GK Communications Pvt. Ltd

  اداریہ
مذاکراتکشمیرمیں خوشگوار تبدیلی شرطِ اوّل


عصر رواں کی سیاست میں کوئی چیز حتمی ہے نہ کوئی شئے ناممکن ۔کل کیا ہوا اور کیا نہ ہوااُس کوچھوڑ کر آ ج کی حقیقت یہ ہے کہ امریکا طالبان سے ڈائیلاگ کی حامی بھررہاہے اور عراق میں سابق صدر صدام کی بعث پارٹی کوآئندہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں شریک ہونے کی دعوت دے رہاہے ۔بعینہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کافی تلخ نوائیوں کے بعد آج کا سچ یہ ہے کہ سردمہری کی برف دھیرے دھیرے پگھلنا شروع ہوچکی ہے۔یہ ایک خوش آئند بات ہے ۔گواسلام آباد ایک عرصے سے ہاتھ پیر ماررہا تھاکہ جامع مذاکرات ازسر نو بحال ہوں لیکن اس کی آوازیں صدابہ صحرا ثابت ہوئیںکیونکہ 26/11کا شدید بھونچال دلّی کے اعصاب پر بُری طرح سواررہا۔ امریکا اور دیگربااثر ممالک حکومت ہند پر پاکستان سے گفت وشنید کرنے کےلئے سفارتی دباﺅ بڑھا رہے تھے لیکن یہ سب بے سودثابت ہوا۔ اب حالات نے اس قدر یکایک پلٹا کھایا کہ دلّی نے ازخود مذاکرات کی پیشکش کرکے اسلام آباد کی من مراد پوری کردی۔ باورکیاجاتاہے کہ گفت وشنید کی بحالی کے اس خوش کن فیصلے کے پس پردہ امریکہ اور بین الاقوامی دباﺅ کارفرماہے۔بعض مبصرین اس سلسلے میں یہ استدلال کرتے ہیں کہ افغانستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے چونکہ بین الاقوامی کاوشوں میں بھارت کو سائیڈلائن کیا گیا ہے، اُسی کے زیراثر بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے میں پیش قدمی کی ہے۔واضح رہے افغان مسئلے پر لندن کانفرنس اور استنبول کانفرنس میں بھارت سرے سے ہی غائب دکھائی دیا،جو ایک لحاظ سے پاکستان کی سفارتی جیت ہے ۔بہرحال توقع یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے اعلیٰ سرکاری عہدیدار رواں ماہ کے اواخرمیں مذاکراتی عمل کی رسمی شروعات کریں گے ۔اگرچہ فی الحال مذاکرات کا ایجنڈا دہشت گردی کے موضوع پر مرکوز رہنے کا امکان ہے لیکن پاکستان اس بات کے لئے کوشاں ہے کہ جامع مذاکرات پھر سے پٹری پہ آئےں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ برصغیر کے دوجوہری ہمسایوں کے درمیان سردجنگ یا گرم گفتاریاں بجز امن دشمن قوتوںکے کسی کے مفاد میں نہیں۔یہ قوتیں ہمیشہ اس بات کی درپے رہی ہیں کہ دلّی اور اسلام آباد ناپائیدار دوستی کی کچی ڈورمیں بھی کبھی نہ بندھیںبلکہ شکوک وشبہات ، نفرت وعداوت اور بدامنی و بے چینی کے گہرے بادل برصغیر کے مطلع سیاست وسفارت پر ہمیشہ منڈلاتے رہےں۔ اِن قوتوں کے لئے ہندپاک امن مذاکرات ایک زوردارطمانچہ ہے ،اس لئے ان کی ہر ممکن کوشش رہے گی کہ ایسے اوچھے حربے آزمائے جائیں جو ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے پر منتج ہوں۔چنانچہ ماضی میں اٹل بہاری واجپائی اور نواز شریف نے سینہ صفائی کرکے دونوں ملکوں کو نفرتوں اور عداوتوں کے اندھے کنوئیں سے نکال باہر کرنے کے لئے لاہوربس سروس کا ایک تاریخی اقدام کیاتوکرگل نے ان کوششوں کاجنازہ اٹھایا ۔ آگے جنرل مشرف نے موقع بے موقع کشمیر پر اپنے اصولی موقف میں ردوبدل کرکے تعلقات کو سدھارنے میں بڑی بڑی چھلانگیں ماریں حتیٰ کہ اپنے دورہ ہند کے دوران دلّی کے ساتھ اس دوستی کو فخراً irreversible بھی کہالیکن 26/11کے ایک ہی جھٹکے نے اس ساری ریتیلی عمارت کو دھڑام سے نیچے گرادیا۔اصل میں مستقل دوستی اور فائدہ مندمفاہمت کے لئے لازمی ہے کہ فریقین تنازعات اور اختلافات کو خلوص دل سے سلجھانے کےلئے سیاسی پہل کریں۔محاورے کی زبان میں بات کی جائے تو کہاجاسکتاہے کہ کنوئیں میں سے سو بالٹیاں نکالنے سے پانی بدستور ناپاک ہی قرار پائے گا جب تک کنوئیں میں سے مُردہ کتّے کو باہر نہیں نکالاجاتا۔ دُنیا جانتی ہے کہ آرپار دونوں قوموں کو مستقلاً باہمی مفاہمت ومصالحت کی لڑی میں پروئے جانا اُس وقت تک ناممکن العمل ہے جب تک مسئلہ کشمیر کا منصفانہ ، آبرومندانہ اورقابل قبول حل نہ نکالا جائے ۔ یہی ایک واحدراستہ ہے جس سے سیاست وسفارت کے کنوئیں سے مردہ کُتّا نکال باہر کرکے مسائل کا حل برآمد کیا جاسکتاہے۔بالفاظ دیگرمسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈال کراگر گفتگو کی میز بھی سجائی جائے پھر بھی لاکھ کوششوں کے باوجود امن وآشتی کا خواب دھرے کا دھراہی رہے گا۔سچ پوچھئے تو اس لایعنی طرزِ عمل کو اپناتے ہوئے کشمیر میں عوام الناس کا تنازعات کے حل میںمذاکرات کی افادیت ومقصدیت پر کوئی اعتمادہی نہیں رہاہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ مفادِ خصوصی رکھنے والے عناصر کو ایسی بے معنی اُچھل کود سے اُلٹا حوصلہ ہی ملتاہے اور وہ اپنے حقیر مفادات کے لئے بھارت اور پاکستان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے درپے رہتے ہیں۔لہٰذا جب تک مجوزہ ہندپاک مذاکرات کی بحالی کی غایت اولیٰ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نہ ہو تواُس وقت تک طویل مذاکراتی ادوارمیں یہ چیزیں صرف ایک اور بے معنی اضافہ ہی بن کررہےں گی ۔ عقل سلیم اور معاملہ فہمی کا تقاضہ ہے کہ بھارت اورپاکستان اس بار خطے میں امن وسلامتی ،تعمیر وترقی اور جذبہ خیر سگالی کوفروغ دینے کی نیت سے مسئلہ کشمیر کے آبرومندانہ حل کو بستہ فراموشی میں نہ ڈالیں ۔ مزید برآں دلّی اور اسلام آباد کے درمیان صلح سمجھوتے اور افہام وتفہیم کے اثرات اگر کشمیر میں زمینی سطح پر حالات میں مثبت تبدیلی نہیں لاتے اور یہاں کے نہتے عوام کے خلاف طاقت آزمائیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ بند نہیں ہوتا تو یہ سارا کچھ محض گفتند ، نشستند،برخواستندکی گردان ہی ثابت ہوگا۔اُمید کی جانی چاہئے کہ اس بار انڈوپاک ڈائیلاگ کشمیر میں زمینی حالات پر فی الفور اپنا مثبت اورخوشگوار اثرات مرتب کرے گا ۔

 


سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    







 
 


©  2010   KashmirUzma.net

طابع وناشر:رشید مخدومی برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ
ایڈیٹر :فیاض احمد کلو،ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر،مقام اشاعت :6پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
 


GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By