GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
پلوامہ میں سخت ترین کرفیو تیسرے دن بھی جاری
دو کمسن لڑکے گرفتار،علاقے میں تنائو کی کیفیت

 شوکت ڈار
 پلوامہ// چندگام پلوامہ میں چند روز قبل ہوئی مسلح معرکہ آرائی اور مظاہرین پر گولیاں چلاکر متعدد افراد کو زخمی کرنے کے واقعہ کے بعدکئی علاقوں میں نافذ کئے گئے سخت ترین کرفیو اتوار کو بھی پوری طرح سے جاری رہا ۔اس دوران دو کمسن بچوں کو گرفتار کرنے اور ایک لڑکی کا زدو کوب کرکے اسے زخمی کرنے کے خلاف بھی علاقے میں غم و غصے کی لہر پھیل گئی ہے ۔جمعہ کی شام سے پلوامہ قصبہ اور اسکے ملحقہ علاقہ جات جن میں ژاٹہ پورہ ۔ڈلی پورہ ،ڈانگر پورہ سمیت کئی علاقہ جات شامل ہیں ،میں مسلسل تیسرے روز بھی سخت کرفیو نافذ رہا جس کے دوران کسی بھی فرد کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ فورسز اور پولیس انہیں گھر سے باہر نکلنے نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم دودھ روٹی، سبزی اور دیگر ضروری اشیا خریدنے بھی باہر نہیں جاسکتے۔مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ انہیں کرفیو کے دوران اسپتال جانے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔اس دوران ذرائع نے بتایا کہ پولیس کی ایک پارٹی نے 12سالہ لڑکے فیضان احمد گنائی ولد بشیر احمد اور اویس احمد ڈار ولد بشیر احمد ساکنان وشہ بگ کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ایک مقامی لڑکی سائمہ جان دختر غلام محمد کو زد وکوب کرکے زخمی کردیا گیا ہے۔پولیس کی اس کارروائی کے خلاف علاقے میں غم وغصے کی لہر پھیل گئی ہے تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان پتھرائو اور توڑ پھوڑ کی کاررائیوں میں ملوث ہونے کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ڈی سی پلوامہ شفاعت نور کا کہنا ہے کہ بعض عناصر شہر میں امن و قانون میں خلل ڈالنا چاہ رہے ہیں۔دریں اثناء پلوامہ ضلع میں اتوار کو بھی مکمل ہڑتال رہی اور قصبہ پلوامہ سمیت دیگر ملحقہ علاقوں میں معمولات زندگی یکسر ٹھپ ہوکر رہ گئیں ۔قصبہ میں دکانیں بند رہیں جبکہ ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب رہا ۔دریں اثناء حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کی جانب سے پلوامہ واقعہ کیخلاف دی گئی ہڑتال کال کی مختلف جماعتوں نے حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مسلم خواتین مرکز ، سالویشن مومنٹ اور لبریشن فرنٹ (ح)سمیت کئی مزاحمتی گروپوں اور لیڈران نے سید علی شاہ گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق کی طرف سے سال رواں کے آخری دن کیلئے دی گئی ہڑتال کال کی مکمل حمایت کرتے ہوئے پلوامہ میں فائرنگ کے دوران عام شہریوں کے زخمی ہوجانے پر سخت رنج وغم اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور فورسز کی اس کارروائی کو بلا جواز اور قابل مذمت قرار دیا ۔ادھر مقامی حقوق البشر فورم ووئس آف وکٹمز جموں وکشمیر نے بھی پلوامہ میں عام شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کی روشنی میں کارروائی عمل میںلائی جائے ۔ادھر حریت (گ) کی اکائی ڈیموکریٹک پولٹیکل مومنٹ کے چیرمین فردوس احمد شاہ نے بھی پلوامہ میں فائرنگ کر کے عام شہریوں کو زخمی کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ہڑتال کال کی حمایت کا اعلان کیا ۔ فردوس شاہ نے  اپنے ٹیلی بیان میں الزام لگایا کہ عام شہریوں کے خلاف طاقت کا بیجا استعمال کرنے کی فورسز کو پوری چھوٹ دی گئی ہے ۔ انہوںنے ضلع انتظامیہ کی طرف سے فائرینگ واقعہ کی تحقیقات کے حوالے سے صادر کردہ احکامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے احکامات اقوام عالم کو گمراہ کرنے کیلئے صادر کئے جاتے ہیں۔اس دوران سالویشن مومنٹ کے نائب چیرمین طفیل الطاف بٹ نے اپنے بیان میں پلوامہ واقعہ کے خلاف حریت کانفرنس (ع) کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اہل وادی کو ایسے واقعات کے خلاف مکمل ہڑتال کر کے اقوام عالم تک یہ پیغام پہنچانا چاہیے کہ وہ اپنے بنیادی حق کے حصول کیلئے ہر طرح کے مظالم کا سامنا کرنے کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ادھر31دسمبر کی ہڑتال کی کال کو کامیاب بنانے کی پروزر اپیل کرتے ہوئے دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے کہا ہے کہ عوام 31دسمبر کو مکمل ہڑتال اور احتجاج کر کے مجاہدین  اور تحریک سے اپنی مکمل وابستگی کا ایک بار پھر کھل کر مظاہرہ کریں ۔ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ میں جس طرح عوام مجاہدین کے سپورٹ میں ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے وہ قابل تقلید جذبہ ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 31دسمبر کی ہڑتال کی کال کو ہر حال میں کامیاب کریں۔اس دوران  پلوامہ واقعہ میں شدید زخمی افراد کی عیادت اور مزاج پرسی کیلئے حریت(ع) چیرمین میرواعظ محمد عمر فاروق کی ہدایت پر حریت کا ایک وفد مصدق عادل ، عبدالرشید اونتو ، محمد مقبول صوفی اور عبد المجید وانی پر مشتمل سرینگر کے مختلف ہسپتالوں میں جن میں برزلہ ، ایس ایم ایچ ایس اور صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں میں گئے ۔ وفد نے مذکورہ ہسپتالوں میں زخمیوں سے براہ راست ملاقات کی اور حریت چیرمین میرواعظ کی جانب سے ہمدردی اور یکجہتی کا پیغام پہنچاتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ سے ان سب کی فوری شفایابی کیلئے دعا کی۔دریں اثناء حریت(ع) ترجمان نے ایک بار پھر جموںوکشمیر سے فوجی انخلاء اور کالے قوانین منسوخی کا حریت کا اصولی مطالبہ دہرایا۔۔ دریں اثناء پیپلز لیگ (طوطا گروپ) نے پلوامہ میں فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں پر فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ، آج 31دسمبر کو اس واقعہ کیخلاف ہڑتال کی کال کی حمائت کا اعلان کیا ہے۔ موصولہ بیان کے مطابق لیگ کا ایک اجلاس پارٹی سربراہ بشیر احمد طوطا کی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پارٹی کے سینئر لیڈران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں پلوامہ میں پیش آئے واقعہ کی تفصیلات پر غور خوص کیا گیا اور فورسز کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پیپلز لیگ عام شہریوں پر فائرنگ کے اس واقعہ کیخلاف دی گئی ہڑتال کی حمائت کرتی ہے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By