GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
جسٹس ورما کمیٹی کی کوئی بھی سفارش مسترد نہیں ہوئی
افسپا ترمیم پر اتفاق نہ ہوسکا

یواین آئی +ایجنسیز
نئی دلی//مسلح فورسز کو وسیع تر اختیارات سے لیس کرنے والے متنازعہ قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورس ایکٹ میں ترمیم اور جنسی زیادتیوں کے مرتکب فورسز اہلکاروں کو عام فوجداری قوانین کے تحت لانے سے متعلق جسٹس ورما کمیٹی سفارشات کو ’’انسداد جنسی ہراسانی آر ڈی نینس‘‘کیلئے عدم اتفاق رائے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مرکزی حکومت نے آرڈیننس کو قانون سازی کے عمل کا محض آغاز قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ورما کمیٹی سفارشات کو مسترد نہیں کیاگیا ہے بلکہ پارلیمنٹ میں آرڈیننس کی جگہ لینے والے بل پر بحث کے دوران بھی سیاسی پارٹیوں کو اپنی بات رکھنے کا پورا موقع ملے گا اور وسیع ترین اتفاق رائے پیدا ہونے کے بعد ایک مضبوط اور موثر قانون سامنے آئے گا۔ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہاکہ یہ آرڈیننس قانونی عمل کا محض آغازہے اوراس مسئلے پر سیاسی پارٹیوں اور سماج کے دیگر طبقوں سے صلاح مشورہ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ چدمبرم نے کہاکہ جسٹس ورما کمیٹی کی کسی بھی سفارش کو حکومت نے نامنظور نہیں کیا ہے۔افسپا میں ترمیم اور جنسی زیادتیوں کے مرتکب فورسز اہلکاروں کو عام فوجداری قوانین کے تحت لانے سے متعلق ورما کمیٹی سفارشات سے متعلق چدمبرم نے کہا کہ ’’افسپا میں ترمیم اور فورسز کو عام فوجداری قوانین کے تحت لانے کے معاملہ پر اتفاق رائے ابھی تک پیدا نہیںہوسکا جبکہ نابالغ کی عمر کی حد 18 سے گھٹا کر 16 برس کرنے اور شادی شدہ عورتوں کے ساتھ زنا کو جرم قرار دینے سمیت کچھ سفارشات پر بھی اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے انہیں آرڈیننس میں شامل نہیں کیا گیا ہے‘‘تاہم انہوں نے کہاکہ اس آرڈیننس کی جگہ لینے والے بل پر بحث کے دوران بھی سیاسی پارٹیوں کو اپنی بات رکھنے کا پورا موقع ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یقین ہے کہ اس سلسلے میں پارلیمنٹ سے پاس ہونے والا بل جنسی حملوں سے موثر طریقے سے نمٹنے کی تدابیر کے بارے میں عام اتفاق رائے ہوگا۔وزیر خزانہ نے کہاکہ آرڈیننس کے ضابطے فوراً نافذ کردیئے جائیں گے اور اس سے جنسی جرائم پر موثر طریقے سے روک لگانے کی امید ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکمت راست بل لانے کا طریقہ اختیار کرتی تو ضابطے پارلیمنٹ سے قانون پاس ہونے اور اسے صدر کی منظوری ملنے کے بعد ہی نافذ ہوتے۔انہوں نے کہاکہ آرڈیننس میں جنسی تشدد کے بھیانک معاملوں میں زیادہ سے زیادہ سزا کے طور پر ہی پھانسی کاانتظام رکھا گیا ہے جبکہ جنسی تشدد کی شکار کی موت یا تاحیات معذوری اور حملہ آور کا دوسری بار قصوروار ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ سزا کے طو رپر سزائے موت مقرر کی گئی ہے۔ چدمبرم نے کہاکہ آرڈیننس میں پارلیمنٹ میں زیرالتوا  جرائم سے متعلق قانون میں ترمیمی بل کے کئی ضابطوں کو شامل کیا گیا ہے، اس کے ذریعہ مجرمانہ ضابطہ عمل اور شہادتوں سے متعلق ہندوستانی قانون میں بھی ترمیم کی گئی ہے، ان کا مقصد جنسی تشدد کی شکار خواتین کے وقار کا تحفظ، پولیس کی زیادتی کو روکنا اور گواہی کی بہتر طریقے سے ریکارڈنگ کو یقینی بنانا ہے تاکہ ایسے معاملوں کی تیز رفتار سماعت ہو اور مظلوم کو مناسب انصاف مل سکے۔ چدمبرم نے جنسی حملوں کی روک تھام کے لئے تجاویز پیش کرنے کی غرض سے تشکیل شدہ جسٹس ورما کمیٹی کی مہینے بھر کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہاکہ کمیٹی کے سربراہ جسٹس (ریٹائرڈ) جے ایس ورما بھی رپورٹ کے ضابطوں کو نافذ کرنے کے لئے فوراً  آرڈیننس لانے کا مطالبہ کرچکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بنا کسی تاخیر کے آر ڈی نینس جاری کیاگیا۔وزیر خزانہ کے ہمراہ اطلاعات و نشریات کے وزیر منیش تیواری نے آرڈیننس پر ناقدین کو سیاست کرنے سے باز آنے کی صلاح دی۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے  اور اس پر ضرورت سے زیادہ بحث کرنے کی گنجائش نہیں ہے بلکہ قانون سازی کو ایک موقعہ فراہم کیاجاناچاہئے۔واضح رہے کہ ورما کمیٹی کا 16 دسمبر کی رات دہلی میں چلتی بس میں ایک لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کے واقعے کے بعد قیام عمل میں آیا تھا۔ اس واردات میں لڑکی کو شدید اندرونی چوٹیں آئی تھیں اور 29 دسمبر کو سنگاپور کے ایک اسپتال میں اس کی موت ہوگئی تھی۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By