GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
وطنہے تقسیم درتقسیم کا میدان


آدم سے لے کر تا ایں دم ’’اختلاف‘‘ نے وہ کرشمے دکھائے ہیں کہ ہر دور میں فتنوں نے سراُٹھائے ہیں ۔ اختلاف ِ مزاج وافتادکی بدولت ہابیل وقابیل کے زما نے سے انسان آپس میں لڑ مر رہے ہیں۔اگر ہم حریت دھڑوں کو دیکھیں تو بغیر کو ئی چشمہ پہنے دکھا ئی دے گا کہ ان کے درمیان اختلاف ونزاع کے جلوے ہر سُو موجود ہیں ۔ حریت (ع) اور حریت (گ) کے لیڈروں کے بیانوں سے اب بات صاف عیاں ہوچکی ہے کہ حریت کانفرنس آ ر پا ر دو کشمیروں کی طرح منقسم ہو نے کے لئے ہی جنم لے چکی ہے ۔جو سیاسی جماعتیں ، جو سیاسی قیادت مل کے اس گیت کو گاتے تھے   ؎

 زندگی کے ساز پر مل کے گیت گائیں گے

یہ زندگی ہے قوم کی ہم قوم پر لُٹا ئیں گے

آج وہی سیاسی قیادت ایک دوسرے کی بات ماننے جا ننے یا سننے کے لئے دور ایک دوسرے کا احترام کرنے کے لئے تیار نہیں اور آج وہی سیاسی یا ر باش ایک دوسرے کو آزادی پسند کہنے کے بجائے سخت گیر علیحدگی پسند اوراعتدال پسند چہیتوںکے نرالے اور ذرا زیادہ دم دار ناموں سے ایک دوسرے کو پکارتے ہیں ۔ جن پارٹیوں اور لیڈروں نے کشمیرکوآزادی دلانے کی خاطر گیارہ جماعتی تحریک حریت کشمیربنائی تھی اس کو بہت جلد نظر بدلگ گئی، وہ بھی پھولوں کے چمن میںکانٹوں کے  پجاریوں کو دیکھ کر رفوچکر ہو گئی ۔ شکر اس کا کہ دھڑوں میںتقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف ما نند شمالی اتحاد اور جنوبی اتحاد کا روپ دھارن نہ کرگئی ۔ بھلے ہی حریت کانفرنس کا عشق وعاشقی بھی سوؤیت یو نین کی طرح ٹوٹ پھوٹ گئی لیکن یہ پھر بھی باگمتی کے کنبے کی طرح اپنا راشن پا رہی ہے … ہمارا عشق بھی نرالا نفرت بھی عجب ہے…میری بدحال نگری ، بدنصیب وادی میں جنگل میں منگل بن کر جوبھی آیا ،تقسیم در تقسیم کرنے کا ہنگامہ اپنے پیچھے چھوڑ کر چلا گیا۔ ایک قدآ ور لیڈر نے قوم کو کیا اپنے خا نوادے کو بھی  تقسیم کر نے کا چمتکار دکھا یا ، دو ملکوں کو تا قیامت افتراق وانتشار کے خا ر زار میں الجھا یا کہ آ ج ایٹم بم بھی اس الجھاؤ کو سلجھا نے میں سوئی کی چبھن ثابت ہو رہے ہیں ۔ وہ تھا بڑا آ فت کا پر کالہ کہ پہلے محاذ کے نام پر راج کیا پھر دل بدلی کر کے اکارڈ کے تخت پر سلطان کشمیر کا تاج پہنا ۔ یہ کام اختلاف کی لکشمی سے نبن پڑا ۔ اتحاد ہو تا تو عمر بھر ایک ہی من وسلویٰ پر گزارہ چلا نا پڑ تا… یہاں دائیں بائیں  جہا ں نظر دوڑاؤ یا آگے پیچھے پر نظر مارو بس تقسیم در تقسیم کی اچھی خاصی تجارت ملے گی ۔ اس بدنصیب وادی کے بیشتر حکمران ، لیڈران اور سیاستدان کئی دہائیوں سے سیدھے سادھے لوگوں کو تقسیم در تقسیم کرتے چلے آئے ہیں اور لوگ بے چارے کیا کریں ،وہ خلوص نیت سے یہ تقسیم ہو تے چلے جا رہے ہیں ۔ لا کھ ٹکے کی بات بولوں…میری وادی میں روز نت نئے ہنگامے ، اختلا فی سیاست ومسالک کے ہنگامے ہر چیز میں مزا ڈال رہے ہیں ۔ یہ مفت کا دھنداکرنے والوں اورکروانے والوں کی کئی نئی نسلیں اب وجود میں آئی ہیں، وہ بھی خوب تقسیم در تقسیم کے ہنگاموں میں جی رہی ہیں ۔ کس کس تنازعے اور ہنگامے کاذکر کروں ؟وادیٔ کشمیر کو شیر بکرا میں تقسیم کرنے کا ہنگامہ ،1947ء کاپنگا ، مسلم کانفرنس کو تقسیم  کر کے این سی جماعت کی تخلیق کا ہنگامہ ،محاذ رائے شماری کو اکارڈ میں بدلنے کا کرشمہ، شیربکرا لڑا ئی کا ڈرامہ ،علیحدگی پسند جماعتوں کی ڈیڑ ھ اینٹ مسجدیں تعمیر کر نے کی میچ فکسنگ، لاتعداد سیاسی جماعتیں بناکر انہیں بے شمار گروپوں میں بانٹنے کا سلسلہ ، لیڈروں کے لشکر در لشکر پیدا کر کے ان کو باہم دگر دھینگا مشتی کے چکر میں پھا نسنے کا منافع بخش کاروبار،مسلکی بنیادوں پر ایک ہی امت واحدہ کو ملت متفرقہ میں بدلنے کا کرنے کے چمتکار، شعر وادب کے تاجروںاور زبان ِ اردو اور کشمیری کے نقلی مجاوروں کی کرشمہ سازیاں ، تاجرانجمنوں کی تقسیم کاری کے پھندے … میں کیا کیا بتاؤں ، کیا کیاگناؤ ں۔ یہ کل یُگ ہے ، زمانۂ اخیر ہے کہ بیٹا باپ سے جدا، بھائی بھائی سے الگ ، بہن بھائی سے دور ، ماں بیٹی سے  دست بگریباں، دوست دوست نا رہا پیا ر پیار نا رہا کی دہا ئیاں  

نیا کشمیر کے نام پر ،ماڈل کشمیر کے نام پر ، خوشحال کشمیر کے عنوان سے ، آ زاد کشمیر کے ٹایٹل پہ ،اٹونامی کے نعرے پر ، اب متحدہ کشمیر کی سر تال پہ، تعمیر کشمیر کے نا م پر ،صحت مند کشمیر کے خواب میں ،سیلف رول کے نام پر ، روڑ میپ اور فارمولوں کے عنوان سے تقسیم در تقسیم کرنے کے ہنگامے، پاکستان کے نام پر ،لحاق ہندوستان کے نام پر ،مخبر کے نام پر ، تحریک پسندوتحریک دشمن کے نام پر تقسیم کرنے کے ہنگامے ، سبز رنگ رومال کے نام پر ،کوہستانی نمک کے نام پر ، حون عزت میون عزت 370کے نام پر پر تقسیم کے ہنگامے ۔

بدنصیب وادی کی گلی گلی ، کوچہ کوچہ ، شہر و دیہات اور ہر ایک ایک گھر کو تقسیم کرنے کے ہنگامے ۔ آج  اکیسویں صدی میں بھی تقسیم در تقسیم کا نیا ہنگامہ یعنی سخت گیر اور اعتدال پسند کا ہنگامہ کھڑا کیا جارہاہے ۔یعنی اس بدنصیب وادی کے ڈیڑھ کروڑ مظلوم وبے بس غلام لوگوں کو تقسیم کرنے کے ہنگامے ،وادی کے بیشتر ستم شعار لیڈروں ، سیاستدانوں،مذہبی پیشوائوں نے وادی کے بے چارے غلام لوگوں کا کچومر نکال کرتقسیم درتقسیم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور تقسیم کرنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیا  ؎

شہر بھی چھوڑا یار بھی بچھڑے ،دل کو سو آزار ملے

 کالی مٹی ساتھی اپنی بچھڑے برگ وبار ملے

ستم ظریفی یہ ہے کہ ان بیشتر لیڈروں نے اپنے ساتھ یہاں کے لوگوں کو بھی تقسیم در تقسیم کردیا۔ہرایک جماعت کے لیڈر کی اپنی اپنی ڈفلی ، اپنا اپنا راگ ہے ۔1947ء سے ہی یہ اس قوم کی بدنصیبی رہی ہے کہ رہبروں نے اس قوم کو تقسیم در تقسیم کرکے اس کا ستیاناس کیا اور اس بدنصیب غلام قوم کو دھوکے پر دھوکے دیتے رہے او ردے رہے ہیں اور اس بدنصیب قوم کی سودا بازی کرتے آئے ہیں اور کررہے ہیں ۔ ۱۹۷۴ء سے ہمارے بیشتر تقسیم نواز لیڈروں سے خیر نہیں شر ہی شر بے چارے کشمیری دیکھتے آئے ہیں ، ان سے خیر کی کوئی اُمید نہیں ،شر ہی ملے گا مفت بھی اور دام پر بھی۔یہ دو چار برس کی بات نہیں یہ 1947ء سے آج تک کا قصۂ طولا نی ہے ۔ اس اکیسویں صدی میں بھی اس غلام قوم کو یہ پسند اور وہ پسند کے نام پر تقسیم درتقسیم کرنے کا ایک اور تقسیم کا ہنگامہ کھڑا کیا جارہاہے ۔ …وادی کے دردمند دل رکھنے والے لوگ پریشان ہیں کہ یہ کیا غضب ہو رہا ہے۔ واللہ کچھ اور نہیں ہورہا،بس قوم کو تقسیم درتقسیم کرنے کی فیلٹریاں اور کا رخا نے جا بجا لگ رہے ہیں ۔ ان کارخانوں کا  خام مال کبھی ادھر سے اور کبھی اُدھر سے آتا ہے اورہم جا نے انجانے اس کے خریدار بنتے پھرتے ہیں اور اسے فنشڈ پروڈکٹ میں بدل کرخود ہی اونچے داموں خر ید کر اپنے گھروں کو ویران اور قبرستانوں کو آ باد کرر ہے ہیں ۔ واہ رے ہماری سادگی

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By