GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  نےقدم نےمنزلیں
8ٹیکنالوجیاں جو دُنیا تبدیل کر دیں گی


گزشتہ سال امریکی ماہرینِ حیاتیات ڈی این اے کا اتنا بڑا ٹکڑا بنانے میں کامیاب رہے کہ ایک مکمل لونی مادہ وجود میں آگیا۔ اب ان کی سعی ہے کہ ایک مکمل مصنوعی یا تالیفی لونی مادہ کے ذریعے اولین زندہ مخلوق تخلیق کرلی جائے۔ ہوا یہ کہ امریکی سائنسی ادارے، کریگ وینٹرانسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہرِ حیاتیات، ڈینئل گبسن نے ساتھیوں کے ساتھ، مشین سے بنے ڈی این اے کے ہزارہا ننھے منے ٹکڑے خمیر کے خلیوں سے جوڑے، پھر بڑے ٹکڑے ایک جگہ اکٹھے کیے اور یہ عمل اتنی بار دہرایا کہ لونی مادہ مکمل ہوگیا۔یہ لونی مادہ پھر جراثیم میں داخل کر دیا گیا۔چنانچہ آج کریگ وینٹر انسٹی ٹیوٹ میں ایسے جراثیم کی کھیپ جنم لے چکی ہے جن کے تمام کمپیوٹر میں مدون ہوئے اور پھر مشینوں نے انھیں تیار (یا اسمبل) کیا۔ گزشتہ ایک برس میں گبسن نے ایسا طریقہ دریافت کرلیا کہ اس کی مدد سے بوتل میں خمیری خلیوں کے بغیر ڈی این اے کے ٹکڑے تخلیق کیے جا سکیں۔ گبسن کو یقین ہے کہ مستقبل میں جب ماہرین مصنوعی خلیے بڑی تعداد میں بنائیں گے، تو ممکن ہو جائے گا کہ نباتی ایندھن (بائیوفیول)، ادویہ اور دیگر صنعتی مصنوعات وسیع پیمانے پر تیار ہو سکیں۔ یوں کئی شعبوں میں ترقی کا دروازہ کھل جائے گا۔

مانیٹرنگ کا جدید طریق کار

قاعدہ یہ ہے کہ جب آپ کسی بھی ویب سائٹ کو کھولیں، تو وہ آپ کی پسند کی گئی چیزیں محفوظ کر لیتی ہے۔ یوں جب بھی آپ دوبارہ اس ویب سائٹ پر جائیں تو وہ آپ کی مخصوص پسند مدنظر رکھ کر تجاویز پیش کرتی ہے۔ اب کمپیوٹرماہرین جائزے کے اس عمل کو مزید جدید بنانا چاہتے ہیں۔ آج کل فیس بک کا چیف ٹیکنالوجی افسر، بریٹ ٹیلر یہی جدت پسند جائزہ (مانیٹرنگ) عمل اپنی ٹیم کے ساتھ ایجاد کرنے پر لگا ہوا ہے۔ اسے انھوں نے ’’معاشرتی اشاریہ‘‘  کا نام دیا۔اس عمل کا طریق کار کچھ یوں ہے کہ اب تقریباً ہر ویب سائٹ پر ’’لائک‘‘  یعنی پسند کے بٹن موجود ہیں۔ ان لائک بٹنوں سے حاصل کردہ ڈیٹا کے ذریعے وہ معلوم کرے گا کہ دنیائے انٹرنیٹ میں کن ویب سائٹس کو سب سے زیادہ لوگ کھولتے ہیں۔اس ’’معاشرتی اشاریہ‘‘ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایک ویب سائٹ پر جتنا بھی مواد دستیاب ہے، اس میں سے بہترین اْبھر کر سامنے آجاتا ہے۔کیونکہ مردوزن بہترین مواد ہی کو زیاہ ’’لائک‘‘ کرتے ہیں۔ چنانچہ انسان ایک ویب سائٹ پر پہنچ کر معیاری مواد ڈھونڈنے کی دقت و کوفت سے بچ جاتا ہے۔

سمارٹ ٹرانسفارمرز

آج کل دنیا کے کئی ممالک میں بجلی کا بحران ہے۔ پاکستانی تو اس مسئلہ سے خوب واقف ہیں کہ گزشتہ 4-5 برس سے لوڈشیڈنگ کے عذاب نے ان کی جان عذاب میں ڈال رکھی ہے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ کئی ممالک میں ہزاروں شہری انفرادی طور پر چھوٹے بجلی گھر قائم کر رہے ہیں۔ یہ بجلی گھر پانی، شمسی توانائی یا ہوائی طاقت سے کام کرتے اور بجلی بناتے ہیں۔ان چھوٹے بجلی گھروں کے ساتھ بھی ایک مسئلہ وابستہ ہے وہ یہ کہ ان میں بنی فاضل بجلی عموماً ضائع چلی جاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ چھوٹے بجلی گھروں میں بنی بجلی کو قومی گرڈ میں داخل کرنے کا کوئی آسان اور فوری طریق کار اب تک وضع نہیں ہوا۔ یہ نظام وضع کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ روایتی ٹرانسفارمر ہے۔سڑکوں اور بازاروں میں جابجا نظر آنے والے روایتی ٹرانسفارمر صرف اے سی  یعنی آلٹرنیٹنگ کرنٹ پر ہی کام کرتے ہیں۔ ڈی سی  یعنی ڈائریکٹ کرنٹ کے سلسلہ میں وہ بالکل بیکار ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر چھوٹے بجلی گھروں میں بجلی کی ڈی سی قسم جنم لیتی ہے۔ لہٰذا روایتی ٹرانسفارمروں کے ذریعے اْسے قومی گرڈ میں شامل کرنا بڑا پیچیدہ اور مہنگا نظام چاہتا ہے مگر یوں بہت سی بجلی ضائع ہو جاتی ہے۔یہی مسئلہ مدنظر رکھ کر امریکی نارتھ کیلی فورنیا یونیورسٹی کا محقق، پروفیسر ایلکس ہوانگ ایسا ٹرانسفارمر ایجاد کر رہا ہے جو اے سی اور ڈی سی بجلی کی دونوں اقسام پر کام کرے گا۔ اس کی تکمیل کے بعد چھوٹے بجلی گھر میں بنی بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنا یوں سہل ہوجائے گا جیسے ہم بہ سہولت ڈیجیٹل کیمرا کمپیوٹر سے منسلک کرتے ہیں۔ پروفیسر ایلکس کا ٹرانسفارمر جب بھی ایجاد ہوا، یقینا شعبہ توانائی میں انقلاب لے آئے گا۔ تب حکومتیں اس قابل ہوں گی کہ عام افراد سے بھی بجلی خرید سکیں۔ یوں عوام کو لوڈشیڈنگ سے نجات مل جائے گی۔

اشاروں سے کام کرنے والا انٹرفیس

تل ابیب کی ایک کمپنی، پرائم سینس کے محقق، الیگزنڈر شپنٹ نے ایسا حیرت انگیز تھری ڈی ویڑن تجرباتی طور پر ایجاد کرلیا ہے جس کی مدد سے محض اشاروں کے ذریعے کمپیوٹر چلتا ہے۔ گویا یہ ایجاد عام ہونے کے بعد مستقبل میں انسان محض ہاتھوں کی حرکات سے کمپیوٹر چلایا کریں گے۔اس تھری ڈی ویڑن ایجادمیں کمپیوٹر پر ۳ کیمرے نصب ہوتے ہیں۔ انہی کیمروں نے کمپیوٹر کو یہ صلاحیت عطا کر دی کہ وہ انسان کی طرح عمدہ نظر رکھ سکے۔ چنانچہ کمپیوٹر نہ صرف کمرے کے فرنیچر اور بازو میں تمیز کرتا، بلکہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ ہاتھوں کی حرکات کا مشاہدہ کرسکے۔واضح رہے کہ مائیکروسافٹ کارپوریشن بھی ایسا کمپیوٹر انٹرفیس ایجاد کرنے کی کوششوں میں ہے جو اشاروں کے ذریعے کام کرے گا۔ کمپنی نے الیگزنڈرشپنٹ سے رابطہ کیا ہے تاکہ اس کی صلاحیتوں سے بھی استفادہ کیا جاسکے۔

سرطان کی ماہیت اور علاج

ایک انسان اس وقت سرطان کا نشانہ بنتا ہے جب سرطانی خلیے مختلف جینیاتی و طبی خرابیوں سے شَہ پا کر اتنے طاقتور ہوجاتے ہیں کہ صحت مند خلیوں سے زیادہ تیزی سے نشوونما پائیں اور جلد دوگنے تگنے ہوجائیں۔اب اگر ڈاکٹر یا سائنس دان یہ جان لیں کہ ایک مریض میں کن جینیاتی و طبی خرابیوں کے باعث سرطان پیدا ہوا، تو انھیں ایسی ادویہ منتخب کرنے میں آسانی رہے گی جو نہ صرف اس موذی مرض کا مقابلہ کریں بلکہ اسے جڑ سے بھی اْکھاڑ پھینکیں۔یہی چشم کشا حقیقت مدنظر رکھ کر واشنگٹن یونیورسٹی کے جینوم انسٹیٹیوٹ میں ایک زبردست تحقیق جاری ہے۔ وہاں حال ہی میں ایسی مشین نصب ہوئی ہے جو دیگر مشینوں کے مقابلہ میں زیادہ تیزرفتاری کے ساتھ ڈی این اے پڑھ سکتی ہے۔ چنانچہ انسٹیٹیوٹ میں سرطان کے مختلف مریضوں سے حاصل کردہ بافتیں جمع کی جا رہی ہیں۔مدعا یہ ہے کہ دنیا بھر کے انسانوں میں جتنی بھی جینیاتی و طبی خرابیوں کے باعث سرطان جنم لیتا ہے، انھیں شناخت کر لیا جائے۔ ایک اندازے کے مطابق ان خرابیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ جب بھی یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا، سرطان کا علاج کرنے والا نیا طریق کار دریافت ہوجائے گا۔تب دنیا میں کہیں کوئی انسان سرطان کا شکار ہوا، تو مرض کی تمام خرابیاں جان کر ڈاکٹر علاج کریں گے۔ یوں سرطان جیسی بیماری کا مقابلہ کرنا آسان ہوجائے گا جو ہر سال لاکھوں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے۔

ٹھوس حالت والی بیٹریاں

شاید آپ نہ جانتے ہوں، بجلی سے چلنے والی کار میں سب سے مہنگا پرزہ بیٹری ہے۔ جی ہاں، اس کار میں لگنے والی بیٹریوں کی قیمت تقریباً ایک لاکھ ڈالر تک ہوتی ہے۔ مہنگی بیٹریوں کے باعث ہی بجلی کی کاریں کروڑ روپے سے اوپر میں آتی ہیں اور عام نہیں ہو رہیں۔مہنگی بیٹریوں کا مسئلہ سامنے رکھ کر ہی ایک امریکی کمپنی، ساکتی ۳ ایسی بیٹری بنانے کے لیے تجربات و تحقیق کر رہی ہے جو قیمت اور جسامت میں موجودہ بیٹریوں سے آدھی ہوگی۔ اس بیٹری کو کمپنی نے ٹھوس حالت والی بیٹری کا نام دیا ہے۔فی الوقت برقی کاروں میں لیتھیم آئن بیٹریاں لگتی ہیں۔ ان میں لگے مائع برق پاشیدے  بہت جلد آگ پکڑ لیتے ہیں۔ ان میں نصب، منفی برقی رے بھی تیزاب میں گھل جانے کا رجحان رکھتے ہیں۔ چنانچہ بیٹری کے دونوں اہم ترین حصوں کی حفاظت کے لیے خاص حفاظتی اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔مثال کے طور پر بیٹری ٹھنڈا رکھنے کے لیے خاص نظام لگایا جاتا ہے۔ یوں نہ صرف برق پاشیدوں کی عمر بڑھتی بلکہ بیٹری بھی جدت سے محفوظ رہتی ہے۔ مزیدبرآں ایک اور نظام بیٹری کو مکمل چارج نہیں ہونے دیتا، نیز ڈسچارجنگ سے بھی بچاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ سبھی اقدامات کرنے سے نہ صرف بیٹری کی لاگت بڑھتی بلکہ اْسے رکھنے کے لیے جگہ بھی زیادہ درکار ہوتی ہے۔ساکتی ۳ کی ٹھوس حالت بیٹریاں میں مائع برق پاشیدوں کے بجائے ایسے مواد (میٹریل) کی باریک تہہ لگے گی جو شدید حرارت میں بھی نہیں جلتا۔ یہ بیٹریاں لچکدار ہوں گی اور اس قابل کہ بلند درجہ حرارت بھی برداشت کرسکیں۔ گویا ان میں ایسا مواد استعمال کرنا ممکن ہوگا کہ اس میں دگنی تگنی توانائی سماسکے۔یہ ٹھوس حالت والی بیٹریاں چند سال بعد مارکیٹ میں آئیں گی، لیکن ان کے آتے ہی بجلی کی کاروں کے شعبہ میں انقلاب آجائے گا۔ تب یقینا ان کاروں کی قیمتیں گریں گی اور متوسط طبقہ بھی انھیں خرید سکے گا۔

کلائوڈ کمپیوٹنگ میں رازداری

آج کل افراد سے لے کر کمپنیاں تک اپنا بہت سا کمپیوٹری ڈیٹا کلائوڈ ہارڈڈسک میں رکھنے لگے ہیں۔ یہ ہارڈڈسک دراصل دْنیائے انٹرنیٹ میں موجود ہیں۔ ان کی سہولت ایم ایس این، گوگل، یاہو اور دیگر بڑی نیٹ کمپنیاں فراہم کرتی ہیں۔ عام لوگ خاص حد تک کا اپنا ڈیٹا مفت بھی رکھ سکتے ہیں۔ یہ عمل اصطلاحاً ’’کلائوڈکمپیوٹنگ‘‘ کہلاتا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ کلائوڈ ہارڈڈسک میں محفوظ ڈیٹا کو خفیہ رکھنا ممکن نہیں۔ چنانچہ جن کمپنیوں اور افراد کا مخفی ڈیٹا ان ڈسک میں رکھا ہو، وہ مسلسل اس خوف کا شکار رہتے ہیں کہ کوئی اْسے چرا نہ لے۔ اسی لیے کلائوڈکمپیوٹنگ مفت فراہم کرنے کے باوجود زیادہ مقبول نہیں ہوپائی۔ پھر لوگوں کو یہ ڈر بھی دامن گیر رہتا ہے کہ اگر کلائوڈ ہارڈڈسک خراب ہوگئی، تو ان کے قیمتی ڈیٹا کا کیا بنے گا؟یہی مسائل مدنظر رکھ کر امریکی کمپنی، آئی بی ایم کا محقق، کریگ گینٹری ایک طریق کار ’’ہم صورتی انکرپشن ایجاد کرنے میں جتا ہوا ہے۔ اس طریق کار میں پیچیدہ ریاضیاتی اصولوں کے ذریعہ ڈیٹا خفیہ بنا کر کلائوڈ ہارڈڈسک میں رکھا جائے گا۔فی الوقت یہ طریقہ خاصا سست اور اْسے عملی طور پر اپنانا بھی کٹھن مرحلہ ہے، تاہم کریگ اْسے تیزرفتار اور بہتر بنانے پر لگا ہوا ہے۔ اْسے اْمید ہے کہ اگلے 3  تا5 برس میں ہم صورتی انکریپشن کی بدولت کلائوڈہارڈڈسک میں ڈیٹا کو خفیہ رکھنا ممکن ہوجائے گا۔

کمپیوٹر کریش ہونے کا خاتمہ

ہمارا کمپیوٹر چلتے چلتے جام یا کریش ہو جائے، تو بڑی کوفت ہوتی ہے۔ لگتا ہے کہ دنیا اندھیر ہو گئی لیکن ذرا سوچیے، زندگی بچائو طبی آلات چلانے والے کمپیوٹر نظام اگر جام یا کریش ہوجائیں، تو کتنی بڑی جانی تباہی جنم لے سکتی ہے۔اسی خرابی کو مدنظر رکھ کر آسٹریلیا کے قومی تحقیقی مرکز برائے آئی ٹی  میں ماہرین نے ایسا طریق کار دریافت کیا ہے جو طبی اور دیگر اہم آلات چلانے والے کمپیوٹر نظاموں کو کبھی کریش نہیں ہونے دے گا۔ ان کی ٹیم کا سربراہ جون اینڈرونک ہے۔یہ محقق آپریٹنگ سسٹم کے سب سے اہم حصے، بنیاد  یا کرنیل کو اس طرح ڈیزائن کر رہے ہیں کہ کمپیوٹر کریش ہونے کا امکان ہی ختم ہوجائے۔ فی الوقت کمپیوٹر ماہرین عمل ’’تجربات و غلطیوں‘‘ کے ذریعے مستند اور جامع سافٹ وئیر تیار کرتے ہیں۔ اس دوران ماہرین ہر ایسی ممکنہ حالت سوچتے ہیں، جس میں کہ سافٹ وئیر خراب ہوسکے۔ پھر وہ خرابی کا سدباب کرنے کی خاطر سافٹ وئیر میں مطلوبہ تبدیلیاں کرتے اور اْسے مزید مضبوط بناتے ہیں۔اس کے برعکس آسٹریلوی قومی تحقیقی مرکز برائے آئی ٹی کے ماہرین عمل ’’رسمی تصدیق‘‘  کے ذریعے اپنا کام انجام دے رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ عام کمپیوٹر ماہرین اسے مؤثر نہیں سمجھتے لیکن اینڈرونک اور اس کی ٹیم نے اسی عمل کے ذریعے وہ کوڈ قابل شناخت بنا ڈالا جو آپریٹنگ سسٹم کے کرنیل کی جان ہوتا ہے۔اس کوڈ کی خاص بات یہ ہے کہ تمام پروگراموں کی ہدایت اسی سے گزر کر کمپیوٹر کے ہارڈوئیر تک پہنچتی ہے تاکہ انھیں انجام دیا جائے۔ لہٰذا اس کوڈ کو انتہائی مضبوط بنانے سے آپریٹنگ سسٹم کریش ہونے کا امکان تقریباً ختم ہوجائے گا۔ 

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By