GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
درجوابِ آں غزل
ہم سخن فہم ہیں غالب کے طر ف دار نہیں

مؤقر انگریزی روزنامے ’’ گریٹر کشمیر ‘‘میں 15دسمبر کوچھپے اے ایچ شاہ نامی کسی صاحب نے سید علی گیلانی صاحب کے نام لکھے گئے ایک کھلے خط میں بزرگ قائد کے سیاسی کردار کا  ایک تنقیدی خا کہ پیش کیا ہے ۔ مکتوب نگار کے بقول گیلانی صاحب کے نام کھلا خط لکھنے کا محرک موصوف کا حریت ( ع )کے پاکستان دورے کے بارے میں بیان بنا کیو نکہ ان کے الفاظ میں ’گیلانی صاحب نے دورۂ پاکستان پر ضرر رساں نقطہ چینی کی یا کیچڑ اچھا لی ہے‘۔ اپنی اپنی رائے اپنا اپنا زاویہ ٔ نگاہ ، البتہ مکتوب نگار نے تنقید کو چھوڑ کر فوراً نون میں نکتہ نکا لنے کیلئے نقد وبصر کو ذاتی حملوں تک لے آ ئے ہیں۔ گیلانی صاحب علیحدگی پسند کہہ کر اپنے دل کے خوب پھپھولے پھوڑ نا ایک بات ہے اور کچھ ٹھوس بات کر نا دوسری بات ۔ دنیا جا نتی ہے کہ حر یت ( گ)  بزرگ سر براہ کشمیر حل کے لئے انتھک سیاسی جدوجہد کرتے رہے ہیں ۔ اس مشن میں وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ کشمیری عوام بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، اس وقت تک جب تک وہ حق کا موقف اختیار کر تے رہیں گے ۔ ماضی میں لو گوں نے شیخ محمد عبداللہ کی ذات اور سیا ست پرکشمیر کا ز کی منا سبت سے اپنی بے پناہ عقیدت اوراطاعت وقف کی تا وقتیکہ اُنہیں اکارڈ کی بھول بھلیوں نے اس جد وجہد کو ترک کر نے پر مجبور کیا اور آ ج کی تا ریخ میں گیلانی جیسے رہنماؤں کو اس حوالے سے زبردست عوامی تعاون اور تابعداری حاصل ہے لیکن اب کی بار یہ غیر مشروط نہیں بلکہ اصولوں کے کھونٹے سے بندھی ہے۔ چنا نچہ مکتوب نگا ر کو بھی اعتراف ہے کہ گیلانی صاحب اُن چند ایک لوگوں میں سے ایک ممتاز شخصیت ہیں جن کو ہندوستانی سٹیٹ بہر حال خرید نہیں سکی ہے۔

 اس حد تک حق بیا نی کے لئے ناقد صاحب کا شکریہ لیکن سمجھ میں نہیں آ تا کہ اُن کے ان خیالا ت کی کیا توجیہ کی جا ئے کہ گیلانی صاحب کو پاکستان کا انعام و اکرام اور امدادقبول ہے، پاکستان کے ساتھ ضم ہونا اُن کے سیاسی فلسفے کا لُبِ لُباب ہے، اُن کا کشمیر ی سے زیادہ پاکستانی ہونا بلکہ ایک اوسط پاکستانی سے زیادہ پاکستانی ہونا مسلمہ امر ہے ۔ یہ با تیں صاحب مکتوب کے مخصوص طنزیہ خیا لا ت ہیں جو ان کے ذہنی نقشہ کو عیاں کر تے ہیں ۔ کشمیر کی تاریخ اٹاھ کر دیکھئے تو الحاق پا کستاں کی بات کر نا کو ئی گناہ نہیں۔ "Third Option" یعنی ’ جموں وکشمیر کا الحاق نہیں آزادی‘ کا تصور اگرچہ ایک مضبوط ، پائیدار اور قربانیوں سے سیراب و سرشار نظریہ ہے جس کی ایک سیاسی حلقے میں پذیرائی پا ئی جاتی ہے مگریہ ۹۰ء کے مابعد ہی یہاں متعارف ہوا ۔ قبل ازیں کشمیر حل سے متعلق صرف دو ہی تصورات پا ئے جا تے تھے ہیں :کشمیر کا پاکستان سے الحاق وانضما م ہو یا ہندوستان کے ساتھ اس کاابدی رشتہ استوار ہو ۔اقومِ متحدہ کی قراردادیں بھی انہی دو تصورات پر مبنی ہیں۔بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے کہ کشمیر کی مزاحمتی تحریک کے حوالے سے بدلتے عالمی حالات کے پس منظر میں تھرڈ اوپشن ،جس کا راقم الحروف بھی نظریاتی حامی ہے، ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ پسندیدگی اور پذیرائی کیونکرپا گیا ۔ گیلانی صاحب اگرچہ الحاق پاکستان کے قائل ہیں لیکن انہوںنے کب کا صاف کر دیا کہ اس با ب میں لو گو ں کی رائے کے سامنے وہ بھی سر تسلیم خم کر دیں گے۔ اس لئے مکتوب نگا ر کا گیلا نی صاحب پر اس بابت طعن وتشنیع کر ناان کی قلت واقفیت یا ذاتی عناد پر ہی دلا لت کر تی ہے ۔

کھلے خط کے محررصاحب گیلانی صاحب کے ذاتی اوصاف کے معترف ہیں البتہ ان کی لیڈرشپ پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ اُن پر غلط لیڈرشپ کر نے کا الزام لگاتے ہیں۔  وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ اچھی لیڈر شپ کا بنیادی دارومداراُن کے اپنے  بتائے ہو ئے انہیں  اوصاف کا متقاضی ہوتا ہے جو انہیں بزرگ قائد میں نظر آتے ہیں ۔آگے چل کر وہ ان اوصاف کی نفی کر کے پھر گیلا نی کے کردار پر رکیک حملے کر نے سے بھی نہیں چو کتے ۔ ایسا کرتے ہو ئے انہو ںنے حریت (ع) کے پاکستانی دورے کوبطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ شاہ صاحب گیلانی صاحب کو طنزیہ انداز میں "Great Geelani" کے نام سے مخاطب ہوکرآداب و اخلاق اور شائستگی کی حدیں پا ر کر تے ہیں ۔ یہ سنجیدہ طرزِ کلام یا طرزِ تحریر نہیں کہلاسکتا۔ ویسے حق پسند رہنماوںکے لئے تاریخ ہمیشہ Great کالفظ استعمال کر کے ان کی قائدانہ صلاحیتوںاور ذاتی کردار کی سراہنا کر تی ہے ۔ اس میں کو ئی مبا لغہ نہیںکہ کشمیر یو ں کے حق خودارادیت کو پلیڈ کر تے کرتے اپنے بال سفید کرنے والے گیلانی صاحب کو اسی منا سبت سے عوام النا س میںکافی معقولیت اور مقبولیت حاصل ہے ۔اس لئے بے جاطنز یا بغض وعداوت میں بہک کر کسی کا آ سما ن کو تھو کنا ہر لحا ظ سے ایک غیر مہذب انسان کو ہی زیب دے سکتا ہے ۔ یا درکھئے کہ گیلانی صاحب کو ئی آ سمانی مخلو ق نہیں ، وہ بھی ہما ری ما نند گوشت پو ست رکھنے والے بشر ہیں ۔ البتہ  تاریخ ان کو یہ کریڈٹ ضرور دے گی کہ انہوں نے کبھی شخص پرستی یا ہیرو پرستی کی طرف قوم کو بلا یا اور نہ خیالی جنتوں کی سیر کروائی۔ وہ روزاو ل سے ایک ہی بات کہتے رہے اور ڈٹ کے کہتے رہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرو اور اپنی اپنی جگہ پر مامون و محفوظ زندگی گزارو۔ پیو ند کاری اور وقت گزاری سے کو ئی کام نہیں چلنے والا۔ یہ بات انہوں نے اسمبلی میںخود قائد ایوان شیخ محمد عبد اللہ اور فاروق عبداللہ کی ناک کی سیدھ میں ببانگ دہل کہی اور بغیر کسی آ ئیں با ئیں شائیں کے اپنا موقف بر ملا اور ڈائر کٹ زبان میں کہا ۔ ایسا کبھی نہ ہو اکہ انہو ں نے سوپور میں انہوں نے ایک چیز کہی ، سر ی نگر میں دوسری چیز اور جموںا ور دلی میں کو ئی تیسری ہی با ت کر کے اپنے حریفوں سے دوستی کی پینگیں بڑ ھا ئیں ۔ کشمیر کا بچہ بچہ گواہ ہے کہ مشرف سے بغل گیر ہو کر گیلا نی نے ان کے گیت گا ئے نہ ان کے فارمولے کی بلا ئیں لیں بلکہ کشمیریوں پر کو ئی پرایا حل تھو پنے سے خبردار کیا ، پا سوان ، سیتارام یچوری، جیٹھ ملا نی یا سر ی سری کرشن سے مڈ بھیڑ ہو ئی تو ان سے یہی کہا کہ میر ا آ پ کی قوم ، مذہب، زبان یا کسی دوسری سما جی اورثقافتی خصوصیت کے خلا ف کو ئی بیرنہیںکوئی جھگڑا نہیں بلکہ میں خیرخواہ امت کا فرد ہو نے کے نا طے آ پ کی بھلا ئی کا دل سے خواستگار ہو ں اور آ پ سے چا ہتا ہو ں کہ آپ  وہی قول وقرا پو را کر یں جو کشمیریو ں کے ساتھ تقسیم ہند کے دوران اور مابعد اقوام متحدہ اور بھا رتی پا رلیما ن میںاور دیگر مواقع پر کشمیری قوم کے ساتھ  اپ کے مسلمہ لیڈروں نے کئے ۔ گیلانی نے ڈنکے کے چوٹ پر کشمیر یوں کے حق خودارادیت وکا لت کر تے ہو ئے کبھی موسموں کی ادالا بدلی اور عالمی تبدیلیوں کا فرار پسندانہ جو از نہ تراشا ۔ چا ہے کسی کو پسند آ یایا نہ آ یا لیکن انہو ں نے اپنا ما فی الضمیر عیاں وبیا ں الفا ظ میں ظا ہر کر نے سے سے کبھی جی نہ چرا یا۔ اس سب کے با وجو د وہ ایک انسان ہیں ۔ ان کا سیا سی نقطہ ٔنظر کو ئی صحیفۂ آ سما نی نہیں ، ان کے ساتھ تہذیب ، معقولیت اور شائستگی کے دائر ے میں اختلا ف کیاجا سکتا ہے۔ ان کے خیالات پر بحث ومباحثے سے کسی کو روکا نہیں جا سکتا۔ حالانکہ لو گ جا نتے ہیںکہ ما ضی کے ہمارے قد آ ور لیڈروں کی تو با ت ہی نہیں ، مو جو دہ دور کی یک نفری تنظیمیں یا دونفری لیڈر اپنی تنقید سننے سے آگ بگو لہ ہو جا تے ہیں اور اسے اپنی شان میں گستاخی سمجھ کرنا قد کی قوت گو یا ئی سلب کر نے میں کسی بھی حد تک گر جا تے ہیں لیکن شکر ہے کہ تاریخ میں گیلا نی نا م کی ایک ہستی ہے کہ جس پر آ پ تنقید ، کرداکشی اور تعریض کے جتنے تیر چلا نا چا ہیے تو بھی کو ئی آ پ کا بال بیکا نہیں کر سکتا ۔ آ پ کی معقول بات کا جواب مل سکتا ہے مگر گالم گلوچ کا جو اب تو ملے گا ہی نہیں۔ بامر مجبوری ریکا رڈ درست کر نے کی نیت سے کچھ لکھا پڑھی کی ضرورت محسوس ہو تو بھی بات شرافت اور سچائی سے آگے نہیں بڑ ھتی ۔

 مکتوب نگار کا یہ کہنا کہ گیلانی صاحب یہ چاہتے ہیں کہ اُنہیں پاکستان کی طرف سے اکیلے دعوت ملنی چاہیے تب وہ غالباً وہاںجاتے، حقیقت سے کتنی دور بات ہے اس کی وضاحت کر نے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ حق بات یہ ہے کہ بات چیت کے آ ج تک جتنے راؤنڈ بالخصوص بھارت کے ساتھ ہوئے ہیں ، اُن کے کوئی بھی مثبت نتائج برآمد نہ ہونے کی وجہ سے گیلانی صاحب اِس عمل کو لگی لپٹی یا زبان کی لکنت کے بغیربلا تامل بے معنی اور سعی ٔ لا حاصل قرار دیتے آئے ہیں ۔ گو ان کے نقطہ نظر سے بعض سیا سی حلقے وقتی طور متفق نہ ہو ئے بلکہ ان کے خلا ف بر ہمی اور نا راضگی کا اظہار کر نے میں اخلا قی حدود تک کو فراموش کیا گیا مگر اللہ کی قدرت دیکھئے کہ آ گے جب نتائج صفر رہے تو چا ر ونا چار ان کودیر سویر ما ننا پڑا کہ گیلا نی نے اپنے وسیع تجربے اور مشاہدے کی بنیا د پر جو دلیل بر وقت دی تھی وہ مضبوط فہم وفراست پر اپنامدار رکھتی تھی۔ مکتوب نگار گیلانی صاحب پر یہ الزام بھی بے دھڑک دھرتے ہیںکہ وہ مو قع بے موقع اپنی الیکشن بائیکاٹ کالیں دہراتے رہتے ہیں جب کہ ان کو مسترد کر تے ہو ئے امیدواروں کے حق میں نوے فیصد تک ووٹ پڑتے ہیں اور ریکارڈ توڑ ووٹنگ سے گیلانی اپنا سامنہ لے کر رہتے ہیں ۔ دیکھئے جنا ب! اگر ڈاکٹر کسی مریض کی شفا یا بی کے لئے نسخہ تجویز کر ے اور بیمار جان بو جھ کر ڈاکٹری دوادارو سے پر ہیز کر نے کی فاش غلطی کر بیٹھے اور بار بار اس کا یہی طر یقہ رہے تو کس انصاف اور آ ئین کے تحت آ پ ڈاکٹر کو ہی مورد الزام ٹھہرائیں گے۔ اس کا کام ہے دوائی تجویز کر نا اور طبی جا نچ کے لئے مختلف ٹیسٹ وغیرہ کی صلا ح دینا ۔ اس کافرض اسی ایک بات پر مرکوز رہتا ہے کہ کسی طرح مریض تندرست ہو جا ئے ۔ اگر مریض خود نا پر ہیزی کا گناہ کر ے تو ڈاکٹر نتائج سے بری الذمہ ہو جا تا ہے ۔

شاہ صاحب نے گیلانی صاحب پر حریت کانفرنس کو توڑنے کے الزام لگاکراوراُن کے جاری کردہ اخباری بیانات کے اعداد وشمارکی روشنی میں یہ کہتے ہیں کہ حریت ( گ ) سربراہ نے زیادہ تربیانات اپنے ہم سفر تحریک والوں کے خلاف دئے ہیں جب کہ این سی اور پی ڈی پی کے خلاف مقابلتاً بہت کم بیانات دے کر گویا مین اسٹریم پارٹیوں کو پروان چڑھایا ہے۔ ایسے تجزیئے یا دور کی کوڑی کوقبول کرنے والے بہت کم لوگ ہوں گے بلکہ یہ طفلانہ تجزیہ ہی قرار پا ئے گا کیونکہ این سی اور پی ڈی پی گیلانی کے مرہو ن ِ منت نہیں دلی کے چہیتے ہیں جن کو جاری تحریک کے کا ؤنٹر میں اسی طرح پرموٹ کر نا دلی کی مجبوری ہے جس طرح اس نے محاذائے شماری کے توڑ کے لئے بخشی ِ صادق اور میر قاسم کو دولہے کی طرح مسند اقتدار پر سجاکر بٹھا یا ۔ نیزغیر ضروری بیان بازی سے بہتر ہے کہ پریس کو صرف کاز کے حوالے سے استعمال کیا جا ئے ۔ آ ج تک جب کبھی حالا ت کا تقاضا ہو اتو حر یت (گ ) نے حکمران پارٹی این سی اور پی ڈی پی یا کا نگریس کے سیاسی عزائم کو عوام کے سامنے لا نے میں کبھی بخل یا جانبداری سے کام نہ لیا۔ تاہم یہ بات مان کر چلنا چا ہیے کہ وہ کازکے کھلے حریف ہیں، ا ن سے تحریک کو اتنا نقصان پہنچنے کا احتمال نہیں جتنا کہ گندم نما جو فروشوں سے آ ج تک اسے پہنچایا۔ الغرض کشمیر کی تحریکِ مزاحمت میں گیلانی کا پلڑا صرف اس لئے بھاری ہے کہ انہوں نے سب سے اول واپسی کی کشتیاں جلا ڈالیں ہیں ، دوم وہ کشمیر مسئلہ کے حل با رے میں ایک ٹھوس ، قابل عمل ، منصفا نہ اور وز ن دار موقف رکھتے ہیں اور پھر اس کو منوانے کے لئے جس صاف ذہن، ہو شمندی، ایمانداری، یقین کا مل ، نڈر تا،  نظریا تی استقامت اور عزم و استقلال کی ضرورت ہے فی الوقت اس کا ایک بڑا حصہ ان کی ذات کے اندار بسا ہو اہے ۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ کشمیر کا ز سے جڑے دوسرے ایثار پیشہ قائدین اور کا رکن اور متاثرین ان اوصاف سے خدا نخواستہ تہی دامن ہیں ۔ حاشاء وکلا۔ آ ج یہاں اگر بہ نظر غائر تلاش کیا جا ئے تو ہر گلی کوچے میںایسے ہزاروں اور بھی گیلانی ملیں گے جنہو ں نے تحریک کے لئے بے لوث ہو کر تن من دھن سے کام کیا اور اتنی قربا نیاں دیں اور مشکلات سہے کہ ان کا نا م تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ لکھا جا ئے گا ۔ سید علی گیلانی کے بارے میں یہ با تیں قلم بند کر نا ضمیر پر پڑے بوجھ کو ہلکا کر نا تھا نہ کہ کسی شخصیت کی بت تراشی۔ ہم سب واقف ہیں کہ ما ضی میں بت تراشی نے ہی ہمیں ’الہ وانگن ‘کر ڈالا جس کا خمیازہ اب ہم سب مل کر اٹھا رہے ہیں ۔

…………………

ahmadkashmiri@gmail.com

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By