GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  نےقدم نےمنزلیں
پڑھائی کیسے کریں؟


ایک مفکر کا قول ہے کہYou become great by doing small things in a great wayبہت ساری باتیں یا کام کیسے بھی کرنے کی بجائے گنتی کے کام ٹھیک ڈھنگ سے کرنا عقلمندی کی بات ہے۔پڑھائی کرنے کے معاملے میں بھی یہ بات صادق آتی ہے کہ بے ترتیب الجھن کے ساتھ ،ماں باپ ،یا اساتذہ کے دباؤ میں یا دکھانے کے لئے بہت سارا وقت پڑھائی کرنے کی بجائے صحیح طریقے سے تھوڑا سا وقت دیکر آپ زیادہ بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔کونسلنگ کے لئے آنے والے اکثر طلبہ کے سر پرست صاحبان اپنے بچوں سے ان کی پڑھائی کے متعلق غیر مطمئن رہتے ہیں۔زیادہ تر والدین کی شکایت ہوتی ہے کہ ان کے بچے یا بچی کے کئی دوست ہے جن کے ساتھ گھومنے یا باتیں کر نے میں وہ بہت سا وقت ضائع کر دیتا ہے ،ٹی وی ، موبائل ، انٹر نیٹ ،دن بھر کانوں میںایئر فون لگا کرگانے سنتے رہنا جیسے کام تعلیمی عمل میں اثر انداز ثابت ہو رہے ہیں۔وہیں بچوں کی یہ شکایت ہوتی ہے کہ ان کے والدین ان کو سمجھتے ہی نہیں۔اپنی مرضی ہم پر تھوپتے ہیں ،ہمیشہ پڑھائی کرو بس یہی رٹ لگائے رہتے ہیں۔ویسے یہ بات تو تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ آج کی موجودہ نسل کی تعلیم میں دلچسپی و توجہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔جس سے ٹیچرس و سر پر ست سبھی پریشان ہیں وہیں موجودہ نسل میں ذہانت کے اعتبار سے کافی بدلاؤ آئے ہیں۔نئی نسل کے بچوں کو موبائیل ،ٹی وی کی معلومات ،انٹر نیٹ نے نہایت وسعت والا بنا دیا ہے۔طلبہ اور ان کے سر پرستوں کے درمیان اس دوری جسے ہم بھی کہہ سکتے ہیں کو کسی ماہر تعلیمی کونسلر کے مشوروں سے دور کیا جا سکتا ہے ،پڑھائی کیسے کریں ؟یہ کوشش اسی کا ایک سلسلہ ہے۔

مشکل مضامین کا ڈر اور خوف

کچھ مضامین طلبہ کو ان کے دماغوں میں یا لا شعوری طور پر ہمارے ٹیچرس و بزرگوں کی جانب سے برسوںسے چلی آرہی ہے روایتی نفرت ،ڈر وخوف اور اکتاہٹ کی وجہ سے نہایت مشکل لگتے ہیں جبکہ حقیقتاً وہ اتنے مشکل نہیں ہیں ،اگر مان بھی لیا جائے کہ 30یا 40 سال قبل ہمارے کسی بزرگ یا ہمارے ٹیچرس کو ان کے زمانے میں ریاضی و انگریزی مشکل لگتے تھے۔تو آج بھی نئی نسل کے طلبہ کو یہ مضامین اتنے ہی مشکل لگتے ہوں یہ کیسے ممکن ہے۔آج زیادہ تر اردو اسکولوں میں اردو،انگریزی اور ریاضی ان تین مضامین کے نہایت مشکل ہونے کا خوف ان مضامین کے ٹیچرس کی جانب سے ہی طلبہ کے ساتھ ساتھ سر پرستوں میں بھی بڑی کامیابی کے ساتھ پیدا کیا جا چکا ہے۔یہ خوف پیدا کرنے کے پیچھے ایجو کیشنل مافیا (غنڈوں) کی وہ ٹولی کار فرما ہے جو ہفتہ وصولی کے طور پر طلبہ و سر پرستوں سے ٹیوشن کی فیس چاہتے ہیں۔ڈر وخوف کی اس نفسیات سے نہایت آسانی سے نکلا جا سکتا ہے۔اس کے لئے ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان مضامین کو پڑھنے ،یاد کرنے اور مشق کرنے کے طریقوں کو سمجھ لیا جائے۔خرگوش،کبوتر یا شتر مرغ خطرات کے موقعوں پر صرف اس لئے آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ خطرے کو محسوس کرتے ہیں اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں یا ریت میں منہ چھپا لیتے ہیں جبکہ اگر خطرات کے موقعوں پر وہ اپنے بچاؤ کی کوئی کوشش کرے تو ممکن ہے پچاس فیصد موقعوں پر وہ بچ جائیں گے۔اس لئے طلبہ و سر پرست صاحبان اپنے دل و دماغ سے ان مضامین کا ڈر و خوف دور کریں اور یہ معلومات حاصل کریں کہ ان مضامین کی پڑھائی کا صحیح طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔جیسے ریاضی کی پڑھائی کے لئے اس کلاس سے پہلے کی تمام کلاسوں میں ریاضی میں پڑھائے گئے ضابطے ،اصول وحسابی عمل کے طریقے یا د ہوں۔پہاڑے یا دہوں ،اور ریاضی کے ضابطوں ،سوالات کے حل ، جو میٹری کے مسئلے و اشکال کو زبانی یاد کرنے کی بجائے انہیں لکھ کر بار بار مشق کر کے پڑھنا چاہئے۔

چھوٹا کام بڑا نتیجہ

چھوٹی جماعتوں سے ہی ان مضامین یعنی ریاضی ،اردو ،اور انگلش کے کوئز،سوالات جوابات ،متبادل جوابات والے سوالات اردو و انگلش میں 2 یا3 منٹ کی تقریر کے مقابلے ،ان زبانوں میں پانچ سے دس جملے تحریر کرنے کی مشق ،عام بول چال میں روزانہ ایک نیا جملہ اسی طرح روزانہ پانچ نئے الفاظ ڈکشنری کی مدد سے اردو اور انگلش کے سیکھ کر ان مشکل و خوفناک سمجھی جانے والی زبانوں پر عبورحاصل کیا جا سکتا ہے۔

روزانہ پڑھائی کا ٹائم ٹیبل:

جب اور جودل میں آیا وہ مضمون اور بے ترتیب وقت کے بجائے روزانہ ٹائم ٹیبل بنا کر اپنی پڑھائی کو اثر انداز اور نتیجہ خیز بنا یا جا سکتا ہے۔اسکول کے دنوں اور چھٹی کے دن کا ٹائم ٹیبل الگ الگ ہو۔روزانہ زیادہ سے زیادہ چھ گھنٹے کی نیند ،اسکول کا وقت ،نہانا ،کھانا ،ناشتہ ،نماز، اسطرح کے ضروری کاموں کے لئے وقت کے علاوہ ورزش و کھیل کے لئے روزانہ ایک گھنٹہ ،اخبار و ٹی وی پر معلوماتی پروگرام و تبصروں کے لئے ایک گھنٹہ، روزانہ کے ہوم ورک و لکھائی کے کام کے لئے دو گھنٹے ،خود آموزی و مشق جس میں پچھلے اسباق کو دہرا نا کرنے کے لئے دو گھنٹے اس طرح اپنے دن بھر کے چوبیس گھنٹوں کی تقسیم اپنی ضرورت و جماعت کے حساب سے کی جانی چاہئے۔امتحان سے ایک ہفتے پہلے یا چھٹیوں میں پڑھائی کر یں گے جیسی سوچ والے کبھی پڑھ نہیں سکتے اسکول میں روزانہ پڑھائے گئے مضامین کے ہوم ورک انہیں یاد کرنا اور کم از کم ہر ہفتے ایک بار دہرانے کا کام سال بھر میں مسلسل کرنا چاہئے۔جو مضامین آپکو زیادہ مشکل محسوس ہوتے ہیں انہیں اپنے ٹائم ٹیبل میں زیادہ وقت دیں۔بغیر ٹائم ٹیبل و پلاننگ کے کبھی بھی کوئی بھی مضمون یا صرف اپنی پسند کے مضمون کو بار بار اور زیادہ وقت دینا بھی صحیح طریقہ نہیں ہے۔ٹائم ٹیبل بنانے میں آ پ اپنے ٹیچرس سے مدد اور مشورے لے سکتے ہیں۔  

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By