GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
لومیرا کشمیر پھر خوشحال ہے


لو میرا کشمیر پھر خوشحال ہے

یہ ہے وہ دلکش و دل خوش کن جملہ جو ہم اہا لیانِ کشمیر کو بالعموم اور اپنے ’مہر بان ترجمان‘ ریڈیو کشمیر سننے والوں کو بالخصوص ہرروز ایک مخصوص اسٹائل میں سننا بھی پڑتا ہے اور سہنا بھی ۔ اس جملے کے اندر ایسا کیا جا دوئی اثر ہے کہ سماعت کر تے ہی بے اختیار ہنسی کا دورہ ہمار استقبال کر تا ہے ۔ ہم اگر یہ جملہ سنتے نہیں تو ہنستے بھی نہیں کیونکہ ہنسنا اُسی کو پڑتاہے جو سنتاہے اور اگر ہم بتکرار سننے کے عادی نہ ہوتے تو بار بار کہاں ہنستے …؟یہ ہنسنا اتنا آسان نہیں جتنا آسان ہے سننا ۔

اور جب ہم کا ن کھول کر سنتے ہیں کہ ہم اور آ پ ’خوشحال‘ ہیں جی تو بدحالی کی کیا تعریف کر یں اسی شش وپنج میں پڑ کر ہم اکثراپنی پھٹی پرانی چھ فٹ لمبی چادر کودیکھتے ہی رہ جا تے ہیں ۔ دل تھا م کر سنئے اس چادر میں جا بجا بڑے بڑے سوراخوں کا روڑ میپ بنا ہوا ہے… سب سامعین جا نتے ہیںبے رحم وقت اپنے غیروں کو نہ دیکھتی ہوئی اندھی تلوار ، مسل شدہ پھولوں کی اُڑتی بکھر تی خوشبو، بے نوا انسانی پیکر، لمبے چوڑے ترچھے ناخن … تو کیا ریڈیوہمارا ترجمانی کر تاہے جب یہ بار بار چیختا چلا تاہے لو میرا کشمیر پھر خوشحال ہے ؟

ہمارے لئے دو ہی راستے موجود ہیں :یا تو ہم سنی اَن سنی کردیں یا چپ چاپ سن لیں اور مجبوراً سہہ لیں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ریڈیو کوہی جھوٹ کا نقارچی سمجھ کر اپنی راہ لیں لیکن ہم ایسا کرنہیں سکتے کیونکہ ایسی صورت میں پھر ہمارے پاس بچے گا ہی کیا؟ اس لئے ہمارے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں کہ ہم سن بھی لیں اورسہہ بھی لیں ۔یہ ریڈیو بھی عجب شئے ہے ۔ یوں ایک چھوٹی سی بات سمجھ نہیں پاتا ۔ خوشی کوہندسوں میں اگر تولا جائے تو ہر ننانوے کے بعد سو کی پیاس باقی رہتی ہے اور سومل جائے تو پیاس بجھتی بھی نہیں ۔ بہرہ ہونا وبالِ جان بھی نہیں ایک بہرے نے بارہ سال کے بعد سناکہ بڈشاہ اللہ کو پیارا ہوگیا ۔اتنا ہردلعزیز بادشاہ تھا بڈشاہ کہ بے چارہ بہرہ اگر بارہ سال پہلے یہ دلسوز خبرسنتا تو اگلے بارہ برس ہنسنا قہقہ مارنااس کے لئے مشکل ہوتا ۔ کل کی ہی بات ہے میں فیشنل ڈیلی پڑھ رہاتھا۔ اس میں اپنے خوشحال کشمیر سے متعلق خبر بھی تھا اور تبصرہ بھی !!

خوشحالی سے متعلق خبر یوں ہے:

دہلی کی عدالت عالیہ نے اپنے ایک فیصلے میں سری نگر کے دو نوجوانوںکو لاج پت نگر بم دھماکہ میں باعزت بری کردیا جو17سال پہلے مئی 1996ء میں گرفتار کئے گئے تھے ۔سری نگر کے ایک روزنامے میں شہر خا ص کے محلہ رعناواری کے ایک 76سالہ معمرشخص کی کہانی یہ ہے کہ اس کا بیٹا 17سال پہلے تجارت کے سلسلے میں نیپال گیا ہوا تھا ۔وہاں اسے دہلی کی پولیس نے گرفتار کر کے سرکاری مہمان بنایا ۔ 17سال تک وہ جیل کی مہمانی صعوبتوں اور مشکلوں کی صورت میںسہتارہا۔ 17سال میں اس معمر باپ کامال تجارت ہی قصہ ٔ پا رینہ نہ ہو ابلکہ اس کا وجود بھی زندہ لاش بن کر گو یا زمین بوس ہوا ۔ بیٹے کو نا کر دہ گناہ کی سزا ملی اور وہ سزا  ئے موت کے خلاف عدالت عالیہ میں انصاف طلبی کی دہا ئیاں دیتارہا۔ انصاف کے کٹہر ے میںمقدمہ حسب دستور طول کھینچتا رہااور کم نصیب پا ب کی ساری رہی سہی پو نجی پگھلتے برف کی مانند ختم ہوتی رہی ۔ جیتا جاگتا ایک خوشحال گھرانہ تباہی کے دہانے پر آگیا ۔ 17سال بعد عدالت عالیہ نے عدل گستری کی قبر پر لا ت مارکر اپنا فیصلہ سنایا لڑکا ’’بے گناہ بے قصور‘‘ ہے ۔ خوشحالی کی ایک تصویر!!

خوشحالی کی ایک اور اڑتی خبر سری نگر کے ہی ایک مؤقر روزنامے میں آج ہی چھپی ہے ۔ گیس کنکشن کرانے کی خاطر ایک معمر شخص کو پورے سات دن گیس ایجنسی کے آفس کے باہر صبح تا شام لمبی قطار میں کھڑا رہ کر روز شام کو ناکام ونامراد گھرلوٹنا پڑا۔ آٹھویں دن وہ معمر شخص گیس ایجنسی کے باہر لوگوں کی لمبی قطار میں کھڑا اپنی ’خوشحالی اور فارغ البا لی ‘ کا سنہرا سپنا آ نکھوں میں سجا ئے ’’ گیس کاغذات کا نا مۂ اعمال ‘ ہاتھ میں لئے دفعتا کا رِ جہا ں کو چھو ڑ کردم توڑبیٹھا۔ اللہ اسے جنت نصیب فرمائے۔بے حس سماج اور بے بس بستی میں چوہوں کی تعداد انسانوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے ۔ چوہے سیمنٹ لوہے کے بنے پکے مکانوں میں عموماً گھستے ہی نہیں، نہ دراندازی کا جھنجٹ اٹھا تے ہیں مگرغریب کا اناج چوری چکاری سے لوٹتے رہتے ہیں ۔ کنکر یٹ بستی میں کوئی حکمران نہیں ، سب ڈاکو لٹیرے ہیں، سب رنگے سیار ہیں ،قاتل ہیں ، انصاف کا گلا دبا کر آ رام سے جینے والے ہیں۔ یہاںڈاکو کسی بھی بھیس میں ملتے ہیں۔ لباس کا کوئی بھید بھائو نہیں ۔ سنگدل بستی میں سوز وگداز والی اذانیں بھی ہوتی ہیں ، دستار بھی چڑھتے اترتے ہیں ۔ جس کا دستار اتارا جا ئے اس کی کی بات کیا کر یں ،دل ہی دکھ جا ئے گا ۔ دیکھا یہ جا رہا ہے کہ دستار چڑھانے والے کا نہ ہی اس سرکا جس پر دستارچڑھایا جائے، کی ڈکشنری میںخوف خدا یا حبِ انسانیت کا کو ئی آ دھا ادھورالفظ بھی موجود ہو تاہے ۔ شہرت کے بھکاری اورپیٹ کے پجاری ہیں سب ……جناب یہ کیا بستی ہے کہ گلی کوچوں میں مچھلیاں سڑتی ہیں،چرخہ شریف عورتوں کا محافظ ہے ،بستی میں ہزاروں گلفامی چہرے جھریوں کی دھار پر چڑھتے چڑھتے خراماں خراماں پت جڑ کی دہلیز پر آگئے مگر طلب گار ندارد۔ روز وشب کا یہ ظالمانہ سلسلہ پورے آب وتاب کے ساتھ رو بہ عروج ہے ۔ اتنے میں ایک مدھر سی لہر دار آوازکچھ اس طرح کانوں سے ٹکرائے کہ جھنجھناہٹ سی محسو س ہو تو حساس ذہن سننے والا اپناما تھا کیو ں نہ پیٹے ۔ یہ صوتی لہر جب جھوٹ کا پھریرا لہراتے ہو ئے کہتی ہے ’’لو میرا کشمیر پھر خوشحال ہے ‘‘ تو جی چا ہتا ہے کہ اپنے کپڑ ے پھا ڑ ڈالوںلیکن سوچ کر ٹھہر تا ہو ں بھئی یہ تو اندھوں کے شہر میں آئینہ بیچنا ہو ا۔

بھئی ریڈیو جی !

تیری آواز سن کے دل دہل اٹھتاہے ۔ روح کا نپ اٹھتی ہے، دل ِ وجود لرزتا ہے!میں تم سے پوچھنا چاہوں گاکیا اس بستی میں تمہیں وہ گریجویٹ (اَ ن گنت تعداد میں،ٹیکنیکل گریجویٹ ، پوسٹ گریجویٹ ، انجینئر ، ڈاکٹر نظر نہیں آتے جو روزگار کی تلاش میں عمر کی ناپسندیدہ سرحد کے اُس پار پہنچ چکے ہیں یا پہنچ رہے ہیں جہاں سے شاید سنگباز وں کا فورم ہی اُن کا اپنی صفوں مٰن خندہ پیشانی سے استقبال کرسکتا ہے ۔اُن کی خوشحالی پر تم صدائے جرس دیتے تو شاید تمہاری آواز صدابہ صحرا بنتی ۔ ’’خوشحالی‘‘ ہماری کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ کتنے ماں باپ ہیں یہاں جن کے بیٹے سالہاسال سے  جرم بے گناہی کی پا داش میں پابند سلاسل ہیں ۔یہ بات میں نہیں ملک کی بہت ساری سیاسی دیش بھکت جماعتوں کے نیتا جی بھی نپی تلی زبان میں کہہ رہے ہیں ۔بڑھاپے کی ہلیز پر کشاں کشاں …کتنے عمر رسیدہ مرد ، عورتیں، اپنے گمشدہ بچوں اور عزیزوں کی گھر واپسی کے نہ ختم ہو نے والے انتطار میںتڑ پ تڑ پ کردَم توڑ رہے ہیں  آ ہیں بھر رہے ہیں،سسک رہے ہیں، بلک رہے ہیں۔ ہرروز ان کی مڈبھیڑ بے زبان لوگوں ، گونگے ارمان،بہرے حاکموں ،اندھے قانون سے ہو تی ہے۔۔۔ یہی تو وہ معجون مرکب ہے جس کا  برانڈنام ہے امن کی نیلم پر ی اور شانت بستی ہے۔

 کچھ بھی مگرخدا کے لئے تم اے صوت وصدا کے مالک! اس بستی کو خوشحال مت کہو یہ بستی تڑپ رہی ہے آواز کے لئے ، اگر ہمت ہے توتم اسے آواز کا سہارا دے دو ۔  اس کی صدائے بازگشت بنو۔اتنا تو معلوم ہے مجھے کہ تم اپنا ریموٹ آپ نہیں ۔ تمہارا ریموٹ کہیں اور ہے لیکن ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ اس بے زبان بستی کی کوئی اور ’’آواز ‘‘ بھی نہیں ۔ سوچتا ہوں میں اگر اسے آواز نہ ملے تو بے آواز مرجائے گی یہ بستی ۔ایک تو وہ ہیں جو پتہ نہیں کیا ہیں ۔ ایک تو یہ ہیں ۔۔۔ انسان تو ہیں نہیں ۔۔۔۔ کوئی کوٹ پتلون ٹائی پہننے سے بھلا انسان ہوتاہے کیا ؟مورنی کی چال ، گدھ کی ڈھال ،کتّے کی دُم، کوے کی ٹائو، لومڑی کی چالا کی ۔ یہ سارے شرف  بستی کے مخلوق میں ہوں توبنتاہے اشرف المخلوقات ۔سارا شہرایسے چند جانوروں کی جھرمٹ میں پھنس جائے تو خوشحالی کہاں ؟

میرے ریڈیوجی !یوں میرا آپ سے یہ سوال برحق ہے ۔میں دیش کے کونے کونے میں سالہاسال سے پیٹ کی تپسیا میں مسافرت کرچکاہوں ۔ملک کا کوئی کونہ نہیں جہاں تم نہیں لیکن ایسا کیا ہے کہ بنگالی ریڈیو پر آپ نے کبھی نہ بولا:لو میرا بنگال پھرخوشحال ہے ۔بہار میں نہیں بولا :لو میرا بہارپھر خوشحال ہے ۔اُڑیسہ میں نہیں بولا :لو میرا اُڑیسہ پھر خوشحال ہے ۔حتیٰ کہ خوشحالی تمہیں ’’خوشحال گجرات‘‘ میں بھی نظر نہ آئی جو خوشحالی تمہیں یہاں اس زمین بے آ ئین میں اپنی ہی بنا ئی ہو ئی دوربین کے ذریعے نظر آتی ہے اور وہ بھی کھنڈرات میں ،اجڑے ہوئے مکانوں میں ، بے نام اور با نام قبروں مٰن ، انسانی حقو ق کی بدترین پا ما لیوں میں، افسپاکی حاکمیت اور کشمیریوں کی محکو میت میںاور وہاںجہاں مکین سوئے پڑے ہیں ، جہاں بلبل چہکتے نہیں ، جہاں چڑیوں نے چہچہانا بند کیا ہواہے۔جہاں لوگ چلتے ہیں بس بے منزل ۔۔۔وہ کون سی عینک ہے جوتم نے لگارکھی ہے کہ تمیں میری بدحالی میں کچھ نظر نہیں آتا؟گر تمہیں نظر آتاہے کچھ تو ’’خوشحال کشمیر"

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By