GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
2بچوں کی ماں گھریلو تشدد کی بھینٹ چڑھی
لواحقین کا احتجاج، پولیس ہیڈکوارٹر اور بائی پاس پر دھرنا

سرینگر//سسرال والوں کے ہاتھوں مبینہ طور زندہ جلائی گئی یچھ گام بڈگام کی جواں سال خاتون بالآخر اُس وقت گھریلو تشدد کی بھینٹ چڑھ گئی جب صدر اسپتال میں 9 روز تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد وہ زندگی کی جنگ ہار گئی۔ خاتون کے فوت ہونے کے بعد سوموار کو اس کے میکے والوں سمیت لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس کی لاش لیکر پہلے ائر پورٹ روڑ پرپولیس ہیڈکوارٹر کے باہر، پھر نوگام بائی پاس اور بعد میں چھترگام چاڈورہ میں دھرنا دیکر احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس دوران پولیس نے اس سلسلے میں پہلے ہی درج ایف آئی آر کو قتل کیس میں تبدیل کردیا ہے۔30سالہ تسلیمہ اختر دختر غلام حید ڈار ساکن چھتر گام چاڈورہ کی شادی8سال قبل یچھ گام بڈگام کے غلام محی الدین راتھر ولد علی محمد راتھر کے ساتھ انجام دی گئی۔تسلیمہ کے دو بیٹے ہیں جن کی عمر6سال اور3سال ہے۔ خاتون کے لواحقین کے مطابق چند روز قبل ان کی بہن کوسسرال سے اچانک ضلع اسپتال بڈگام میں داخل کردیا گیا جہاں سے اسے تشویشناک حالت میں صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا۔اس کے جسم کا97فیصد حصہ بری طرح سے جھلس چکاتھا اور وہ اسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یچھ گام میںتسلیمہ کے پڑوسیوں نے فون پر اس بات کی اطلاع دی کہ اسے پر اسرار طور اسپتال لے جایا گیا ہے اور جب وہ اسپتال پہنچ گئے تو یہ دیکھ کر ان پر قیامت ٹوٹ پڑی کہ تسلیمہ کا پورا جسم بری طرح سے جھلس گیا تھا۔انہوںنے الزام عائد کیا کہ 26اور27جنوری کی درمیانی شب ان کی بہن کو سسرال میں زندہ جلاکر قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ تسلیمہ کے شوہر ، نند اورساس نے ایک سازش کے تحت پہلے اسکی شدید مارپیٹ کی اور بعد میں اس کے ہاتھ پیر باندھ کر اس پر مٹی کا چھڑ دیا اور اس کو آگ لگادی۔یہ معاملہ اگلے ہی روز پولیس کی نوٹس میں لایا گیا اور پولیس نے ابتدائی کارروائی کے بطور خاتون کے شوہر کوحراست میں لیا اور معاملے کی نسبت پولیس اسٹیشن بڈگام میں 27 جنوری کے روز ایف آئی آر زیر نمبر 18/2013زیر دفعات 307اور498Aآر پی سی کے تحت درج کرلیا گیا۔ اسی دوران خاتون کے میکے والوں نے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ سنیچر2فروری کو پریس کالونی سرینگر میں احتجاجی مظاہرے کئے اور پولیس پر خاتون کو زندہ جلانے والے اسکے سسرال والوں کو بچانے کا الزام عائد کیا۔اس واقعہ نے اُس وقت نیا موڑ لیا جب تسلیمہ9روز تک صدر اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعداتوار کی شام زندگی کی جنگ ہار کر دم توڑ بیٹھی۔ سوموار کی صبح خاتون کے رشتہ داروں اور دیگر مقامی لوگوں کی بھاری تعداد اسکی لاش لیکر ائر پورٹ روڑ ہمہامہ پہنچ گئے اور سڑک پر دھرنا دیکر گاڑیوں کی آمدورفت روک دی۔ مظاہرین نے خاتون کے قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کررہے تھے۔مظاہرین میں مردوزن شامل تھے اور انہوں نے ائر پورٹ روڑ پر واقع پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر بھی لاش سمیت دھرنا دیکر احتجاج درج کیا۔اس موقعہ پر پولیس نے مداخلت کرکے مظاہرین کو اس یقین دہانی کے ساتھ منتشر کردیا کہ اس میں ملوث کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔ بعد میں مظاہرین نے نوگام بائی پاس پر بھی اسی طرح کا دھرنا دیا اور قاتلوں کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By