GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
وادی میں کینسرکے مرض میں غیر معمولی اضافہ
سکمز کے اعداد و شمار۔۔۔۔2009میں2968اور 2012میں3288کیس رجسٹر

سرینگر// وادی کشمیر میں کینسر جیسے مہلک مرض کے غیر معمولی پھیلائو کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ ہر سال ہزاروں نئے مریضوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ صورتحال کا تشویشنا ک پہلو ماہرین کا یہ خدشہ ہے کہ ایسے مریضوں کی تعداد بھی کچھ کم نہ ہوگی جنہیں ابھی تک یہ معلوم بھی نہیں ہوگا کہ وہ اس ملک مرض کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ فی الوقت وادی کشمیر میں سرطان کا مرض کس رفتار سے فروغ پارہا ہے اس کا اندازہ صرف سکمز کے ریجنل کینسر سینٹر میں رجسٹر ہونے والے اعداد و شمار کو دیکھ کر ہی لگایا جاسکتا ہے۔ان ہوشربا اعداد و شمار کے مطابق سال2009میں سکمز میںکینسر کے2968 رجسٹر ہوئے۔ سال 2010میں جب وادی کے حالات انتہائی خراب رہے اور اکثر ایام ہڑتالوں اور کرفیو کی نذر ہوگئے ، میں سکمز میں مزید نئے 2630 کینسر کے مریض  رجسٹر ہوئے۔اسپتال میںسال 2011 میں 3057 اور سال 2012 میں 3288نئے مریضوں کا انداج ہوا۔ امسال کے ابتدائی مہینے یعنی جنوری میں 277 سرطان کے مریضوں کا اندراج سکمز کینسر سینٹر میں ہوا۔ظاہر ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف ان لوگوں کے ہیں ، جو سکمز میں اپنا علاج و معالجے کرانے کیلئے آئے ہیں۔ ان لوگوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں جو مرض کی تشخیص کے بعد علاج کیلئے  نجی طبی اداروں کے ساتھ رابطہ کرتے ہیں یا پھر وادی سے باہر چلے جاتے ہیں۔ ماہرین کی تحقیق کے بعد یہ بھی پتہ چلا ہے کہ وادی سے تعلق رکھنے والے مریض سب سے زیادہ بالترتیب فوڈ پائپ، پھیپھڑے، معدے ، چھاتی ، انتڑیوں اور ریکٹم کے کینسر میں مبتلا ہیں۔ ماہرین ،جو خود بھی صورتحال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کا کہنا ہے کہ کینسر کے مرض کے غیر معمولی پھیلائو کو روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر اور طرز زندگی میں بدلائو وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گٹھکا نامی تمباکو سے بنا مسالہ کینسر کی وجہ میں نمایاں نظرآرہاہے اور ریاستی ہائی کورٹ نے حکومت سے کہاتھا کہ گٹھکا پر یہاں پابندی لگائی جائے جس کے بعد ریاستی سرکار نے ایک کمیٹی تشکیل دی لیکن ابھی تک اُس کمیٹی کی رپورٹ عدالت عالیہ میں پیش نہیں کی جاسکی ہے۔ سکمز میں ریجنل کینسر سینٹر کے کنوینئر اور ریڈیو آنکلوجی کے سربراہ پروفیسر محمد مقبول نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ ایک مفصل گفتگو میں بتایا ’’کینسر کا پھیلائو روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر اپنانا ناگزیر ہے، ہمیں اپنے طرز زندگی کو بدلنا ہوگا، عوام کو خاص طور سے معقول غذائیت کی طرف توجہ دینی چاہیے ، ورزش ہر شخص کا معمول ہونا چاہیے، چھاتی کے کینسر کے تدارک کا ایک اہم طریقہ یہ بھی ہے کہ مائیں اپنے نوزائد بچوں کو اپنا دودھ پلائیں، سگریٹ نوشی سے مکمل اجتناب اور دوسری ماہرانہ ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے اور اس طرح سے ممکن ہے کہ ہم صورتحال کو کافی حد تک قابو کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔‘‘ پروفیسر مقبول نے اپنے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ایسے کئی مریض ہونگے جنہیں ابھی تک اس ملک مرض میں مبتلا ہونے کی بھنک بھی نہ لگی ہو۔ انہوں نے کہا ،’’ ایسی سینکڑوں مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں ، جن میں مریضوں ک کافی دیر تک مرض کے بارے میں پتہ ہی نہیں ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ان لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہوگی جن کے مرض کی تشخیص ہی نہ ہوئی ہو۔‘‘ پروفیسر مقبول کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ اکثر معاملات میں کینسر کے مرض کی تشخیص کے بعد مریض کے اقربا ء خود ہی یہ مان کرنے چلتے ہیں کہ اب مریض کا صحت یاب ہونا ممکن ہی نہیں ۔ حالانکہ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا ہے ۔ اُن کا کہنا تھا،’’بروقت اورمعقول علاج و معالجے اور افراد خانہ کے بھر پور تعاون کے نتیجے میں کینسر کے مریض کی زندگی بچ سکتی ہے۔‘‘ یہ بات تو طے ہے کہ وادی میں کینسر جیسا مہلک مرض ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پھیلتا جارہا ہے، ایسے میں یہ ضروری ہے کہ ماہرین کی وساطت سے عوام الناس کیلئے ہدایات اور جانکاری کی مہم تیز کردی جائے تاکہ لوگ مرض کی نوعیت اور اسکے تدارک کے ہر پہلو سے واقف ہوں۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By