GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  اداریہ
انسدادِ جنسی ہراسانی آر ڈی نینس
اعتمادسازی کا ایک اور موقعہ گنوادیا گیا

دِلّی اجتماعی عصمت ریزی معاملہ کے بعد جنسی زیادتیوں کے خلاف سخت قانون سازی کے حق میں ملکی سطح پر اٹھنے والی آوازوں پر لبیک کہتے ہوئے اگر چہ مرکزی حکومت نے وقت ضائع کئے بغیر جسٹس ورما کمیٹی رپورٹ موصول ہونے کے کچھ روز بعدہی انسداد جنسی ہراسانی آر ڈی نینس جاری کرواکے ملک کے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اس معاملہ میں حکومت بھی کافی سنجیدہ ہے تاہم حسب روایت یہ آر ڈی نینس جاری کرتے وقت کشمیریوں کو ایک بار پھر مایوس کردیاگیا کیونکہ آر ڈی نینس میں افسپا ترمیم اور جنسی زیادتیوں میں ملوث فورسز اہلکاروں کو عام فوجداری قوانین کے تحت لانے سے متعلق ورما کمیٹی سفارشات کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔گوکہ وزیر خزانہ نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ ان سفارشات کو مسترد نہیں کیاگیا ہے بلکہ ان پر وسیع تر اتفاق رائے کی ضرورت ہے تاہم یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ گزشتہ کئی برسوںسے اس متنازعہ قانون میں ترمیم کے حوالے سے بار بار اتفاق رائے پیدا کرنے کی باتیں کی گئیں تاہم وہ اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے کبھی بھی سنجیدہ کوششیں نہیں ہوئیں جس کے نتیجہ میں کشمیری عوام اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ دراصل مرکزی حکومت اس قانون کو انسان دوست بنانے کے حق میں ہی نہیں ہے ۔آج بھی جب مرکزی حکومت کو ریاستی عوام کے بالعموم اور کشمیری عوام کے بالخصوص دل جیتنے کاسنہری موقعہ ملا تھاتاہم اس بار بھی ’’قومی مفاد‘‘کے نام پر کشمیریوں کی دل آزاری کی گئی جس کا واضح ثبوت ریاست کی مین سٹریم او ر علیحدگی پسند جماعتوںکے علاوہ سیول سوسائٹی کی جانب سے مرکزی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کرنا ہے۔افسپا میں ترمیم کے حوالے سے مختلف الخیال جماعتوں کا یکساں موقف اس حقیقت کا غماز ہے کہ اس مسئلے پر تمام کشمیری جماعتیں یکساں خیالات و جذبات رکھتی ہیں۔ ورما کمیشن کی رپورٹ پیش ہونے کے فوراً بعد ہی وزیر اعلیٰ نے سماجی ویب گاہ ٹویٹر پر افسپا سے متعلق انکی سفارشات کو سراہتے ہوئے اسکی عمل آوری کے لئے کل جماعتی میٹنگ طلب کرنے کی صلاح دی تھی۔علیحدگی پسند جماعتوں نے بھی جسٹس ورما کمیشن کی اس سفارش کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسکی عمل آوری پر زور دیا تھا۔ اس طرح سے پتہ چلتا ہے کہ افسپا کے حوالے سے بالخصوص خواتین کے خلاف جرائم کے تعلق سے اس کالے قانون میں ترمیم کی سفارش کو کیسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیاتھا ۔ اگر مرکزی سرکار ورما کمیشن کی دوسری سفارشات کے ساتھ ساتھ اس سفارش پر بھی عمل کرتی تو شاید ہی ملک بھر میں کوئی بھی انسانی دل رکھنے والا شخص اسکی مخالفت کرتا،کیونکہ ظاہر بات ہے کہ کوئی بھی ذی ہوش شخص عصمت دری جیسے گھنائونے جرم کا ارتکاب کرنے والے اہلکار کو افسپا کے تحت استثنیٰ دیئے جانے یا دوسرے لفظوں میں معاف کرنے کی حمایت کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کیوں مرکزی سرکار نے افسپا میں ذرا سی ترمیم کے ذریعے صنف نازک کو تحفظ فراہم کرنے کا یہ نادر موقعہ کیوں گنوادیا؟ ۔اس کا جواب بہر کیف مرکزی اکابرین کو دینا ہی پڑے گا لیکن ورماکمیٹی سفارشات کے حوالے سے مرکز کے حوصلہ شکن رویہ نے اس تاثر کو تقویت ضرور پہنچائی کہ جب دلّی میں بیٹھے ارباب حل و عقد محض خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے افسپا میں ذرا سی ترمیم کرنے کے حق میں بھی نہیں تو پھر جموں کشمیر سے افسپا کے مکمل خاتمے کی کیسے امید رکھی جاسکتی ہے۔کیا یہ سچ نہیں کہ ریاست کے منتخب وزیر اعلیٰ مسلسل پچھلے چار سال سے مسلسل افسپا کو کم از کم ان علاقوں ، جہاں حالات قابو میں ہیں ،سے ہٹانے کا مطالبہ کررہے جبکہ اپوزیشن اور ریاست کی سیول سوسائٹی بھی وقتاً فوقتاً اس قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتی آرہی ہیں۔اتنا ہی نہیں ،جموں کشمیر میں اب تک مرکزی حکومت کے کہنے پرہی ماہرین کی کئی ٹیموں اور کمیٹیوں نے افسپاہٹانے کی سفارش کی ہے ۔ اس ضمن میں دلیپ پڈگائونکر کی قیادت میں قائم رابطہ کاروں کی ٹیم کی سفارش ایک تازہ مثال ہے۔ اس سے پہلے حامد انصاری کی قیادت میں قائم شدہ ورکنگ گروپ نے بھی اسی طرح کی سفارش کی تھی جبکہ سال 2005میں قائم کئے گئے انتظامی اصلاحاتی کمیشن اور پانچ رکنی جیون ریڈی کمیٹی نے بھی افسپا میں ترمیم یا اسکے مکمل خاتمے کی رائے دی تھی تاہم مرکزی حکومت کمیٹیوں پر کمیٹیاں قائم کرتی گئیں ،حالات جونہی بہتر ہوتے گئے ،وہ بھول گئے کہ کبھی انہی کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹیوں نے افسپا میں ترمیم یا اس کے مکمل خاتمے کی سفارش کی تھی ۔بار بار اس حساس مسئلہ پر مرکزی حکام کی جانب سے ٹال مٹول کی پالیسی نے کشمیریوں کو اس قدر بدظن کردیا ہے کہ وہ اب اس تناظر میں مرکز سے کسی بڑے بریک تھرو کی امید ہی نہیں رکھتے ہیں۔ایسا تاثر پیدا ہونا کسی بھی طور ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور اس طرح کی پالیسی سے جہاں دلّی اور سرینگر کے درمیان خلیج مزید وسیع ہوتی جائے گی وہیں ریاستی حکومت بھی اپنے ہی لوگوں میں بے اعتبار ہوجائے گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یقینی طور پر اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔لہٰذا مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران پیش ہونے والے اس بل میں افسپا سے متعلق ورما کمیٹی سفارشات کو شامل کریں تاکہ کشمیریوں کو بھی لگے کہ دلّی میں بیٹھے حکام ان کے جذبات و احساسات کا ادراک کرتے ہیں ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By