GK Communications Pvt. Ltd

  صفحہ اوّل
گلمرگ میںبرفانی قہر،17فوجی ہلاک
بھاری برف باری سے پسیاں گر آئیں

 شدید17زخمی 70کوبچالیاگیا

سرینگر//یہاں سے 70کلو میٹردورکھلن مرگ گلمرگ میں سوموار کی صبح برفانی طوفان کے نتیجے میں بھاری پسیاں گر آئیں جس کی زد میں آکر فوج کے ایک ٹریننگ سکول میں مقیم اہلکار اور زیر تربیت عملہ زندہ دب گیا۔ اس حادثے میں ایک لیفٹنٹ سمیت 17اہلکار ہلاک جبکہ 17 دیگرزخمی ہوئے جن میں چند اہلکاروں کی حالت تشویشناک قرار دی جارہی ہے۔اس حادثے کے دوران70اہلکاروں کو بچاﺅ کارروائیوں کے دوران زندہ بچا لیا گیا۔ ایس ایچ او گلمرگ نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا کہ گذشتہ دو روز سے گلمرگ میں بھاری برف باری ہورہی تھی اور کھلن مرگ علاقے میں تقریباً7فٹ برف جمع ہوگئی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ گلمرگ سے 15کلو میٹر دورکھلن مرگ میں ہائی آلٹچوڈ وار فیر آرمی سکول میںتربیت حاصل کرنےوالے اہلکاروں نے کھلن مرگ کے پہلے پڑاﺅ پرگجرہٹ میں ایک ایڈوانس کیمپ لگایا تھاجس کوایک ہفتے تک جاری رہناتھا۔جس میں 300زیر تربیت فوجی اہلکار ،ٹریننگ دینے والے 100 انسٹرکٹر،ان کی معاونت کےلئے 60افراد پر مشتمل دیگر عملہ اور 50شہری موجود تھے۔اُن کا کہنا تھا کہ سوموار کی صبح اُنہیں اس بات کی اطلاع ملی کہ 9بجے سے لیکر 10بجے کے درمیان کھلن مرگ علاقے میں شدید برفانی طوفان آیا ہے جس کے نتیجے میں پہاڑوں سے بھاری پسیاں گر آئیں ہیں اور ان بھاری پسیوں کی زد میں فوج کے مذکورہ ایڈوانس کیمپ کا ایک حصہ آگیا ہے، لہٰذا پولیس ، فوج اور سول انتظامیہ کے اہلکار فوری طور پر وہاں پہنچ گئے اورصبح قریب گیارہ بجے بچاﺅ کارروائیاں شروع کی گئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دوپہر تک فوج اور پولیس نے قریب 70اہلکاروں کو ،جوبرف میں دب گئے تھے زندہ بچا لیا،تاہم پسیوں کے نیچے متعدد اہلکار زندہ دفن ہوئے تھے ۔ اُنہوں نے بتایا کہ ان میں سے 17اہلکاروں کو شدید زخمی حالت میں برف کے نیچے سے نکالاگیااوراُنہیں اسپتالوں میں داخل کرایاگیاجن میں بعض شدید زخمیوں کی حالت انتہائی نازک بنی ہوئی ہے۔ایس ایچ او نے بتایا کہ بچاﺅ کارروائیوں کے دوران کافی مشکلات پیش آئیں کیونکہ اس علاقے میں لگاتار برف باری ہورہی ہے اور ٹنگمرگ سے گلمرگ تک کا راستہ بھی بند ہوگیا ہے۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ زندہ دفن ہونے والے 17اہلکاروں کی لاشیں نکالی گئیں جن میں لیفٹنٹ پرتیک بھی شامل ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ بچاﺅ کارروائیوں کا آپریشن بھاری برف باری کی وجہ سے منگل صبح تک معطل کر دیاگیا تاہم اطلاعات کے مطابق اب کوئی بھی فوجی اہلکاربرف کے نیچے نہیں ہے۔اس دوران فوج کے ترجمان کرنل برار نے بتایا کہ گلمرگ سے آٹھ کلو میٹر دور 10ہزار فٹ کی بلندی پر 350 فوجی اہلکاروں پر مشتمل تربیت حاصل کرنے والے اہلکارسوموار کی صبح آٹھ بجے کھلن مرگ کے لئے روانہ ہوئے جہاں اُنہیں سرمائی وارفیئرکےلئے ایک تربیتی کیمپ لگانا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ اسی دوران ایک بھاری پسی کھلن مرگ کے پہاڑوں سے نیچے کی طرف آئی جس نے مذکورہ کیمپ کو اپنی زد میں لایا۔ترجمان نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ کتنے تربیت حاصل کرنے والے اہلکار اس بھاری پسی کی زد میں آگئے تاہم بعد میں 70اہلکاروں کو زندہ بچالیا گیا۔ البتہ17اہلکار اپنی جان گنوا بیٹھے جن میں ایک آفیسر بھی شامل ہے۔سنوایویلانچ اسٹینڈاسٹیبلشمنٹ(برفانی طوفانوں کے مطالعہ سے متعلق ادارے) نے پہلے ہی اس بات کی وارننگ دی تھی کہ پہاڑی علاقوں میں بھاری برف باری کے نتیجے میں پسیاں گر آنے کا خطرہ ہے۔ مذکورہ ادارے نے 24گھنٹے قبل ہی ان علاقوں میں رہنے والوں کو آگاہ کیا تھاجوسونہ مرگ، گگن گیر، بم باتھ، دراس، بٹالک ، ڈوڈی ،ایس ایم ہلز کرگل میں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ درمیانی اور اونچے درجے کی پسیاں گر آنے کے پیش نظر کھلن مرگ ، اوڑی ،باز، راز دان ٹاپ ، زیڈ گلی ،کیرن، فرکیان ٹاپ، مژھل ،سادھنا ٹاپ، گریز، نیرو، باروب اور چوکی بل علاقوں کے رہنے والوں کوبھی خبردار کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ جواہرٹنل اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بھاری پسیاں گر آنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

 


سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    







 
 


©  2010   KashmirUzma.net

طابع وناشر:رشید مخدومی برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ
ایڈیٹر :فیاض احمد کلو،ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر،مقام اشاعت :6پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
 


GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By