصوموں کی ہلاکت کو جواز عطا کرنے کی کوشش کی ہے ۔اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لیے نئی نئی اصطلاحیں استعمال کی جاتی ہیں۔کسی بھی صورت میںکشمیری لوگوں کو اپنا جائزمطالبہ سامنے لانے نہ دیا جائے، یعنی ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ کشمیری قوم سے اُس غلامی کا تقاضا کیا جا رہا ہے جس میں ”مالک“ کے ہر ظلم و ستم پر اُف کرنے کی بھی کوئی جرا¿ت نہ کرے۔
چھانہ محلہ رعناواری کے وامق فاروق جنہوں نے ابھی زندگی کی صرف تیرہ(۱۳)بہاریں ہی دیکھی تھیں ، راست ٹیرگیس شل لگنے سے اپنے والدین کے اُن خوابوںکو ادھورا چھوڑ گیا جو انہوں نے اُس کے لیے سجائے ہوںگے ، اِس معصوم کو ابھی کشمیر اور مسئلہ کشمیر کی الف ، ب کا بھی پتہ نہیں تھا، اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ کھیل کے میدان میں بلا اور گیندلےے اپنی ہی دنیا میں مگن تھا، اُس بچارے کو کیا پتہ کہ ”اپنی“ پولیس کا اے ایس آئی جس کا اپنا بیٹا وامق کی عمر کا ہو گا ،اُس کا قاتل بن جائے ۔ ریاست میں ۲۰۱۰ئ کے آغاز سے ابھی تک سات ایسے بے گناہوںکو صرف اس جرم میں جینے کے حق سے محروم ہونا پڑا کیونکہ وہ کشمیری تھے۔ حال ہی میں لاچوک سرینگر میں کمپوٹر سنٹر سے واپسی پر ڈل گیٹ کے ایک کمسن طالب علم عنایت احمد(عمر۱۷ برس) کو لال چوک میں دن دھاڑے سی آر پی ایف اہلکاروں نے گولی مار کر ابدی نیند سُلا دیا۔ اس سے پہلے کلاروس کپواڑہ میں محمد لطیف(عمر ۵۵سال) کو رات کی اندھیروں میں ہلاک کر دیا گیا، مقامی لوگ فورسز ایجنسیوں کو اس ہلاکت کے لیے ذمہ دار مان رہے ہیں۔مذکورہ شخص عیال کثیر کا واحد سہارا تھا۔۱۶جنوری کو سوپور میں سی آر پی ایف اہلکاروں کے ہاتھوں ایک معصوم طالب علم پرویز احمد حجام(۱۶) کا قتل ناحق ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کے ایک اور واقعے میں IRP10 بٹالین کے اہلکار پٹن میں۲۲جنوری کو ایک بیگناہ منظور احمد صوفی کو گولی مار کر ہلاک کر دیتے ہیں۔62 RR والے قلم پورہ پلوامہ میں مشتاق احمد میر(۳۵) کو بغیر کسی جواز کے موت کی گھاٹ اُتار دیتے ہیں۔۵فروری کو ایس پی سکول میں گیارویں جماعت کے طالب علم زاہد فاروق شیخ (۱۶)کو نشاط میںبی ایس ایف کے اہلکار بلا کسی جواز کے گولیوں سے چھلنی کر دیتے ہیں۔ ایک مہینے کے قلیل عرصے میں یہ پے در پے وہ واقعات ہیں جن سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس پیمانے پر کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔یہ وہ سانحات ہیں جو ریاستی عوام میں نفرت کی آگ پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کشمیری یہ کیوں مانیں کہ ہندوستان ہمارا”محسن“ ہے ، یہاں اُن کے فورسز ”سیکورٹی“ کے لیے ہیں اور یہاں کی ریاستی سرکار اُن کے اپنے ووٹوں سے بنی ہوئی ہے ، جبکہ ہندوستان کے Policy Maker مسائل کو نپٹانے کے بجائے طاقت کی زبان سے بات کرنے کے عادی بن چکے ہیں، اُن کی فورسز یہاں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں اور یہاں کی ریاستی سرکار مقامی پولیس کے ذریعے معصوموں کا خون ناحق بہانے میں معاون و مددگار بن رہی ہے۔ایک جانب ریاستی سرکار وامق فاروق کی بہیمانہ ہلاکت کی تحقیقات کا حکم دے کر قصورواروں کے خلاف فوری کارروائی کا یقین دلانے کی کوشش کرتی ہے لیکن اگلے ہی روز برین نشاط میں زاہد فاروق پر بے لگام فورسز اہلکار گولیاں چلا کر اُس معصوم کو ابدی نیند سلا دیتے ہیں ۔یہ کشمیری قوم کے ساتھ بھونڈا مذاق نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ آج سے دس بارہ برس پہلے عام انسان کی ہلاکت کو عسکریت پسندی کی وجہ سے جواز عطا کیا جاتا تھا، یہی کہا جاتا تھا کہ فلاں جگہ عسکریت پسندوں نے فورسز پر حملہ کیا ....فوج نے جوابی کارروائی کی اور دونوں جانب سے گولیوں کے تبادلے میں عام آدمی مارا گیا۔ پولیس ذرائع کی یہ دلیل کس حد تک صحیح ہوتی ہے بہرحال لوگ چپ ہی سادھ لیتے تھے لیکن اب نہ ہی عسکریت پسند وں کی جانب سے اس طرح کی کوئی کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی عام طور پر کہیں گولیوں کا تبادلہ ہوتا ہے بلکہ بغیر کسی جواز کے مختلف علاقوں میں جنگی صورتحال پیدا کی جاتی ہے اور آئے روز کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی معصوم کا خون بہایا جاتا ہے۔مظاہرین سے نمٹنے کے لیے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کر کے احتجاجیوں کو سنگ باری پر مجبور کیا جا تا ہے۔ ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے برعکس یہاں عوام کو سمجھانے کے لیے صرف طاقت کی زبان میں ہی بات کی جاتی ہے، حالانکہ یہاں کے مظاہرین اکثر پُر امن رہتے ہیں ، کبھی بھی اور کہیں بھی یہاں مظاہرین پہلے تشدّد پر آمادہ نہیں ہوتے ہیں ،یہ پولیس کی کارروائی ہی ہے جو مظاہرین کوپتھراو پر مجبور کرتی ہے۔دوہرے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں تلنگانہ ریاست کے قیام کے لیے حیدر آباد میں یہاں سے بھی زیادہ مظاہرہ ہوئے ہیں، اُن مظاہرین میں زیادہ تر طلبہ شریک رہے اور وہاں کوئی بھی ایسا احتجاجی مظاہرہ نہیں تھا جو پُر امن رہا ہو، پتھراو ، توڑ پھوڑ اور گاڑیوں کو نذر آتش کرناوہاں مظاہروں کے دوران معمول بن چکا تھا ،لیکن وہاں نہ ہی گولی چلی ہے اور نہ ہی کوئی پولیس کی گولیوں کی زد میں آکر ہلاک ہو گیاہے۔ اس کے برعکس یہاں جس پیمانے پر طاقت کا استعمال ہو رہا ہے اُس سے دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ وادی کے لوگوں سے دوسرے ملک کے شہریوں جیسا سلوک روا رکھا گیا ہے۔ یہاں انسانیت اور انسانی حقوق کے تمام اصول بالائے طاق رکھے جا رہے ہیں۔
حکومت سے باہر الیکشن کے دوران ریاستی وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کے وہ بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں انہوں نے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس سے بہت ساری غلطیاں ہوئی ہیں ، انہوں نے کئی موقعوں پر عوام سے کہا ہے کہ وہ انہیں ایک موقع اور دیں۔ حکومت کیا ملی، عمر عبد اللہ اپنے تمام وعدے بھول چکے ہیں ، پھر سے وہی غلطیاں کرنے لگے جن کی وجہ سے اُن کی جماعت کو ۲۰۰۲ئ میں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔بدنام زمانہ اخوانی جن کے مظالم کی کہانیاں سن کر رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں کو ”پدم شری “ ایواڑ سے نوازنے کی سفارش کس نے کی؟ عام کشمیری اس سب سے بے خبر نہیں ہے وہ دیکھ رہے ہیں اور وقت آنے پر اپنا فیصلہ بھی سنا سکتے ہیں۔ایسی ہی غلطیوں کی وجہ سے نوے کی دہائی کے ابتدا ءمیں بڑے بڑے نامی گرامی سیاست دانوں کو لندن اور امریکہ میں پناہ لینی پڑی۔ ہندوستانی پالیسی ساز ادارے بھی وہ دور بھول چکے ہیں جب وہ یہاں حالات معمول پر لانے کے لیے ہر ایرے غیرے کی چوکھٹ پر دستک دے رہے تھے۔پھر سے وہی غلطیاں دوہرائی جا رہی ہیں ، یعنی کہا جا سکتا ہے ایک ایسی آگ کو بھڑکنے کے لیے سامان فراہم کیا جا رہا ہے جو پورے برصغیر کو بھسم کرکے رکھ سکتی ہے۔
essahmadpirzada@gmail.com

 


سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    







 
 


©  2010   KashmirUzma.net

طابع وناشر:رشید مخدومی برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ
ایڈیٹر :فیاض احمد کلو،ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر،مقام اشاعت :6پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
 


GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By