GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
پروفیسر عبدالاحدوانی مرحوم
اُونچا دماغ عالی ضمیر روشن چراغ تھا

یہ جیسے کل پرسوںکی بات ہو کہ ہمارے ایک بے لوث قائد اور اتحاد ملت کے داعی مرحوم مولانا شوکت احمد شاہ سری نگر کے ایک ہوٹل میں’’ تحریک آزادی میں دانشوروں کے رول ‘‘موضوع پر بات کررہے تھے۔ انہوں نے چند اہم باتیںکیں جو آج بھی میرے ذہن پر نقش ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ دانشور اور علماء قوموں کا دماغ ہوا کرتے ہیں۔ یہ انسانی معاشروں کا ایک ایسا جزو ہوتے ہیں کہ اگر یہ صحیح رہے تومعاشرے کا پورا وجود درست ،اور خدانخواستہ ان میں کوئی خرابی پیدا ہو تو پورے معاشرے کا تباہ ہونا طے ہوجاتا ہے۔ دانشور اور عام لوگوں میں فرق بس یہی ہے اور اس طبقہ کو اسی لئے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ دانشور طبقہ ایک POWER HOUSE کی مانندہوتا ہے، اس طبقہ میں اگر کوئی نقص ہوگا تو سماج میں اسی مناسبت سے تاریکی ہوگی۔شوکت صاحب کا کہنا تھا کہ ہر معاشرے اور ہر سوسائیٹی میں اہل علم طبقے کو عزت و قار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ عام انسانوں کی ان علماء و دانشوروں پر نظریں مرکوز ہوتی ہیں۔انہیں معلوم ہوتا ہے کہ حقائق کی گر ہ کشائی، مصائب و آلام اور مشکلات وغیرہ کے حل کے لئے اگر کوئی اُن کی صحیح راہنمائی کرسکتا ہے تو وہ یہی دانشور طبقہ ہے۔اس لحاظ سے یہ طبقہ بہت ہی انمول اور طاقتور ہوتا ہے۔جس قوم،جس سماج اور جس معاشرے کے دانشور جتنے زیادہ حساس بن کر قوم کی رہنمائی کرتے رہیں وہ قوم اتنی ہی مطمئن اور صحیح سمت میں رواںدواں رہتی ہے۔اگر خدانخواستہ اس طبقے میں کوئی کمزوری یا نقص آجائے تو وہ اُس قوم کے لئے تباہی اور بربادی مقدرہوتی ہے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ ہمارے کشمیری دانشوروں کو اپنی ذمہ داری کا احساس عطا کرے اور انہیں ہمیں صحیح سمت دکھانے کی توفیق دے اور اس قوم کو بھی توفیق دے کہ اس اہم ترین طبقے کی قدر کرنا سیکھیں نہ کہ اسے ختم کرنے کے ہی درپے ہوں‘‘۔مجھے یاد ہے مولانا شوکت احمد شاہ مرحوم یہ باتیں ایک عظیم دانشور پروفیسر عبدالاحد وانی مرحوم کی تحریکی خدمات کو یاد کرنے کی ایک محفل میں کررہے تھے۔ شومئی تقدیر…مولانا قاتلوں کا نشانہ بن گئے اور اس تقریر کے محض چند ماہ بعد ہی راہی عدم کو سدھار گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ عظیم لوگ عظیم ہی ہوا کرتے ہیں۔ ان کی یادیں بھی عظیم الشان ہوا کرتی ہیں اور اُن کی سوغاتیں بھی نایاب ہوتی ہیں۔ میرا اپنا تجربہ رہا ہے کہ جب بھی ہم کسی بے لوث متنفس کویاد کرتے ہیں اور اُس کی یاد میں کوئی تقریب منعقد کرتے ہیں تو یہ دراصل اُس انسان کی زندگی کی دلیل ہوا کرتا ہے جو عملاً ہم سے جدا ہونے کے باوجود ہم میں اپنے خیالات ،اپنی سوچ اور اپنی صلاحیتوں کے بل پر زندہ و موجود رہتے ہیں۔یہ حق ہے کہ قرآن مقدس کی آیات بینات شہیدوں کی زندگی کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں، اگرچہ یہ وہ زندگی ہوا کرتے ہیں کہ جس کا ہم ادراک نہیں رکھتے ،وہیں پرحیات جاوداں پا نے والوں کے یہ تذکرے ،ان کی یادوں سے مزّین مباحثے، رواں دواں زندگی کی گہماگہمی میں اِن گزرے ہوئوں کی تلخ و شیریں یادیں ،سب اُن کی زندگی ہی کی علامتیں ہو تی ہیں۔ مولا نا نے اس موقع پر مزید کہا کہ دانشور لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ لیڈر کرتے ہیں۔ یہی بات ہمارے بے لوث دانشو اور بے ریا قائد پروفیسر عبدالاحد وانی پر بھی صادق آتی ہے۔

 کہتے ہیں کسی قوم کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس قوم کے دانشور کس انداز اور کس فکر میں محو ہیں۔ یوں بھی قوموں کے عروج و زوال میں دانشوروں کا براہ راست ہاتھ رہتاہے۔ کوئی بھی قوم اتنی ہی کامیاب ہوگی جتنے اس قوم کے دانشور زیادہ متحرک اور در پیش مسائل کا ادراک اور انہیں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دانش کیا ہے؟ عقل مندی کب اور کیونکر دانش مندی میں بدل جاتی ہے؟کیا کتابیں پڑھنے ،ڈگریاں حاصل کرنے اور قلم کاری کے جوہر دکھانے سے ہی کوئی دانشور ہوجاتا ہے؟پھر یہ بھی ایک سلگتا سوال ہے کہ دانشوری کا امتیاز حاصل ہونے کے بعد کیا ایک دانشور کی زندگی اُس کی اپنی زندگی رہ جاتی ہے یا کہ وہ قوم کی اجتماعی زندگی کا اثاثہ اور امانت ہوکرہی اس طرئہ امتیاز کو باقی رکھ سکتا ہے۔ مذکورہ تقریب جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے، سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے ایک اور مفکر ایڈوکیٹ ظفر احمد شاہ نے کہا تھا’’ دانشور  public thinkerہوتا ہے، ان میں بھی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن Commitmentکا ہونا پہلی شرط ہے‘‘ ۔ بالکل صحیح …علامہ اقبال ؒ کے ہمعصر نہ جانے کتنے عظیم شاعر اور دانشور تھے لیکن اکیلے ان کو ہی کیوں شاعر مشرق،مفکراور شاعر اسلام کہا جاتا ہے۔ کُچھ تو امتیاز رہا ہوگا اُن میں اور دوسرے شعراء کرام میں۔ علامہ اقبال ؒ جیسے بڑے شاعر ومفکر کودراصل یہ امتیاز اس لئے حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی فکر، اپنی شاعری اور اپنی سوچ کے زریعے ایک خوابیدہ قوم کو جگایا اور انہیں زمانے کی نئی ضروریات کے لئے فکری  وعملی سطح پر استوار وفعال کرنے کی سعی کی۔یہی کام ہر زمانے میں دنیا کے مفکرین نے انجام دیا ہے۔ آج جب ہم اپنی تحریک آزادی کے روز و شب کی جانچ پڑتال کرتے ہیں، تومجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم علامہ جیسے کسی دانشور سے محروم رہے ہیں۔ ایسا اس لئے نہیں ہے کہ ہماری قوم میں سوچ وفکر و دانش کا فقدان ہے ……نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے …بلکہ حق یہ ہے کہ ہم نے اپنے دانشوروں کو یا تو آگے آنے ہی نہیں دیا یا پھر جو سامنے آئے ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے انہیں تہہ تیغ کردیا۔ میرے سامنے ایسی کتنی ہی مثالیں ہیں…… کتنے ہیں جن کی مثالیں دے دے کر میں قرطاس اَبیض کو شرمسار کرسکتا ہوں …آج ہم جس دانشور…مفکر… قانون دان… استاد اور تحریکی قائد کی بات کررہے ہیں وہ ایک ایسے انسان تھے کہ جنہوں نے اپنے دنیاوی امتیازات اور مراعات سے بالاتر ہوکر اپنے ملک و ملت کی آزادی و خود مختاری کے لئے اپنا سب کچھ دائو پر لگادیاتھا۔ وہ کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے سربراہ تھے…وہ چاہتے تو اکثر یت کی مانند جابروں سے ہاتھ ملاکر نہ جانے کس کس مقام اور عہدے کو حاصل کرسکتے تھے…وہ چاہتے تو یونیورسٹی کے اندر بھی اپنے علم و دانش کے جوہر بے پناہ کو نمایاں کرسکتے تھے لیکن مائسمہ جیسے متحرک علاقے  کے ایک متوسط گھرانے میں آنکھیں کھولنے اور اپنے بچپن کو گزارنے والے پروفیسر عبدالاحد وانی کے دل بے قرار اور ذرخیز ذہن کے لئے منزل کُچھ اور تھی۔وہ ایسا چشمہ ٔ صافی تھے جو اپنا پانی سمیٹ کر تالاب کی جیسے گندگی کو قبول نہیں کرسکتے تھے۔ان کے سامنے بقول پروفیسر مجیب دونوں زندگیاں تھیں … تالاب کی بھی اور ایک چشمے کی بھی… وہ مٹی سے اُبھرنے والے سپہ سالار تھے اور اپنی مٹی سے دور رہنا انہیں گوارا نہیں تھا۔ اسی لئے انہوں نے باطل کو باطل اور حق کو حق کہنے کا تہیہ کرلیا۔وہ کام کے دوست تھے… زبانی جمع خرچ سے کوسوں دور… پروفیسر مجیب نے کہا تھا…’’کام کا دوست بنئے۔آپ کو خیال ہوگا کہ میں آپ کو نصیحت کررہا ہوں کہ کام میں لگے رہیے،فائدے نقصان کا خیال نہ کیجیے۔دینے والا طریقہ اختیار کیجئے،لینے کا نہ کیجئے۔اگر میری باتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہو تو آپ اس نتیجے سے گھبرائیں کیوں؟آپ نے بہت سے گڑھے دیکھے ہوں گے ،جو اپنے ماحول کی پستی کا اور اپنے خالی ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔گویا یہ بھیک منگے کے پیالے ہیں جن کو برسات کا پانی یا آس پاس کے نالے بھر دیا کرتے ہیں۔ ان میں پانی رہتا ہے مگر کس ذلّت سے،آدمی ان سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، مگر کس کراہت کے ساتھ۔ پانی اُن چشموں میں بھی ہوتا ہے جو پہاڑ کے سینے سے پھوٹ کر نکلتے ہیں اور ان کی کیا شان ،کیا عزت ہوتی ہے۔انسان ان کے احسان اُٹھا کر خوش ہوتے ہیں،ان پر ناز کرتے ہیں،ان کی دریا دلی کو اپنے لئے مثال مانتے ہیں۔سوداگری کی نظر سے دیکھئے تو تالاب لینے والوں میں،چشمہ دینے والوں میںہے۔ تالاب اپنا مال سمیٹ کر رکھتا ہے،چشمہ اپنا مال لٹاتا ہے۔آپ کو ان دو صورتوں میں سے جو پسند ہو اختیار کیجئے۔انجام بہرحال ایک ہے۔چشمہ کا پانی بہتا رہتا ہے،تالاب سوکھتا رہتا ہے۔ میں یہ ہرگز نہیں کہتا کہ دینے والا نقصان نہیں اُٹھاتا،آپ نے پہاڑی چشمے کا انداز اختیار کیا تو شاعروں کے نغمے آپ کے سُروں میں سُر ملاتے رہیں گے۔آپ دوسروں کی نظروں میں اپنے حسن ہی کی جھلک دیکھیں گے۔کوئی آپ کے صاف و شفاف پانی کو گدلا کرنا والا نہ ہوگا۔ بہر حال چشمے کی شان اور عزت اسی کو حاصل ہوسکتی ہے جو سکون کی آرزو دل سے نکال دے ،جو اس کے لئے تیار ہوگاکہ لوگ اس کے نغمے کی لوری سمجھیں،جسے دکھ نہ ہو اگر اس کے فیض سے من مانے فائدے اُٹھائے جائیں۔

                        (خطبہ علی گڑھ۔۱۳ دسمبر۱۹۵۷ء)

بالکل یہی عمل پروفیسر وانی صاحب نے بھی کیا… اور یہی سب کچھ اُن کی زندگی پر بھی صادق آتا ہے ۔مرحوم نے سکون کی آرزو کو دل سے نکال باہر کرلیا تھا۔ تالاب کی گندگی کو تیاگ کر وہ چشمے کی صاف و شفاف زندگی کے ترجمان بنے رہے اور پھر زمانے نے دیکھا کہ دنیا کے بڑے بڑے اُن کی زندگی، اُن کی دانش ،اُن کی سوچ اور اُن کی فکر کے سامنے زانوئے ادب تہہ کئے رہتے تھے۔ وہ جب دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں سے ملے تو انہیں اس قدر قائل و مائل کیا کہ امریکی وزیر خارجہ مس رابن رافیل پکار اُٹھیں تھیں’’ پروفیسر صاحب !آپ کشمیر کی اُمید ہیں۔ برطانیہ کے لیبر پارٹی کے نامزد وزیر خارجہ مسٹر کفمین بول پڑے ’’ پروفیسر وانی! آپ سے ملنے اور باتیں کرنے کے بعد اور آپ کی ذہانت نے مجھے احساس کمتری میں مبتلا کردیا ہے‘‘۔اقوام متحدہ کےUNMOGIP سے وابستہ جنرل جب پروفیسر وانی سے ملے تو انہیں کہنا پڑا تھا کہ ’’ پروفیسر وانی !آپ  جیسے اعلیٰ دماغ ہی قوموں کی تاریخ بدل دیتے ہیں اور آپ ہی کشمیر کیلئے ایک بہتر روڈ میپ دے سکتے ہیں‘‘۔

 پروفیسر صاحب نے جموں کشمیر کی آزادی  و خود مختاری کا آئین مرتب کیا اور اس مسئلے کو بین الاقوامی فورمز میں زور دار اور مئوثر طریقے پر پہنچانے کی سعی کی۔تحریک آزادی کے لئے سفارتی محاذ کی تشکیل سے لے کر داخلی محاذ پر اُسے مضبوط بنانے کے واسطے یہ بے لوث انسان دن رات ایک کئے ہوئے برسر جہد رہا۔ وہ سچ کا ترجمان تھا اور سچ ہی اُس کی زندگی کا آئینہ تھا۔ پروفیسر وانی ایک باضمیر انسان تھے اور حق بھی یہی ہے کسی کی دانش، کسی کا علم، کسی کی لیڈرانہ صلاحیتیں ہی قوموں کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کرسکتی ہیں بلکہ یہ ان دانشوروں اور لیڈروں کا اندرون، ان کامافی الضمیر اور اُن کے ضمیر کی بلندی ہوتی ہے جو انہیں اَپنے مفادات کو قربان کرکے قوموں کے مفادات کی نگہبانی پر ابھارتے ہیں اور پھر قوموں کو کامیابی کی منازل سے ہمکنار کراتی ہیں۔

مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے کیا خوب کہا تھا:

’’لیڈر اپنی جگہ پر ، سیاسی جماعتیں اپنی جگہ پر ، دانش گاہیں اپنی جگہ پر، لائبریری اپنی جگہ پر، خطیب ومقرر اپنی جگہ پر، ذہین (Intelligent)  بلکہ (Geneus) قسم کے انسان اپنی جگہ پر ، لیکن وہ ضمیر کہاں ہے جو معاشرے کی اس پستی پر ، انسانیت کی اس بستی پر خون کے آنسو روئے؟ انسانیت کی حفاظت اسی ضمیر نے کی ہے ، تفنگ وشمشیر نے نہیں کی ہے ، سپاہ اور فوج نے نہیں کی ہے ، شاہی خزانوں اور دولت کی بہتات نے نہیں کی ہے ، علم انسانی کی ترقی نے نہیں کی ہے ، ٹیکنالوجی اور سائنس نے نہیں کی ہے، بلکہ ایک ضمیر انسانی ہے جو سب پر غالب آیا، جہاں وسائل نہیں تھے اس نے وہاں وسائل پیدا کر لئے، آپ دیکھئے جب کسی کے دل پر چوٹ لگتی ہے اور جب کوئی بے قرار ہوتا ہے ،وہ کیا کر لیتا ہے؟ ایک آدمی کے پاس وسائل کا ڈھیر ہے، لیکن اس کے دل میں درد نہیں ہے اور کچھ کرنے کا ارادہ ہی نہیں ہے تو وقت گزر جاتا ہے اور وہ کچھ نہیں کرتا‘‘۔

بعینٖہ پروفیسر صاحب بھی دانش و عقل اور فہم و فراست کے ساتھ ساتھ اسی باضمیری سے متصف تھے۔ وہ اپنی قوم کی آزادی کی تڑپ لئے جدوجہد میں مصروف تھے اور پھر آزادی اور انسانیت کے ابدی و ازلی دشمن نے ٹھان لیا کہ ایسے باضمیر کو شکست نہیں دی جاسکتی۔انہوں نے بارہا پروفیسر مرحوم کے ضمیر کو خریدنے کے لئے تگ و دو کی لیکن وہ اُس باوفا ،باصفا اور باضمیر کو نہ خرید سکے…اور پھر وہی آزمودہ نسخہ …وہی تیر و تفنگ…وہی قاتلانہ سوچ  …اور وہی خارجیت والی ابن ملجمی فکر…پروفیسر وانی کو دانش گاہ کشمیر جہاں وہ نونہالان ملت کی تعمیر و آرائش میں محو رہتے تھے …سے اغوا کرلیا گیا اور جاں بحق کردیا گیا…حد یہ ہے کہ اُن کے تعزیتی جلسے پر بھی حملہ کیا گیا

آج جب ہم کشمیر کے اُس بے لوث اور بے مثال قائد اور دانشور کو یاد کررہے ہیں مجھے موزوں الفاظ سجھائی نہیں دیتے کہ اُن کے لئے کیا لکھوں…میں اُن کے لئے بھی وہی الفاط دہرائوں گا جو کبھی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے اپنے دوست اور رفیق مولانا شوکت مرحوم کے لئے چنے تھے…   یہ الفاظ پروفیسر مجیب کے ہیں جنہوں نے شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ کو خراج ادا کرتے ہوئے کہے تھے۔

’’چھوٹی شخصیتیںسمندر کی کشتیوں کی طرح چاہتی ہیںکہ احتیاط کا لنگر ہو،ہر دلعزیزی کا بادبان ہو،قومی جذبات کی ہواموافق ہواور چلتی رہے۔سستانے اور پناہ لینے کیلئے ذاتی زندگی اور معاملات کا ساحل قریب رہے ،تب کہیں وہ اپنی چال دکھاسکتی ہیں اور منزل تک پہنچانے کا حوصلہ کرسکتی ہیں۔ وہ موج تو چیز ہی اور ہوتی ہے جو سمندر کی تھاہ لیتی ہے کہ گہرائی کافی ہے یا نہیں۔ ہوا کو للکارتی ہے کہ َدم ہو تو ذرا اپنا زور دکھائو۔ آسمان سے کہتی ہے کہ ذرا اور اونچا ہوسکتاہو تو ہوجا۔ اسے ساحل سے عداوت ہوتی ہے۔ وہ آپ اپنی منزل ہوتی ہے۔ اسے کہیں جانا نہیں ہوتا۔ اس کے لئے بس اٹھنا اور تڑپنا ہوتا ہے۔ڈاکٹر اقبالؒ کی شخصیت ایسی ہی ایک موج تھی اور اس کاسمندر عالم اسلام تھا۔ میں اس سمندر کا ایک گمنام قطرہ بھلا کیسے بتاسکتا ہوں کہ موج اُٹھی اور اْس نے سمندر کو تہہ تک ہلادیا۔تڑپ کر آسمان کا منہ چومااور پھر بیٹھ کر سمندر بن گئی۔تو اس میں موج اور موج کو پیدا کرنے والے کی مصلحت کیا تھی…وہ کچھ اور کیوں نہ تھی۔اُس نے کچھ اور کیوں نہیں کیا…؟میں تو بس یہ جانتا ہوںکہ یہ موج نہ ہوتی توکوئی نہ تھا جو مجھے اپنے پہلو میں لیتا اور اتنا اونچااُٹھا دیتا کہ سمندر کو دیکھوں۔سمندر کے پھیلائو کو دیکھوں،دونوں جہانوں پر ایک نظر ڈالوں اور تھوڑی دیر کیلئے سمجھ لوں کہ قطرے کی بھی کچھ ہستی ہوتی ہے۔‘‘  

…………

 نوٹ: مضمون نگار جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سینئر لیڈرہیں ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By