GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
مسلسل نظربندیاں
مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر زور

پروفیسر عبدالاحد وانی کی 20ویں برسی پر لبریشن فرنٹ کے اہتمام سے سمینار منعقد
طارق علی میر
سرینگر//لبریشن فرنٹ کے اہتمام سے ایتوار کو منعقدہ سمینار میں نظربندوں کی مسلسل اسیری کیخلاف4جنوری 2013کو جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔سمینار میں مزاحمتی رہنمائوں ، قانونی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے قیدیوں کی قانونی مدد کے ایک مشترکہ فورم قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔’’ اسیران کشمیر اور ہماری ذمہ داریاں ‘‘  کے عنوان سے یہ سمینار پر وفیسر عبدلاحد وانی کی 20برسی کے موقعہ پرمنعقد کیا گیا تھا۔لالچوک کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ اس سمینار میں تحریک مزاحمت سے وابستہ سنجیدہ فکر لوگوں ، دانشوروں اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک نے کہا،’’  یاسین ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحریک مزاحمت یتیمی سی محسوس کرہی ہے اور لگتا ہے کہ مزاحمت کی سمت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور دانشوروں کی توجہ مزاحمت کے بجائے بہتر یا ناکارہ طرز حکمرانی کے بحث و مباحثوںکی طرف مبذول ہے ۔کشمیر میں20 برس میں تحریک مزاحمت کو کچلنے مختلف طریقہ کار اختیار کئے گئے۔اور اب عدالتوں کے ذریعے مزاحمت کاروں کو عمر قید کی سزائیں دینے کا رجحان شروع ہوگیا ہے، جو توجہ طلب ہے۔‘‘ انہوں نے کہا’’ کشمیر سیاسی مسئلہ ہے اور یہاں اب عدالتوں کو بھی تحریکی قائدین اور کارکنوں پر لگام کسنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج 23 سال گزرنے کے بعد عدالتوں سے عمر قید کی سزا کے فیصلے آنا شروع ہوگئے ہیں۔‘‘کشمیری نظربندوں کی مسلسل اسیری کیخلاف جیل بھرو تحریک کا اعلان کرتے ہوئے یاسین ملک نے جملہ مزاحمتی لیڈران کو مشورہ دیا کہ وہ اس حساس معاملے پر متحدہ حکمت عملی ترتیب دیں۔ملک یاسین نے کہا کہ بھارت کو نوشتہ دیوار پڑھ کر ظالمانہ ہتھکنڈوں کو بند کرنا چاہیے۔اس دوران معروف قانون دان پروفیسر عبدالاحد وانی کی برسی پر منعقدہ سمینار کے دوران مقررین نے جیلوں میں بند پڑے نظر بند نوجوانوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔اس موقعہ پر مقررین نے مرحوم پروفیسر عبدالاحد وانی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے ایک اعلیٰ پایہ قانون دان اور مفکر قرار دیا جن کے دل میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی ایک تڑپ تھی۔سمینار سے خطاب کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک نے مرحوم کو ایک سنجیدہ مفکر اور قانون دان قرار دیکرانہوں نے کہا کہ دنیا میں قابل لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہوتی ہے لیکن جو قابل انسان اپنی جان اور اپنے کیرئر کی پرواہ کئے بغیر قومی اور ملی کاز کیلئے اپنی عقل،دانش اور قلم استعمال کرتا ہے وہی قومی ہیرو کہلاتے ہیں۔ پروفیسر شہید وانی ایسے ہی ہیرو تھے جنہوں نے آزادی کشمیر کیلئے اپنی جان کی بازی لگادی اور مرتے دم تک اس کاز کی حمایت میں جٹے رہے۔محمدیاسین ملک نے کہا کہ جموں کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور یہاں اب عدالتوں کو بھی تحریکی قائدین اور کارکنوں پر لگام لگانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج 23 سال گزرنے کے بعد عدالتوں سے عمر قید کی سزا کے فیصلے آنا شروع ہوگئے ہیں۔محمد یاسین ملک نے’’اسیران کشمیر اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اب عدالتوں کے ذریعے نوجوانوں کو بے بنیاد کیسوں میں پھنسایا جارہا ہے اور اس طرح سے ایک نیا رجحان پیدا کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ لبریشن فرنٹ نے جب یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اس وقت پوری دنیا کے ساتھ ساتھ بھارت کی سیول سوسائٹی نے مشورہ دیا تھا کہ عدم تشدد کا راستہ اپنا یا جائے اور جب ان کے مشورے پر عمل کیا گیا تو آج ایک بار پھر وہ صورتحال پیش کی جا رہی ہیں کہ نوجوانوں کو تشدد پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔محمد یاسین ملک نے کہا کہ بھارت کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہے اور ان ہتھکنڈوں اور حربوں کو آزمانا بند کرنا چاہیے۔ محمد یاسین ملک نے اس صورتحال کے پیش نظر اسیران کی مسلسل نظر بندی اور انکے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر جمعہ4جنوری کو سال نو کے آغاز کے ساتھ ہی جیل بھرو تحریک چلانے کا اعلان کیا۔مزاحمتی پسند خیمے کو اس معاملے پر یک آواز میں صدا بلند کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے محمد یاسین ملک نے کہا کہ محبوسین کسی خاص جماعت یا فرقے کے نہیں ہیں بلکہ وہ قوم کے ہیں اس لئے مشترکہ اور متحدہ حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہیں تاکہ انکی زندگیاں جیلوں میں ختم نہ ہو۔ محمد یاسین ملک نے زور دے کر کہا کہ ہمارے دانشور حضرات اور دوسرے مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو تحریک آزادی، یہاں کے مظلومین اور اسیروں کے بارے میں بھی لکھنا چاہیے۔کے این ایس نمائندے کے مطابق اس موقعہ پر دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسیران کشمیر جیلوں میں اذیتیں برداشت کررہے ہیںاور ملّی ذمہ داری کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے ان بھایئوں کیلئے اپنی آواز کو منظم و موثر طریقے پر اُٹھانے کی سعی کریں۔معروف ڈاکٹر الطاف حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری تحریک کے دوران قید کئے جانے والے مجرم نہیں ہیں بلکہ وہ ہمارے جذبات و احساسات کے ترجمان ہیںاورہمیں منظم طریقے پر اُن کی مدد وا عانت کیلئے اقدامات اُٹھانے ہی پڑیں گے۔ زیڈ جی محمد نے کہا کہ اسیروں کا بارے میں ہمیں محاذ رائے شماری کے دوران اپنائے گئے ضوابط کو مدنظر رکھنا پڑے گا۔ریاض مسرور نے کہا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے لیا گیا انی شیٹو قابل تقلید ہے۔ ہمیں اپنے قیدیوں کے بارے میں عملی سطح پر اقدامات کرنا چاہیے۔ غلام علی گلزار نے اتحاد و اتفاق پر زور دیا۔عبدالمجید زرگر نے کہا کہ قید و بند اور تحاریک کا ساتھ چولی دامن کا ہوتا ہے۔ ہمارے اسیران ہمارا فخر ہیں اور ہمیں قومی و ملی سوچ کے ساتھ ان کی رہائی کیلئے اقدامات کرنے چاہیے۔ڈاکٹر سیخ محمد اقبال نے کہا کہ اپنے مظلومین کی دادرسی ہمارا فریضہ ہے ۔سمینار سے خطاب کرنے والوں میں فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کے علاوہ، دختران ملت کی سربراہ سیّدہ آسیہ اندرابی،لبریشن فرنٹ کے جاوید احمد میر، مسلم کانفرنس کے چیئرمین شبیر احمد ڈار، تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال احمد صدیقی،اسلامک پولیٹکل پارٹی کے چیئرمین محمد یوسف نقاش کے ساتھ ساتھ صحافی ریاض مسرور، معالج ڈاکٹر الطاف حسین،  دانشور عبدالمجید زرگر، غلام علی گلزار، شاعر پروفیسر رحمان راہی، قلم کار زیڈ جی محمد، سکھ لیڈر جگ موہن رینہ،ڈاکٹر جاوید اقبال،ایڈوکیٹ نذیر احمد رونگہ،پروفیسر نور بلال،جماعت اسلامی کے ایڈوکیٹ زاہد علی، جمعیۃ ہمدانیہ کے میر بشیر احمد کنٹھ،فریڈم پارٹی کے نمائندہ ایڈوکیٹ فیاض سوداگر،مولانا خورشید قانون گو،ایڈوکیٹ بشیر صدیق وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جن اہم شخصیات نے اس سمینار میں شرکت کی اُن میں معالج داکٹر عاشق حسین،مولانا شوکت حسین کینگ، مولانا غلام رسول حامی، صحافی  یوسف جمیل، شین میم احمد، ارشد کلو ، امداد ساقی، الف میم آزاد، رشید راہل، اعجاز الحق، نصیر گنائی، ایڈوکیٹ بلال،ایڈوکیٹ غلام نبی شاہین، ظریف احمد ظریف ،محاذ آزادی کے محمد اقبال میر،اے پی ڈی پی سرپراہ پروینہ آہنگر،سی ٹی کے سربراہ محمود الحسن قاری، انسانی حقوق لیڈر محمد احسن اونتو،پروفیسر منظور وزیر،ملک محمدصفدر، فاروق احمد توحیدی،فٹ بال ایسوی سیشن کے فیاض احمد اور طارق احمد،ڈاکٹر وحید،فاروق احمد نواز،پروفیسر بشیر احمد ڈار،چیمبر آف انڈسٹریز کے شکیل قلندر،ٹی یو سی کے محمد شفیع خان، غلام محمد قادری،وغیرہ شامل تھے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By